بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


عورتیں آزاد ہو گئی ہیں، پچھتانے کا وقت آ گیا ہے

  بدھ‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2018  |  20:21

بچپن سے اس عنوان کے تحت عجیب ہذیانی تحریریں اردو اخبارات و رسائل میں پڑھتے آئے ہیں۔ ‘شیطانوں کی ڈائری’ اور ‘ڈائری آف اے ومپی کڈ ‘ بھی پڑھی۔ اکثر ڈراموں، فلموں اور ناولوں کے پلاٹ میں جہاں کہانی جھول کھا جاتی تھی، وہیں کسی کی ڈائری کسی کے ہاتھ لگ جاتی تھی۔ڈائری کا ہاتھ لگنا ہوتا تھا کہ ساری گتھیاں سلجھ

جاتی تھیں اورسب ٹوٹے ہوئے دل اور بدگمانی کے بوجھ سے رنجور روحیں کھلکھلا اٹھتی تھیں، پھول کھل جاتے تھے اور بادلوں پہ بیٹھے ننھے ننھے معصوم فرشتے اپنے سنہرے مکٹ سنوارتے، بربط بجاتے، فانی

انسانوں کے لافانی انجام کے پاکیزہ نغمے گاتے تھے۔ڈائری کے اس ہفت رنگ استعمال سے مرعوب ہو کے، خود بھی ڈائری لکھی مگر حسرت ہی رہی کہ ڈائری میں لکھی عشقیہ اور ڈیڑھ عشقیہ غزلیں اور نظمیں، اپنی منزلِ مقصود تک پہنچ جائیں۔ خود ہی منہ پھوڑ کے سنائیں اور سننے والا ذرا بھی مرعوب نہ ہوا۔

اس کے بعد ڈائری سے دل ایسا کھٹا ہو اکہ بیس سال پلٹ کے ڈائری کی شکل نہ دیکھی۔سال کی ابتداء میں ادھر ادھر سے جو ڈائریاں اکٹھی بھی ہو جاتی تھیں، ان میں یا تو دھوبی کا حساب لکھا، یا پروڈیوسروں کی کہہ مکرنیاں، تاآنکہ سند رہیں اور بوقتِ ضرورت (کوسنے کے) کام آئیں۔اس سال مگر، ڈائری کا ایک ایسا ورق سامنے آ یا کہ ہا سا ہی نکل گیا۔ یہ ڈائری ایک ایسے ادارے کی ہے کہ پہلے تو یقین ہی نہ آ یا کہ سچ ہے، مگر خبر دینے والا ادارہ بھی کچھ کم مؤقر نہ تھا۔ چنانچہ میں نے اسی اصول کے مدِ نظر جس کے تحت، عورت پہ لگے الزام کو سچ ماننے کے لیے کسی ثبوت کی ضرورت نہیں ہوتی،

اس ورق پہ لکھی تحریر کا ذمہ دار اس ادارے کو تسلیم کرلیا۔یہ بھی پڑھیےتحریر کیا ہے، کوزے میں دریا اور قطرے میں قلزم سمویا گیا ہے۔ عین اسی طرح جب، ناول کی کہانی کا پلاٹ جھول کھا کے ایک طرف جھکا جارہا ہوتا ہے اور کسی کی ڈائری سامنے آ جاتی ہے، اسی طرح معاشرے کے حالات کی الجھے ہوئے پلاٹ کو اس ورق پہ لکھی ایک سطر نے سلجھا دیا۔لکھا ہے: ‘جس قوم نے اپنی عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی وہ کبھی نہ کبھی ضرور اپنی غلطی پہ پشیمان ہوئی’ ۔جہاں تک میرا ناقص علم کام کرتا ہے،

یہ جملہ نہ تو کسی الہامی کتاب کا ہے اور نہ ہی کسی کا قولِ زریں۔ اس جملے کاماخذ کون ہے؟ اس بارے میں راوی خاموش ہے۔ (راوی ایسے معاملوں میں اکثر خاموش ہی رہتے ہیں)۔پہلی بات تو یہ کہ قوم سے مراد، ایک خطے یا نظریے سے تعلق رکھنے والے افراد ہوتے ہیں اور افراد میں عورتیں بھی شامل ہوتی ہیں۔ دوسری بات یہ کہ آزادی کون کس کو دے رہا ہے اس کا تعین کون کرے گا؟ پاکستان میں جمہوریت قائم ہے اور اس حساب سے اکثریت کا فیصلہ مانا جاتا ہے۔ عورتیں آبادی کی اکثریت ہیں۔ خیر سے اقلیت ہماری آ زادی کا تعین کیسے اور کیونکر کر سکتی ہے؟لیکن اس جملے سے ٹپکتی حسرت پہ نظر کیجیے تو اس میں آپ کو ایک گہرا،’ فرائیڈین’ دکھ نظر آئے گا۔

عورت تو آزاد ہی پیدا ہوئی تھی اور آزاد ہی ہے لیکن اسے لونڈی یا کنیز کے روپ میں دیکھنے والے پچھتاتے ہیں اور سوچتے ہیں، وہ زمانے کیا ہوئے جب یہ جنس بازار میں بکتی تھی؟یہ بھی پڑھیےکہانی کا جھول صرف ایک جملے سے دور نہیں ہوا، کئی اور جملے بھی تھے جن میں سے ایک جملہ مزید قابلِ توجہ ہے،’عورت کے ساتھ زندگی بسر کرنامشکل ہے، مگر عورت کے بغیر زندگی گزارنا اوربھی مشکل’۔ اب کی بار ہاسا جو نکلا تو نکلتا ہی چلا گیا۔ یااللہ! یہ کون لوگ ہیں جو اپنے دکھ یوں سرِ عام ڈائریوں کے اوراق پہ لکھتے پھرتے ہیں؟میں تو سمجھا کرتی تھی کہ ہمارے ہاں صرف شعرا کے حواس پہ عورت سوار ہے مگر یہ حکمرانی تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں نظر آتی ہے۔

بظاہر خوش باش، ہنستے کھیلتے پاکستانی مردوں کے دلوں کے پھپھولے جو پھوٹے تو ڈائری کے ان اوراقِ پریشاں پہ آکے پھوٹے۔ تاڑنے والے اس علامتی کہانی کے سب جھول، بنت کی درزیں اور کونے بھانپ گئے۔ان آدھے ادھورے، سسکتے ہوئے جملوں کے جواب میں امرتا پریتم کا صرف ایک جملہ ہی کافی ہے: ‘ہمارے ہاں مرد نے ابھی عورت کے ساتھ صرف سونا ہی سیکھا ہے جاگنا نہیں۔’ جاگیے! عورتیں آزاد ہو گئی ہیں، پچھتانے کا وقت آ گیا ہے!جس قوم نے عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی وہ کبھی نہ کبھی ضرور اپنی غلطی پر پشیمان ہوئی‘

’جس قوم نے عورتوں کو ضرورت سے زیادہ آزادی دی وہ کبھی نہ کبھی ضرور اپنی غلطی پر پشیمان ہوئی۔‘یہ ان چند سطروں میں سے ایک ہے جو پاکستان کے صوبہ پنجاب کے وکلا کے نمائندہ ادارے پنجاب بار کونسل کی طرف سے سالانہ شائع کی جانے والی سنہ 2018 کی ڈائری میں درج پائی گئی ہیں۔خواتین سے متعلق ان اقوال کی تصاویر حال ہی میں سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر سامنے آئیں۔ ٹوئٹر پر اس حوالے سے کی جانے والی بحث میں زیادہ تر لوگ ان اقوال کو ’صنفی امتیاز‘ قرار دے رہے ہیں جس پر پنجاب بار کونسل کو تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔آئینی معاملات کے ماہر وکیل حسن نیازی نے مذکورہ قول کی تصویر ٹویٹ کرنے کے ساتھ لکھا:

’یہ پنجاب بار کونسل کی ڈائری میں سے ہے اور یہ اس صنفی امتیاز اور عورت کے خلاف منافرت کو ظاہر کرتا ہے جس کا پاکستان میں خواتین وکلا کو سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘انھوں نے مطالبہ کیا کہ ’ایسے تمام اقوال کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔‘ان ہی کے ٹویٹ کو مزید کئی افراد نے آگے بڑھاتے ہوئے پنجاب بار کونسل کو مزید تنقید کا نشانہ بنایا۔ خواتین کے حقوق کے کئی اداروں کی جانب سے بھی پنجاب بار کونسل کو اس حوالے سے خط لکھے گئے ہیں۔

پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف ویمن کی چیئرپرسن فوزیہ وقار نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس قول کے شائع کرنے سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ ’قوم صرف مرد ہیں اور عورت کو آزادی دینے کا حق صرف مردوں کا ہے، اور کتنی آزادی دینی ہے اس کا تعین بھی وہی کریں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ ’ہماری وکلا برادری نے برابری کے بنیادی انسانی حق کے بارے میں نہیں سوچا۔‘فوزیہ وقار کا کہنا تھا کہ پنجاب کمیشن آن دی سٹیٹس آف وومن اس حوالے سے پنجاب بار کونسل کو ایک خط بھی لکھ رہا ہے جس میں ان سے وضاحت طلب کی جائے گی۔بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پنجاب بار کونسل کی ایگزیکٹیو کمیٹی کی چیئرپرسن بشریٰ قمر کا کہنا تھا کہ معاملہ ان کے علم میں لایا گیا ہے۔

انھیں اس حوالے سے ای میل بھی موصول ہوئی ہیں، جس پر انھوں نے اقدامات بھی کیے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک ’کلیریکل غلطی ہو سکتی ہے اور ان کا ادارہ دانستہ ایسا نہیں کر سکتا۔‘’ہم نے فوری طور پر اس قول کو اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے اور ہماری اشاعت کی پروف ریڈنگ کے ذمہ دار شخص کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس بھی جاری کر دیا گیا ہے۔‘تاہم ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بار کونسل کے خلاف منفی پراپیگینڈا کیا گیا ہے۔ ’نہ تو دانستاٌ ہم ایسی کوئی چیز چھاپ سکتے ہیں، اور نہ ہم نے چھاپی ہے۔‘

اپنے عہدے کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پنجاب بار کونسل ایک ایسا ادارہ ہے جس نے ایک مدت میں دو خواتین کو بڑے عہدوں پر نمائندگی دی جن میں چیئرپرسن اور نائب چیئرپرسن شامل ہیں۔’تو پنجاب بار کونسل نہ تو ایسا سوچ سکتی ہے، نہ ہی ایسا کوئی بیان دے سکتی ہے اور نہ ہی اس کا ایسا کوئی نظریہ ہے۔‘ تاہم لاہور میں کام کرنے والی خواتین وکلا سمجھتی ہیں کہ ایسے اقوال واضح طور پر امتیازی ہیں۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے ہائی کورٹ کی وکیل ربیعہ باجوہ کا کہنا تھا کہ ایک نمائندہ ادارہ ہونے کے ناطے پنجاب بار کونسل کو ذمہ داری سے بری نہیں کیا جا سکتا۔’ہم یہ کہتے ہیں کہ وکالت کے پیشے میں سب برابر ہیں، کوئی مرد یا عورت نہیں ہے۔

مگر یہ قول ظاہر کرتا ہے کہ حقیقتاٌ ایسا نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ ایسی چیزیں امتیازی ہوتی ہیں اور وہ یہ توقع نہیں کر رہی تھیں کہ ان کے نمائندہ ادارے کی جانب سے یہ سامنے آئیں گی۔پنجاب بار کونسل میں ایک پانچ رکنی پبلیکیشن کمیٹی ہے جو ادارے کی اشاعت کے معاملات کی ذمہ دار ہے۔ ڈائری میں سامنے آنے والا یہ محض ایک ہی قول نہیں، خواتین کے حوالے سے مزید اقوال بھی مختلف صفحات پر پائے گئے ہیں۔ٹوئٹر استعمال کرنے والے ایک صارف حیدر امتیاز نے ڈائری کے دسمبر کے مہینے سے ایک صفحہ لگایا جس پر یہ قول درج تھا کہ ’عورت کے ساتھ زندگی بسر کرنا مشکل ہے

مگر عورت کے بغیر زندگی بسر کرنا اور بھی مشکل ہے۔‘ایک اور صارف ندا عثمان چوہدری نے سنہ 2018 جنوری کے ایک صفحے کی تصویر لگائی جس پر درج ہے کہ ’ماں کو بچے سے محبت ہے اور جس ماں کا کوئی بچہ نہیں اسے بھی اپنے بچے سے محبت ہے۔‘ایک اور صارف بینظیر جتوئی نے لکھا کہ ’یہ قابلِ قبول نہیں اور میں امید کرتی ہوں کہ پنجاب بار کونسل اس کا نوٹس لے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا ہوا کیسے، یہ وہ حقیقت ہے جس کا سامنا خواتین وکلا عدالتوں میں روزانہ کی بنیاد پر کرتی ہیں۔‘خیال رہے کہ جہاں زیادہ تر صارفین نے اس کو تنقید کا نشانہ بنایا وہیں کچھ آوازیں وہ بھی تھیں جنھوں نے ایسے اقوال کی حمایت کی ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎