بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


آئی جی پنجاب محمد طاہر نے وزیراعظم عمران خان کے کس حکم پر عملدرآمد سے انکار کیا تھا جس کے بعد ان کا تبادلہ کر دیا گیا؟ حیرت انگیز وجہ سامنے آ گئی

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  12:11

اسلام آباد  سابق آئی جی اسلام آباد پولیس طاہر عالم خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئی جی پنجاب محمد طاہر کو اس لیے تبدیل کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افسران کو برطرف کرنے کے بجائے ان کے تبادلے کرکے دوسرے عہدوں پر تعینات کردیا تھا۔ سابق آئی جی اسلام

آباد پولیس طاہر عالم خان نے کہا کہ آئی جی پنجاب محمد طاہر تقرری اور تبادلوں میں ناصر درانی سے مشاورت کیا کرتے تھے لیکن وزیراعلیٰ کو ارکان اسمبلی کی طرف سے

پولیس کے خلاف مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔ انہوں نے حکومت اور آئی جی کے درمیان اختلاف کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم چاہتے تھے کہ جو افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تھے انہیں عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے مگر آئی جی محمد طاہر نے ایکشن لینے کی بجائے ان کا تبادلہ کرکے دوسری جگہوں پر تعینات کر دیا۔ دوسری جانب اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے آئی جی پنجاب کے تبادلے کا نوٹیفکیشن معطل کرنے کے احکامات واپس لینے کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھ دیا۔

گزشتہ روز وفاقی حکومت نے آئی جی پنجاب طاہر خان کو اچانک عہدے سے ہٹاکر ان کی جگہ سابق آئی جی سندھ امجد جاوید سلیمی کو تعینات کیا جس کے چند گھنٹے بعد ہی الیکشن کمیشن نے آئی جی پنجاب کی تعیناتی کا حکومتی نوٹی فکیشن معطل کردیا۔نجی ٹی وی کے مطابق اسٹیبلشمنٹ ڈویڑن نے آئی جی پنجاب کے تبادلے پر حکومتی نوٹی فکیشن معطل کرنے کے احکامات واپس لینے کیلئے الیکشن کمیشن کو خط لکھا ہے۔خط میں کہا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کا 3 ستمبر کا حکم صوبے کے پولیس چیف کو تبدیل کرنے میں رکاوٹ نہیں،

ضمنی الیکشن کے اضلاع میں تقرر و تبادلے سے الیکشن کمیشن نے منع کیا تھا جبکہ آئی جی پنجاب کا تبادلہ صوبے کی مشاورت سے طریقہ کار کے مطابق کیا گیا۔واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے ضمنی الیکشن کے دوران آئی جی پنجاب کے تبادلے کو احکامات کی خلاف ورزی قرار دیا گیا جبکہ حکومت نے اسے درست اقدام قرار دیتے ہوئے مؤقف اپنایا کہ آئی جی پنجاب کو حکومتی ٹاسک پورا نہ کرنے پر ہٹایا گیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎