بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


طاہرالقادری نے پولیس اور آئی جی کے بارے میں کیا کہا کہ پی ٹی آئی حکومت کو انہیں تبدیل کرنا پڑ گیا، تہلکہ خیز انکشافات

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  12:17

اسلام آباد وزیراعظم کے معاون خصوصی افتخار درانی نے آئی جی پنجاب محمد طاہر کے ہٹائے جانے کے حوالے سے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں انکشافات کیے ہیں، انہوں نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کے پی کے میں پولیس کو غیر سیاسی بنایا، اس کے علاوہ انہوں نے کہا کہ طاہر القادری نے کہا کہ ماڈل ٹاؤن میں نامزد

لوگ حاضر سروس ہیں، انہوں نے انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ طاہرالقادری نے ماڈل ٹاؤن سانحہ کے ذمہ داروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا، طاہر القادری نے کہا کہ نامزد افسران کو

معطل نہ کیا گیا تو تحقیقات پر اثرانداز ہوں گے، افتخار درانی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے پر آئی جی پنجاب طاہر خان حیل و حجت سے کام لیتے رہے، جو ان کے ہٹائے جانے کا باعث بنا، دوسری جانب سابق آئی جی اسلام آباد پولیس طاہر عالم خان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ

آئی جی پنجاب محمد طاہر کو اس لیے تبدیل کیا گیا ہے کیونکہ انہوں نے سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث افسران کو برطرف کرنے کے بجائے ان کے تبادلے کرکے دوسرے عہدوں پر تعینات کردیا تھا۔ سابق آئی جی اسلام آباد پولیس طاہر عالم خان نے کہا کہ آئی جی پنجاب محمد طاہر تقرری اور تبادلوں میں ناصر درانی سے مشاورت کیا کرتے تھے لیکن وزیراعلیٰ کو ارکان اسمبلی کی طرف سے پولیس کے خلاف مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں۔

انہوں نے حکومت اور آئی جی کے درمیان اختلاف کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم چاہتے تھے کہ جو افسران سانحہ ماڈل ٹاؤن میں ملوث تھے انہیں عہدوں سے ہٹا کر ان کے خلاف کارروائی کی جائے مگر آئی جی محمد طاہر نے ایکشن لینے کی بجائے ان کا تبادلہ کرکے دوسری جگہوں پر تعینات کر دیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎