بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ہر وزیراعظم ملکی معیشت کی خرابی کا ذمہ دار پہلے وزیراعظم کو قرار دیتا ہے پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان نے کس پر الزام لگایا ہو گا؟ معروف صحافی نے ایسی بات کہہ دی کہ جان کر آپ بھی دنگ رہ جائینگے

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  14:55

اسلام آباد معروف کالم نگار بلال غوری اپنے کالم میں ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ہمارے ہاں جب بھی کوئی نئی حکومت آتی ہے تو خودداری اور خود انحصاری کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ہوئے کشکول توڑنے کو اپنا فرض منصبی سمجھا جاتا ہے۔ سادہ لوح عوام فرط جذبات سے زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔ ان نعروں کی گرد بیٹھتے ہی نئی حقیقت منکشف ہوتی ہے

تو لوگ نیا کشکول دیکھ کر ٹھٹھک جاتے ہیں۔ انہیں معلوم ہوتا ہے کہ کشکول توڑنے کا مقصد بھیک مانگنے کی روش ترک کرنا ہرگز نہیں تھا بلکہ بڑھتی ہوئی

معاشی ضروریات کے تحت پرانا کشکول چھوٹا پڑ گیا تھا اس لئے اسے توڑ کر نیا کشکول تیار کیا گیا ہے۔ اگلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ نوزائیدہ حکومت تمام تر خرابیوں اور برائیوں کا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال دیتی ہے اور قوم کو نہایت درد مندی سے بتایا جاتا ہے کہ قومی خزانہ خالی ہے۔

ٹرک ڈرائیوروں کی طرح ملک کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے والے بھی سب سے پہلے یہ جملہ تحریر کرواتے ہیں ’’چور دے پترا ٹول باکس خالی اے‘‘ پیپلز پارٹی کی حکومت پانچ سال یہ بتاتی رہی کہ وہ پرویز مشرف کا ڈالا ہوا گند صاف کر رہی ہے، مسلم لیگ (ن) کی حکومت یہ باور کرواتی رہی کہ پیپلز پارٹی کی غلطیوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے اور اب تحریک انصاف کی حکومت بھینسیں بیچ کر ملک چلانے کی کوشش کر رہی ہے۔

گاہے خیال آتا ہے کہ جب لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیراعظم بنے تو انہوں نے ملک کو درپیش صورتحال کا ذمہ دار کسے قرار دیا ہو گا؟ ان سے پہلے تو پاکستان کا وجود ہی نہ تھا، عین ممکن ہے وہ لارڈ مائونٹ بیٹن اور برطانوی استعمار کو برا بھلا کہہ کر وقت گزار لیتے ہوں۔ بہرحال یہ ہمارا قومی طریقہ واردات تو تھا ہی مگر ہمارے ہر دلعزیز کپتان نے اس واردات کا بھی ایک ایسا نیا انداز متعارف کروایا ہے جس پر سب عش عش کر اٹھے ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎