بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بولنا عورت کا عیب نہیں، برداشت کرنا مرد کا امتحان ہے

  جمعہ‬‮ 5 اکتوبر‬‮ 2018  |  15:14

آپ حضرات نے عدلِ فاروقی کے بارے میں تو سنا ھو گا مگر شاید صبرِ فاروقی کے بارے میں نہیں سنا ،، حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے بارے میں عام تأثر یہی ھے کہ آپؓ بہت سخت طبیعت کے مالک تھے ،، مگر حقیقت یہ ھے کہ آپ نہایت رقت آمیز طبیعت کے مالک تھے ، آپ کی سختی اصول پر مبنی ھوتی تھی اور وہ ایک

ایڈمنسٹریٹر کے لئے بہت ضروری بھی تھی ،،،، ایک بدو صبح صبح امیر المومنین عمر ابن الخطابؓ کے گھر اپنی بیوی کی زبان درازی کی شکایت کرنے آیا

،، آپ ایک گھر میں رھتے تھے کوئی 100 کنال کا محل تو تھا نہیں اندر کی بات باھر صاف سنائی دیتی تھی ،، بدو جونہی دروازے کے پاس پہنچا ، اس نے جناب فاروق رضی اللہ عنہ کی بیوی کو بولتےسنا وہ خوب کلاس لے رھی تھی اور آگے سے جناب فاروقؓ کی آواز تک نہیں آ رھی تھی ،، اگر عمر ابن الخطابؓ کا یہ حال ھے جو اتنے سخت ھیں اور امیر المومنین بھی ھیں تو میرا شمار تو کسی شمار میں نہیں ھے ، پھر شکایت کا فائدہ؟ ادھر بدو واپسی کے لئے پلٹا ادھر امیرالمومنین سیچوئیشن کو ٹھنڈا کرنے کے لئے گھر سے باھر نکل آئے ،،

آپؓ نے بدو کو واپس جاتے دیکھا اور اس کی چال ڈھال سے سمجھ لیا کہ یہ مدینے کا باسی نہیں کوئی مسافر ھےآپ نے اس کو آواز دی کہ بھائی کسی کام سے آئے تھے ؟ وہ واپس پلٹا اور کہا کہ امیرالمومنین میں اپنی بیوی کی شکایت لے کر آیا تھا کہ وہ مجھے بہت ڈانٹتی ھے مگر آپ کو بھی اسی مصیبت میں مبتلا دیکھ کر واپس جا رھا تھا کہ جب امیرالمومنین کا خود اپنا یہ حال ھے تو پھر ھمارے لئے بھی صبر کے سوا چارہ نہیں ،،، امیر المومنین عمر فاروقؓ نے اسے نصیحت کی ،فرمایا میرے بھائی اس کی یہ ساری باتیں میں اس کے ان احسانات کے بدلے برداشت کرتا ھوں جو وہ مجھ پر کرتی ھے ،،وہ میرا کھانا تیار کرتی ھے ،

میری روٹی پکاتی ھے ،میرے کپڑے دھوتی ھے ، میری اولاد کو دودھ پلاتی ھے اور میرے دین کی حفاظت کرتی ھے اور مجھے حرام سے بچاتی ھے اور یہ سب اس پر واجب بھی نہیں ھے ، ، اس شخص نے کہا کہ امیر المومنین میری بیوی بھی یہ سب کام کرتی ھے ، آپ نے فرمایا تو پھر اس کو برداشت کرو بھائی ،، فانھا مدۃ یسیرہ ،، یہ تھوڑی سی مدت ھی کی تو بات ھے ،، پھر نہ ھم رھیں گے اور نہ وہ ،،،،،،،،،،،، صدقت یا امیر المومنین ،، بدو نے نے کہا آپ سچ کہتے ھیں امیرالمومنین اور واپس چل پڑا ، اسے عملی سبق مل چکا تھا کہ بولنا عورت کا عیب نہیں ،، برداشت کرنا مرد کا امتحان ھے ،،

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎