بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


نائی نائی ہوتا ہے اوروزیروزیر ہوتا ہے

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  18:03

کبیر بادشاہ کا عزیز ترین حجام تھا, یہ روزانہ بادشاہ کے پاس حاضر ہوتاتھا اور دو تین گھنٹے اس کے ساتھ رہتاتھا‘ اس دوران بادشاہ سلطنت کے امور بھی سرانجام دیتا رہتا اور حجامت اور شیو بھی کرواتا رہتا تھا۔ ایک دن کبیر نائی نے بادشاہ سے عرض کیا ”حضور میں وزیر کے مقابلے میں آپ کے زیادہ قریب ہوں, میں آپ کا وفادار بھی ہوں,

آپ اس کی جگہ مجھے وزیر کیوں نہیں بنا دیتے. بادشاہ مسکرایا اور اس سے کہا, میں تمہیں وزیر بنانے کیلئے تیار ہوں لیکن تمہیں اس سے پہلے امتحان دینا ہوگا,

پہلے امتحان دینا ہوگا, کبیرنائی نے سینے پر ہاتھ باندھ کر کہا, بادشاہ سلامت آپ حکم کیجئے, بادشاہ بولا بندرگاہ پر ایک بحری جہاز آیا ہے مجھے اس کے بارے میں معلومات لا کر دو نائی بھاگ کر بندرگاہ پر گیا اور واپس آ کر بولا جی جہاز وہاں کھڑا ہے بادشاہ نے پوچھا یہ جہاز کب آیا, نائی دوبارہ سمندر کی طرف بھاگا, واپس آیا اور بتایا, دو دن پہلے آیا, بادشاہ نے کہا, یہ بتاؤ یہ جہاز کہاں سے آیا,

نائی تیسری بار سمندر کی طرف بھاگا, واپس آیا تو بادشاہ نے پوچھا, جہاز پر کیا لدا ہے, نائی چوتھی بار سمندر کی طرف بھاگ کھڑا ہوا۔ قصہ مختصر نائی شام تک سمندر اور محل کے چکر لگا لگا کر تھک گیا, اس کے بعد بادشاہ نے وزیر کو بلوایا اور اس سے پوچھا, کیا سمندر پر کوئی جہاز کھڑا ہےوزیر نے ہاتھ باندھ کر عرض کیا بادشاہ سلامت دو دن پہلے ایک تجارتی جہاز مصر سے ہماری بندرگارہ پر آیاتھا اس میں جانور خوراک اور کپڑا لدا ہے اس کے کپتان کا نام شہرام ہے‘

یہ چھ ماہ میں یہاں پہنچا ہے یہ چار دن مزید یہاں ٹھہرے گا, یہاں سے ایران جائے گا اور وہاں ایک ماہ رکے گا اور اس میں دو سو نو لوگ سوار ہیں اور میرا مشورہ ہے ہمیں بحری جہازوں پر ٹیکس بڑھا دینا چاہئےبادشاہ نے یہ سن کر کبیر حجام کی طرف دیکھا اور اس سے پوچھا, کیا تمہیں حجام اور وزیر کا فرق معلوم ہوا, حجام نے چپ چاپ استرااٹھایا اور عرض کیا, جناب نائی نائی ہوتا ہے اور وزیر وزیر ہوتا ہے۔

ہمارے کچھ کرپٹ اور نہل لوگ کو مسلسل ایک سوال ستارہا ہے کہ آخر جیسا بھی ہے یہ ملک اپنی پوری آب وتاب کے ساتھ کیسے پہلتا پہولتا جارہا ہے جبکہ اس ملک کو تبہ کرنے والوں نے کوئی کسر نہیں اٹھا رکھی اور اس پر کچھ پوائنٹ بھی بتائے تھے لیکن آج میں اسی موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے یہ بات بتانے کی کوشش کروں گا کہ آخر ہمارا یہ ملک کس وجہ سے دشمنوں کی ناپاک نظروںآفت و بلیات سے بچہوا ہے اور کس طرح کڑوڑوں لوگوں کو اپنے دامن میں سمیٹ کر ان کو آزاد فضاؤں میں سانس لینے کا موقع فرہم کررہا ہے . سب سے پہلے تو آپ یہ دیکھئیے کہ اس کرہ ارض میں کتنے ممالک ہیں جو اپنے اپنے وقت پر آزادی جیسی نعمت سے سرشار ہوکر اپنے دیس کی آزاد فضاؤں میں سانس لیتے ہوئے نظر آتے ہیں

لیکن ہماری خوش قسمتی ہے کہ وہ مہینہ جسے باری تعالی نے خاص اپنا مہینہ کہا اور وہ ہے رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ جس میں یہ خوبصورت ملک پاکستان ہمیں عطا کیا جس طرح اس مبارک مہینہ میں اتاری گئی کتاب قران مجید قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئیے مشعل رہ ہے اور جب بھی کہیں کسی نے اس کی بے حرمتی کرنے کیکوشش کی یا اس کے معنی بدلنے کی جرأت کی تو قدرت والے نے اس کا انجام اس کو اس دنیا میں ہی دکھا دیا اور قیامت تک اس کتاب کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھا سکتا بالکل اسی طرح اس مبارک مہینہ میں آزاد ہونے والا یہ ہمارا ملک پاکستان بھی قیامت تک اسی شان شوکت سے پہلتا پہولتا رہے گا اور اس بابرکت مہینے کے صدقے اس کی طرف کوئی میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت بھی نہیں کرسکتا

اور کر بھی کیسے سکتا ہے پاکستان کی حفاظت کے لئیے کسی بھی طاقتور ایجنسیز کی ضرورت نہیں ہے بلکہ میرے رب نے اس کی حفاظت کے لئیے اپنے اولیأء کرام کو ملک کے گوشے گوشے میں پہیلا دیا ہے جو نہ صرف مخلوقخدا کی خدمت میں مصروف عمل ہیں بلکہ آنے والی ہر مصیبت کو ٹالنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ابھی پچھلے دنوں رمضان المبارک کے پہلے ہفتے میں محکمہ موسمیات کی طرف سے ایک طوفان کی اطلاع آئی تھی جو تیزی کے ساتھ کراچی کے سمندر سے گزرنے والا تھا لیکن وہ طوفان سمندر تک پہنچنے سے پہلے ہی اپنا رخ بدل گیا اور عمان کے شہر میں داخل ہوکر وہاں تبہی مچادی ایسا کیوں ہوا ایسے کئی طوفان پہلے بھی آئے اور چلے گئے

محکمہ موسمیات اس کی کوئی بھی وجہ بتائے لیکن حقیقت یہ ہی ہے کہ یہ ان اللہ والوں کی وجہ سے آنے والے بڑے بڑے طوفان ٹل جاتے ہیں اور یہ ہی وجہ ہے کہ اس ملک کو چلانے کی طاقت نہ کسی حکمران میں تھی نہ ہے اور نہ آئندہ کسی کی ہوگی یہ صرف اور صرف اس رب کی طرف سےعطا کی ہوئی اس طاقت اور ہمت کی بدولت ہے جو اس نے اپنے ولیوں , بزرگان دین اور اس کے فرمان پر چلنے والے اپنے پیاروں کو عطا کرتا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو اس رب کی مرضی سے اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں کہیں عبداللہ شہ غازی کے نام سے تو کہیں دولہا سبزواری کے نام سے کہیں سخی عبدالوہاب شہ جیلانی کے نام سے تو کہیں بابا عبدالغنی کے نام سے کہیں بابا صلاح الدین کے نام سے تو کہیں داتا گنج بخش ہجویری کے نام سے کہیں بہاؤالدین ذکریا ملتانی کے نام سے تو کہیں بابا بلہے شہ کے نام سے گویا اگر میں اسی طرح نام لیتا رہوں تو شاید سیہی ختم ہوجائے

مگر ان بزرگان دین کے نام جو ملک کے کونے کونے میں موجود ہیں کبھی ختم نہ ہوں گے .جب بھی اس ملک میں کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوا یا کوئی حادثہ پیش آیا توخون میں لت پت زخمیوں اور بے جان لاشوں کو اٹھا کر ہسپتال منتقل کرنے والا صرف ایک ہی شخص نظر آتا تھا اور وہ تھا عبدالستار ایدھی وہ لاشیں جن کے اعضاء جسم سے الگ ہوجاتے تھے اور ان کے اپنے بھی ان کو ہاتھ لگانے میں ہچکچہٹ محسوس کرتے تھے تو ان لاشوں کو بھی ایدھی صاحب ہی اٹھاکر لاتےتھے ایدھی اس شخصیت کا نام ہے جس کے دل میں انسانیت کے لئیے درد تھا اور وہ اپنے کام کو سرانجام دینے کے لئیے بوقت ضرورت سڑکوں پر بھیک مانگنے کھڑے ہوجاتے تھے اب ان کے اس مشن کو ان کے صاحب زادے لیکر اپنی کوششوں میں مصروف عمل نظر آتے ہیں اس ملک میں عبدالستار ایدھی , رمضان چھیپا , انصار برنی اور ایسی انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں مخلوق خدا کی خدمت میں مصروف عمل ہیں ایسے لوگوں کی وجہ سے ہی یہ ملک چل رہا ہے اور چلتا رہے گا .

جس اللہ تبارک وتعالی نے اپنے پچھلے نبیوں کی امتیوں کو ان کے کسی نہ کسی عیب کی وجہ سے ان پر عذاب نازل کیا تو ان تمام امتیوں کے اندر موجود وہ سارے عیب ہم لوگوں میں موجود ہیں لیکن اس رب کائنات کا ہم پر کڑوڑہا کڑوڑ احسان ہے کہ اس نے ہمیں پچھلی کسی نبی کی امتی میں پیدا نہیں فرمایا بلکہ ہمیں اپنے پیارے حبیب سرکار مدینہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کا شرف بخشا اور اسی وجہ سے ہم پر اس کی نظر کرم کچھ خاص ہے ورنہ ہمار ےاعمال اور ہمارے حکمرانوں کے کرتوت تو ایسے ہیں کہ ہم پر عذاب الہی آنا کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن اس رب کی رحمت اور محبت کا ہم جتنا شکرادا کریں اتنا کم ہے اور وہ جس طرح ہمارے اس ملک پاکستان کو دشمنوں کی میلی نظروں سے بچائے ہوئے ہے اور یہاں کے کرپٹ اور بددیانت لوگوں کی اس ملک کو ختم کرنے کی سازش کو ناکام بنائے ہوئے ہے اور ان کے کسی بھی وار کوکامیاب نہیں ہونے دیتا

تو ہمیں بھی اس کے فرمان کے عین مطابق اپنی زندگی کو ڈھالنا ہوگا پاکستان کے بننے سے لیکر آج تک اس ملک کو کوئی ایسا حکمران نہیں ملا جو اس ملک کی ترقی اور اس کو آگے لیجانے میں سنجیدہ نظر آیا ہو اس بات میں کوئی شک نہیں کہ یہ ملک انشأاللہ تاقیامت اسی طرح پہلتا پہولتا رہے گا لیکن ہمیں ملکر اس کو ایک حقیقی فلاحی اور اسلامی مملکت بنانا ہوگا اور کوشش کرکے کسی ایسے شخص کو سامنے لانا ہوگا جس کا ماضی کرپشن سے پاک ہو مخلوق خدا کی صحیح معنوں میں خدمت کا جذبہ ہو کرسی اور مال و دولت کی جس کو حوس نہ ہو اور جو اس ملک کو مکمل طور پر ایک اسلامی ریاست بنانے میں اپنا کردار ادا کرے ہمیں ناامید نہیں ہونا چہئے بلکہ اس باری تعالی سے ہر وقت یہ دعا کرنی چہئے کہ ہمیں آج نہیں تو کل ایسا حکمران عطا کر اور وہ رب جو اپنے بندے سے 70 ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے وہ کسی نہ کسی کی دعا ضرور قبول کرے گا .حضرت اقبال نے فرمایا ملت کے ساتھ راستہ استوار رکھ پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎