بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


شعیب اختر کا ڈپارٹمنٹل ٹیم میں شامل ہونے سے قبل فٹ پاتھ پرشب بسری

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  21:19

راولپنڈی ایکسپریس کے نام سے معروف ، سابق کرکٹر شعیب اختر دنیا کے تیز ترین بالرکی حیثیت سے معروف ہیں اور بالنگ کے شعبے میں انہوں نے کئی عالمی ریکارڈ قائم کیے ہوئے ہیں۔ لیکن کیا کوئی سوچ سکتا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں شمولیت سے قبل وہ پیسے نہ ہونے کی وجہ سے ایک تانگے والے کے مہمان رہے تھے جس نے

انہیں اپنی جیب سے نہ صرف کھاناکھلایا بلکہ وہ لاہور کے ایک فٹ پاتھ پر اس کے ساتھ سوئے تھے۔راولپنڈی کے نزدیک مورگاہ کے قصبے میں جنم لینے والے شعیب اختر کے والد

اٹک آئل ریفائنری میں پلانٹ آپریٹرکے طور پر ملاز م تھے۔ شعب اختر کو کرکٹ کھیلنے کا بچپن سے ہی شوق تھا لیکن ان کی مالی حالت بہت خراب تھی۔ بڑا ہونے کے بعد انہوں نے نوکری کی تلاش شروع کی لیکن وہ اپنے پسند کی ملازمت حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

ایک روز ان کے دوست اعجاز ارشد نے انہیںبتایا کہ پاکستان ایئر لائنز کی کرکٹ ٹیم کے لیے لاہور میں ٹرائلز منعقد ہورہے ہیں تاکہ وہ اپنی کراچی ڈویژن ٹیم کے لیے کھلاڑی منتخب کرسکیں۔شعیب نے قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا لیکن ان کے پاس لاہور تک سفر کا کرایہ اور وہاں رہائش کے لیے پیسے نہیں تھے۔ لیکن شعیب نے لاہور جانے کا فیصلہ کیاانہوں نے ایک بیگ میں کچھ سامان اور کپڑے رکھے اور اعجازارشد کے ساتھ بس اڈے پر پہنچے۔

بس کا کرایہ نہ ہونے کی وجہ سے انہوں نے بغیر ٹکٹ بس میں سفر کا ارادہ کیالیکن اس کے لیے کنڈیکٹر کی نگاہوں سے بچنا ضروری تھا۔ انہوں نے بس کی روانگی کا انتظار کیااور جوں ہی بس چلی ، وہ دونوں دوڑ کر اس کے پیچھے لٹک کربس کی چھت پر چڑھ گئے۔سات گھنٹے کے سفر کے بعد وہ شام کےوقت لاہور پہنچے۔وہاں پہنچنے کے بعد ایک مسئلہ رات گزارنے کا تھا۔ لاہور میں ان کا کوئی رشتہ دار نہیں رہتا تھاجب کہ ٹرائل اگلی صبح ہونے تھے ۔اس وقت شعیب کی جیب میں بارہ روپے جب کہ اعجاز کے پاس تیرہ روپے تھے۔

اتنی قلیل رقم میں قیام و طعام کا بندوبست نہیں ہوسکتا تھاشعیب نے سڑک کے کنارے ایک تانگہ کھڑا دیکھا ، وہ اس کے کوچوان کے پاس گئےاور کوچوان کو سلام کرکےانتہائی بے تکلفی سے کہاکہ میں چاہتا ہوں کہ آپ مجھےآج رات کا کھاناکھلائیں اور رات گزارنے کے لیے ہم دونوں کو جگہ دیں۔۔ کوچوان جس کا نام عزیز تھا، شعیب کی صاف گوئی سے بہت متاثر ہوا، اس نے شعیب سےپوچھاکہ تم کون ہو۔شعیب نے جواب دیا کہ میں راولپنڈی کا ایک کرکٹر ہوں اور ان شاء اللہ ایک روز میں ملک کا بڑا کرکٹر بنوں گا۔

تانگے والے نے کہا کہ کھانا تو میں تمہیں کھلا دیتا ہوں لیکن میں خود ریلوے اسٹیشن کی فٹ پاتھ پر سوتا ہوں اگر وہاں سونا چاہو تو جگہ مل سکتی ہے۔ تانگے والے نے شعیب اور ان کے دوست کو ہوٹل میں لے جاکر کھانا کھلایا اور ریلوے اسٹیشن کے قریب فٹ پاتھ پر سونے کے لیے جگہ دی۔اس رات شعیب اور ان کے دوست نے لاہور کے فٹ پاتھ شب بسری کی ،اگلی صبح عزیز خان نے اپنے تانگے میں بٹھا کرمال روڈ کی سڑک پر اتار دیا وہاں سے دوگھنٹے پیدل چلنے کے بعد ماڈل ٹاؤن کے گراؤنڈپہنچے

جہاں پی آئی اے ٹیم کے منیجر، ظہیر عباس نے ان کا ٹرائل لیا او روہ پی آئی اے کی ڈپارٹمنٹل ٹیم میں منتخب ہوگئے۔ کچھ عرصے بعد انہیں قومی ٹیم میں شامل کرلیا گیااور عزت، دولت اور شہرت ان کے قدم چومنے لگی۔لیکن ایک کوچوان کے ساتھ لاہور کے فٹ پاتھ پر شب بسری ان کے ذہن سے کبھی محو نہ ہوسکی اور اس کا تذکرہ انہوں نے اپنی سوانح حیات میں بھی کیاہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎