بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


علیم ڈار سے بیٹی کی موت کی خبر چھپائی گئی

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  21:17

پاکستانی ایمپائر ،علیم ڈار کا شمار دنیاکے بہترین ایمپائرز میں ہوتا ہے۔ وہ آئی سی سی کے ایلیٹ پینل میں شامل ہیں اور تین مرتبہ سال کے بہترین ایمپائر کا ایوارڈ حاصل کرچکے ہیں لیکن یہ مقام حاصل کرنے کے لیے انہیں بیش بہا قربانیاں دینا پڑیں، جس میں ان کی بیٹی کی موت بھی شامل ہے۔ 2003ء میں جنوبی افریقہ میں کرکٹ کے آٹھویں

عالمی کپ ٹورنامنٹ کا انعقاد ہوا۔ میچ آفیشل کے طور پرمیچ کی نگرانی کے لیےعلیم ڈار کو بھی ایمپائرز پینل میں شامل گیا۔ جب وہ جنوبی افریقہ کے لیے روانہ ہوئے تو

اس وقت ان کی چھ ماہ کی بیٹی جویریہ شدید علیل تھی اور ڈاکٹر اس کی زندگی کی طرف سےناامیدی کا اظہار کررہے تھے، لیکن علیم ڈار نے پیشہ وارانہ فرائض کو بیٹی کی محبت پر ترجیح دی۔ 9؍فروری کو وہ جنوبی افریقہ اور ویسٹ انڈیز کے درمیان منعقد ہونے والے کی ایمپائرنگ کررہے تھے کہ اسی دن ان کی بیٹی کا انتقال ہوگیا۔ ان کی اہلیہ نے اس وقت حوصلے کا مظاہرہ کیا اور بیٹی کی موت کی خبر علیم ڈارتک نہ پہنچنے دی ۔

 28مارچ کو آخری میچ کے بعدجب علیم ڈار وطن واپس آئے تو انہیں جویریہ کی موت کی اطلاع دی گئی۔رواں سال اپریل میں انہوں نے 350میچوں میں ایمپائرنگ کرنے والے پہلے ایمپائر کا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔علیم ڈار اورشہد کی مکھیاںعلیم ڈار نے ایمپائرنگ کیریئر کی ابتدا 2000میں گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والے پاکستان اور سری لنکا کے میچ سے کی۔ اس کے کچھ عرصے بعد انہیں جنوبی افریقہ اور سری لنکا کےدرمیان کھیلے جانے والے میچز کی نگرانی کے فرائض انجام دینے کے لیےجنوبی افریقہ جانا پڑا۔

اس وقت ان کی انگریزی واجبی سی تھی۔جوہانس برگ کے تیسرے ایک روزہ میچ کے دوران وہ اسکوائر لیگ پر کھڑے ایمپائرنگ کررہے تھے کہ انگلش بلے باز کا کھیلا گیا شاٹ، گراؤنڈ کے باہر لگے ہوئے درخت پر لگے شہد کی مکھیوں کے چھتے سے ٹکرایا۔ علیم ڈار نے دیکھا کہ مکھیوں کا جھنڈ گراؤنڈ میں آرہا ہے۔ انہیں کھلاڑیوں کو خبر دار کرنے کے لیے انگریزی کےالفاظ نہیں مل رہے تھے۔

انہوں نے گھبراہٹ کے عالم میں پنجابی زبان میں ہی چلاّ کر کہا، ’’اوئے لمبے پے جاؤ سارے‘‘، یہ کہہ کو وہ خود بھی میدان میں لیٹ گئے۔ نہ جانے دونوں ٹیموں کے کھلاڑی ان کی بات کا مفوہم سمجھے یا نہیں لیکن انہیں زمین پر لیٹتا دیکھ کرانہیں بھی کسی ناگہانی آفت کا احساس ہوا اور وہ سب بھی زمین پر لیٹ گئے، میچ روک دیا گیا۔

گراؤنڈانتظامیہ کو اس واقعے کی اطلاع ملی تو اس نے عملے کو آگ بجھانے والے آلات دے کر گراؤنڈ میں بھیجاجنہوں نے ان آلات کا استعمال کرکے مکھیوں کو بھگانے کی کوشش کی لیکن ناکامی ہوئی۔بالآخر شہد کی مکھیاں پکڑنے والے ماہرین کو بلوایا گیا۔مکھیوں کو بھگانے کے بعد ایک گھنٹے کے بعد میچ دوبارہ شروع کیا گیا ۔ جنوبی افریقہ نے یہ میچ سات وکٹوں سے جیت لیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎