بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


صحافی کی گمشدگی پر ترک سعودی تعلقات میں تناؤ کا خدشہ

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  21:07

سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے صحافی جمال خاشقجی کے استنبول سے لاپتہ ہونے کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے تعلقات میں تناؤ کا خدشہ پیدا ہوگیا۔ترک حکومت نے اس معاملے پر استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ طلب کیا۔فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی

کی رپورٹ کے مطابق ترک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ سعودی سفیر کی وزارت خارجہ آمد پر ترکی کے ڈپٹی وزیر خارجہ یاوز سلیم کرن نے سعودی سفیر کا استقبال کیا تھا۔ترک وزارت خارجہ سے ملاقات میں چند لمحوں

کی خاموشی کے بعد سعودی عرب کے سفیر کا کہنا تھا کہ سعودی سفارتخانہ ترک حکام کے ساتھ تعاون کررہا ہے تاکہ قونصل خانے سے باہر جانے کے بعد جمال کی گمشدگی سے متعلق معلوم کیا جاسکے۔

‘سعودی سفیر کا کہنا تھا کہ انہیں جمال خاشقجی کی گمشدگی سے متعلق کوئی معلومات نہیں،انہیں جیسے ہی کوئی سراغ ملا وہ ترک حکام کا اطلاع دیں گے۔ادھر اے پی کی رپورٹ کے مطابق استنبول میں واقع سعودی سفارت خانے کا کہنا تھا خاشقجی سفارت خانے سے جانے کے بعد لاپتہ ہوئے۔دوسری جانب ترک حکام کا مؤقف ہے کہ ہمیں جو اطلاعات موصول ہوئی ہیں ان کے مطابق جمال سعودی سفارتخانے کے اندر موجود ہیں۔سعودی سفیر اور ترک حکام کے یکسر مختلف بیانات کی وجہ سے سعودی صحافی کی گمشدگی کا معمہ حل ہونے کے بجائے مزید پیچیدہ ہوگیا ہے

 جبکہ سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ مذکورہ واقعے کے بعد ترکی اور سعودی عرب کے سفارتی تعلقات تناؤ کا شکار ہوسکتے ہیں۔امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی سعودی صحافی کی گمشدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور اگر سعودی عرب مخالف مؤقف کے باعث جمال خاشقجی کو حراست میں لیا گیا ہے تو یہ سراسر غلط اور اشتعال انگیز عمل ہے۔

گزشتہ روز سعودی عرب کے ولی عہد کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے والے ممتاز سعودی صحافی استنبول میں سعودی سفارتخانے کے دورے پر جانے کے بعد لاپتہ ہو گئے تھے۔جمال کی منگیتر کے مطابق وہ گزشتہ دوپہر استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں داخل ہوئے تھے اور اس کے بعد سے انہیں کسی نے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی اطلاعات موصول ہوئیں۔انہوں نے بتایا تھا کہ ہم دستاویزات کے سلسلے میں سعودی سفارتخانے گئے تھے لیکن مجھے جمال کے ہمراہ اندر جانے کی اجازت نہیں دی گئی

اور ان کا موبائل بھی باہر ہی رکھوا لیا گیا تھا۔سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے صحافی کے اہل خانہ اور قریبی دوستوں کا ماننا ہے کہ سعودی حکومت خصوصاً شہزادہ محمد بن سلمان کی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانے پر جمال خاشقجی کو حراست میں لیا گیا ہے۔سعودی عرب سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کر کے امریکا منتقل ہونے والے جمال لاپتہ ہونے سے قبل امریکی صحافتی ادارے واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھے اور ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔سعودی صحافی نے ماضی میں سعودی شاہی خاندان کے مشیر کی حیثیت سے خدمات سرانجام دی تھیں

تاہم وہ سعودی ولی عہد کی حالیہ اصلاحات اور 2030 وژن کے تحت ملک کو جدید بنانے کی پالیسیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔گزشتہ سال تنقید نگاروں اور صحافیوں کے خلاف سعودی حکومت نے کریک ڈاؤن کا آغاز کیا تو جمال امریکا منتقل ہو گئے تھے۔امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے صحافی اور امریکی رہائشی جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔خیال رہے کہ امریکا میں مقیم سعودی صحافی جمال خاشقجی گزشتہ ایک ہفتے سے لاپتہ ہیں

جن کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ انہیں ترکی میں سعودی قونصل خانے میں قتل کر دیا گیا ہے۔فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے مذکورہ کیس سے متعلق اپنی رپورٹ میں امریکی خفیہ ایجنسی کا حوالہ دیا۔خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا کہنا ہے کہ سعودی ولی عہد نے صحافی جمال خاشقجی کے خلاف آپریشن کرنے کے احکامات جاری کیے تھے۔

صحافی جمال خاشقجی کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ وہ سعودی فرماں روا سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان اور ان کے اقتدار کو تنقید کا نشانہ بناتے رہے ہیں۔امریکی اخبار نے امریکی خفیہ ایجنسی کے اہلکار کا نام بتائے بغیر بتایا کہ خاشقجی کے بارے میں یہ اطلاعات تھیں کہ سعودی عرب ان کو لالچ دے کر قید کرنے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔اخبار کے مطابق جمال خاشقجی کے دوستوں کا کہنا ہے کہ سعودی حکام نے صحافی سے رابطہ کرکے پیشکش کی تھی

کہ اگر وہ واپس سعودی عرب آجائیں تو انہیں حفاظت فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ سرکاری نوکری بھی دی جائے گی، تاہم خاشقجی نے اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا کیونکہ انہیں اس پر شک تھا۔امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے نائب ترجمان رابرٹ پلاڈینو کا کہنا تھا کہ امریکا کو خاشقجی کے لاپتہ ہونے کا علم نہیں تھا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ میں خفیہ ایجنسی کے معاملات میں نہیں جاسکتا،

 لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان کے لاپتہ ہونے کا ہمیں پہلے سے کوئی علم نہیں تھا۔خیال رہے کہ ایک روز قبل بین الاقوامی صحافیوں کی وکالت کرنے والے ادارہ رپورٹرز وِد آؤٹ بارڈرز (آر ایس ایف) نے ترکی میں قائم سعودی سفارتخانے سے 2 اکتوبر کو گمشدہ ہونے والے سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی پر خود مختار بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔ان کا کہنا تھا کہ صحافی کی گمشدگی سعودی عرب کے صحافیوں اور بلاگرز کے خلاف کریک ڈاؤن کے پیش نظر سامنے آئی۔

سعودی عرب سے خود ساختہ جلا وطنی اختیار کرنے والے جمال خاشقجی امریکی خبار ادارے واشنگٹن پوسٹ سے وابستہ تھے جبکہ ادارے نے بھی ان کی گمشدگی کی تصدیق کی تھی۔صحافی کی گمشدگی پر ترک حکومت نے فوری ردعمل دیتے ہوئے استنبول میں تعینات سعودی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا جس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی کا خدشہ پیدا ہوا تھا۔

سعودی سفیر نے صحافی کے لاپتہ ہونے کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے تفتیش میں مکمل تعاون کی پیش کش کی تھی۔جمال خاشقجی کی منگیتر کے مطابق وہ استنبول میں قائم سعودی سفارتخانے میں داخل ہوئے تھے اور اس کے بعد سے انہیں کسی نے نہیں دیکھا اور نہ ہی ان سے متعلق کوئی اطلاعات موصول ہوئیں۔ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی کی گمشدگی کےمعاملے پرخاموش رہنا ممکن نہیں،یہ کوئی عام معاملہ نہیں ہے۔

ترک میڈیاکےمطابق ترکی کے صدررجب طیب اردوان نے ہنگری سے واپسی پر طیارے میں صحافیوں سے سعودی صحافی کی گمشدگی کے معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ معاملے کے ہر پہلو کی تحقیقات کر رہے ہیں۔انہوں نے سعودی قونصلیٹ کے صحافی کی واپسی کی فوٹیج نہ ہونے کے بیان پر جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ سعودی قونصلیٹ کے باہر کوئی کیمرہ سسٹم نہ ہو۔واضح رہے کہ سعودی صحافی جمال خاشقجی دو اکتوبرکو ترکی میں واقع سعودی قونصلیٹ میں داخل ہونے کے بعد سے لاپتہ ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎