بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


’’یہ ہوتے ہیں بڑے لوگ ‘‘ سب سے بڑے اسلامی ملک انڈونیشیا کے صدر ملٹری پریڈ میں جا رہے تھے کہ آدھا گھنٹہ ٹریفک جام ہو گیا تو انہوںنے کیا کام

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  17:29

پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کے حکمرانوں کے پروٹول کیلئے آئے روز ٹریفک کو جام کر دیا جاتا ہے تا کہ وی وی آئی پی قافلہ آسانی اور آرام کے ساتھ اپنی منزل پر پہنچ سکے، خواہ عوام کو اس کا خمیازہ کئی گھنٹوں کے طویل انتظار کی صورت میں ہی کیوں نہ بھگتنا پڑے۔ پاکستان کی مثال کو ذہن میں رکھتے ہوئے آپ کو اگر یہ پتہ چلے کہ دنیا میں ایسے بھی حکمران موجود ہیں جو اپنی عوام کو پریشان کرنے کی بجائے ان کے ساتھ ہی سفر کرتے ہیں۔ ان

کے پروٹوکول کیلئے نہ

تو ٹریفک بلاک کی جاتی اور نہ ہی بادشاہ سلامت کی سواری والی صورتحال ہوتی ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق انڈونیشیا کے صدر کو حال ہی میں ایک ملٹری پریڈ میں شرکت کیلئے جانا پڑا جو دارالحکومت جکارتہسے ڈھائی گھنٹے کی مسافت پر سلیگون شہر میں منعقد کی گئی تھی۔ انڈونیشین صدر اپنے وزرا اور دیگر رفقا کے ساتھ منزل مقصود پر جانے کیلئے نکلے تو انھیں راستے میں بد ترین ٹریفک جام کا سامنا کرنا پڑا۔ صدرِ مملکت تقریباً آدھا گھنٹہ اپنی گاڑی میں بیٹھے ٹریفک کی روانی کا انتظار کرتے رہے لیکن ایسا نہ ہوا تو انہوں نے اپنے ساتھیوں کو ساتھ لیا اور پیدل ہی چل پڑے۔ اس موقع کی تصاویر جیسے ہی سوشل میڈیا پر جاری ہوئیں تو صارفین نے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا۔

کچھ نے اسے خوش آئند قرار دیا تو کچھ نے سوال اٹھایا کہ آخر اتنی بڑی اکانومی کے حامل ملک کے صدر کو ہیلی کاپٹر کیوں فراہم نہیں کیا گیا؟ اور انھیں اتنی دور چلنے کی نوبت کیوں پیش آئی۔فرد واحد کیا کر سکتا ہے؟ ایک بات پلے باندھ لیںکہ وہی زندگی کے سب سے گہرے لطف کا تجربہ حاصل کرتے ہیں اور انسانیت کی تکمیل تک جاتے ہیں جو اپنا کام خلوص نیت اور بے لوث ہو کر کرتے ہیں۔ بلاشبہ یہ لوگ کامیاب ترین ہوتے ہیں۔یہ ہم سب کے لیے ممکن ہے کہ ہم بے لوث ہو کر کام کریں۔ کسی دوست کے کام آ کر یا کسی نوجوان کی رہنمائی کر کے، کسی مشکل پراجیکٹ میں اپنے کسی رفیق کار سے تعاون کرکے یا کسی بزرگ کو سیڑھیاں چڑھنے میں مدد دے کر۔ ان تجربات سےہوئے ہم لمحہ بھر کو بہت خوشی اور طمانیت محسوس کرتے ہیں۔

تب ہمیں اپنی اہمیت کی ہلکی جھلک دکھائی دیتی ہے اور ہمارے اندر وہ تحریک پیدا ہوتی ہے یا ایک مثاثر کن سا احساس ان لوگوں کے بارے میں پیدا ہوتا ہے جنہوں نے خود کو دوسروں کے لیے وقف کر رکھا ہے۔آپ کو یہاں دعوت دی جا رہی ہے کہ آپ ہمیشہ کے لیے دوسروں کو ’’دینے والے‘‘، شیئر کرنے والے بن جائیں۔ ایسا کرنے والے وہ لوگ ہیں جو اپنی زندگی کو بہتر طور پر بسر کرنے کی راہیں تلاش کرتے ہیں۔ یہ لوگ دوسروں کی خوشی کو اپنی سمجھتے ہیں اور بڑی نیکی ان کے لیے فرض کا درجہ رکھتی ہے اور وہ اس کی تشہیر سے بدکتے ہیں۔ کسی بھی قوم کا ضمیر اس وقت جاگتا ہے جب اسے کسی ایک شخص کے بلند حوصلہ مگر سادہ اعمال کے ذریعے سے آواز پڑتی ہے۔آج ہر قومی اور عالمی مسئلہ کسی نہ کسی انسانی رویے کی پیداوار ہے۔

تاہم اچھی خبر یہ ہے کہ اگر ہم مسئلہ ہیں تو ہم حل بھی ہیں۔ یہ ایسے کام ہیں جو ہم ہر جگہ سے، اپنے دفاتر، بستیوں اور علاقوں سے شروع کر سکتے ہیں۔ ہم اس طرح مثبت اور مخصوص نتائج کی ایک زنجیر بنا سکتے ہیں۔ ہمارے تصورات اور خواب ہر چیز پر اثرانداز ہونے کی طاقت رکھتے ہیں اور یہ طاقت آپ کے اندر موجود ہے۔ تو آپ نے کیا سوچا ہے؟ تاریخ عالم میں ایسے لوگ کم کم ملتے ہیں جن کے پاس وہ قوت تھی کہ انہوں نے ہماری زندگی کو بدل ڈالا۔آج ہمیں جو کچھ پہلے کی نسبت بدلا بدلا نظر آ رہا ہے، یہ سب ان لوگوں کے کارناموں کی وجہ سے ممکن ہوا ہے۔ یہ لوگ بلاشبہ ہیرو تھے۔ آپ نے کن کو ہیرو سمجھ رکھا ہے؟ ہمارے اردگرد کئی ایسے لوگ بستے ہیں جن میں ہیرو بننے کی زبردست صلاحیت پائی جاتی ہے۔

ان میں دوسروں کے لیے کام کرنے اور جرأت مندانہ اقدام اٹھانے کی ہمت ہوتی ہے اور وہ اس کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔یہ آپ کے بس میں ہے کہ آپ صحیح قدم اٹھائیں اور زیادتی کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔جب ایسا لمحہ آئے تو یاد رکھیں کہ آپ ہیرو بن سکتے ہیں اور آپ کی ضرورت ہے کوئی چھوٹی سی دشواری یا وہ آزمائش جس سے آپ کی کردار سازی ہو سکتی ہے۔ دراصل آزمائش ہی آپ کی کردار سازی کرتی ہے۔ بہت سے لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ مدرٹریسا ’’ہیرو‘‘ بننے کے لیے پیدا ہوئی تھیں۔ ایک شام ایک غریب سے علاقے سے گزرتے ہوئے انہوں نے ایک عورت کی چیخ و پکار سنی۔ وہ اس کی مدد کے لیے دوڑیں۔وہ رات مدرٹریسا نے اس عورت کی دیکھ بھال میں گزاری۔

وہ اسے لے کر کئی ہسپتالوں میں گئیں مگر کسی نے بھی اسے داخل نہیں کیا۔ یہ عورت ان کے بازوؤں میں مر گئی تھی۔ اسی لمحے مدرٹریسا کی زندگی بدل گئی۔ انہوں نے تہیہ کر لیا تھا کہ وہ عمر بھر انسانیت کی خدمت کریں گی اور جو بھی ان کی پہنچ میں ہو گا وہ محبت اور احترام کے بغیر نہیں مرے گا۔ سوچیں کہ کیا ایسا لمحہ آپ کی زندگی میں بھی آیا تھا؟ آپ ہیرو کی کیا تعریف کرتے ہیں؟ ہیرو وہ شخص ہے جو کڑے اور مشکل وقت میں ہمت نہ ہارے اور اپنا کردار ادا کرے۔وہ لوگوں کے کام آئے اور انہیں مصیبتوں سے بچائے، اس وقت جب باقی بھاگ اٹھیں۔

ہیرو ایسا فرد ہے جو بے لوث اور بے خوف ہو کر کام کرتا ہے اور ہر خطرے سے نفع نقصان کی پروا کیے بغیر ٹکرا جاتا ہے کیونکہ اسے یقین ہوتا ہے کہ وہ درست ہے، صحیح راستے پر ہے۔ تاہم یاد رکھیں کہ ہیرو وہ انسان نہیں ہوتا جسے ہم مکمل یا پرفیکٹ کہہ سکیں۔ ایسا اگر ہو تو کوئی ہیرو نہ بن سکے۔ دنیا میں کوئی انسان مکمل نہیں ہوتا۔ ہم سب سے غلطیاں سرزد ہوتی ہیں لیکن یہ ایسی نہیں ہوتیں کہ ہماری باقی کی خوبیوں اور اچھائیوں پر پانی پھیر دیں۔ اصل نکتہ یہ ہے کہ ہیروازم بے عیب ہونا نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کرنا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎