بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


میرے ساتھ جسمانی زیادتی ہوئی ہے کیا یہ کہنا آسان ہے؟

  جمعرات‬‮ 11 اکتوبر‬‮ 2018  |  21:45

بالی وڈ اداکارہ تنو شری دتہ کی کہانی اس وقت ہر ایک کی زبان پر ہے کوئی تنو شری دتہ کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے تو کوئی انھیں کٹہرے میں کھڑا کرنے کی کوشش میں ہے۔تنو شری کا کہنا ہے کہ سنہ 2008 میں فلم ‘ہارن اوکے پلیز’ کی شوٹنگ کے دوران فلم اداکار نانا پاٹیکر نے انھیں جسمانی طور پر حراساں کیا تھا اور انھوں نے اس

وقت اس کی شکایت بھی کی تھی۔ ظاہر ہے نانا پاٹیکر نے اس الزام سے انکار کیا ہے اور تنو شری کو قانونی کارروائی کی دھمکی بھی دی ہے۔سابق

مس انڈیا تنو شری کا کہنا ہے کہ دس سال پہلے جب انھیں انصاف نہیں مِلا تو وہ مایوس ہو کر ملک سے باہر چلی گئی تھیں اب ہیش ٹیگ ‘می ٹو’ کے تحت انھوں نے میڈیا کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے جب اس قصے کو دہرایا تو انڈسٹری میں ہنگامہ برپا ہو گیا۔یہ بھی پڑھیےلوگوں نے سوال کیا کہ تنو شری دس سال بعد اس قصے کو کیوں کرید رہی ہیں۔ یہاں سوال یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ کہ کیا وقت گزرنے کے ساتھ کسی بھی جرم کی نوعیت یا اس کی سنگینی بدل جاتی ہے۔

’میرے ساتھ جسمانی زیادتی ہوئی ہے’ کیا یہ کہنا آسان ہے؟سب کے سامنے یہ اعتراف کرنا ہی اپنے آپ میں ایک جرات مند قدم ہے اور اس طرح کی جرات کرنے والوں کو ٹرول کرنا یا اس کے خلاف خاموش رہنا بزدلی نہیں کم ظرفی ہے۔ ’اس تمام معاملے میں انڈسٹری کے بڑے پردے کے سٹارز کا رویہ شرمناک رہا جو فلم میں ایک عورت کو تحفط دینے کے لیے اپنی جان کی بازی تو لگا سکتے ہیں لیکن اصل زندگی میں کسی عورت کی عزت اور اس کے وجود پر اٹھنے والے سوالوں کا جواب انتہائی بے حسی سے ٹال دیتے ہیں۔‘

یہ بھی پڑھیےاپنی ہر فلم میں ہیروئن کے دامن کو چھونے والے ولن کو دھول چٹانے والے امیتابھ بچن سے جب تنو شری کے بارے میں سوال پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ نہ تو میرا نام تنو شری ہے اور نہ ہی نانا پاٹیکر تو پھر آپ مجھ سے یہ سوال کیوں پوچھ رہے ہیں؟جبکہ عورتوں کو بااختیار بنانے والی فلم ‘دنگل’ اور ‘سیکریٹ سپر سٹار’ جیسی فلمیں بنانے والے اور ‘ستیہ میو جۓ تے’ جیسے ٹی وی شو میں عورتوں کے ساتھ جسمانی زیادتی کی کہانیوں پر پھوٹ پھوٹ کر رونے والے عامر خان نے اسی پریس کانفرنس میں تنو شری کے بارے میں سوال کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ‘

بھائی میری فلم ریلیز ہونے والی ہے مجھ سے ابھی کچھ نہ پوچھو۔’انڈسٹری کے ‘دبنگ خان’ نے تو بڑے دبنگ انداز میں سوال کو ہی مسترد کر دیا۔یہ بھی پڑھیےتو کیا بالی وڈ کے یہ ہیرو کاغذی ہیں؟ ہیش ٹیگ ‘می ٹو’ جیسی تحریک نے کتنے ہی چہروں کو بے نقاب کیا ہو لیکن صورتِ حال بدلنے کے لیے عورتوں کے خلاف ہر جگہ ہونے والے جرائم پر معاشرے کی بے حسی اور عورتوں کو کم تر سمجھنے کا نظریہ تبدیل کرنا ضروری ہے۔ اب چاہے وہ شو بز میں ہوں، کسی دفتر میں یا پھرگھر میں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎