بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


دیامر بھاشا ڈیم بنانے کا موقع دیں تو اتنے ارب بچا کر دیں گے، چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل جاویدسلیم قریشی نے بڑی پیشکش کر دی

  جمعہ‬‮ 12 اکتوبر‬‮ 2018  |  11:47

اسلام آباد  پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین انجینئر جاویدسلیم قریشی نے حکومت کو پیش کی ہے کہ حکومت پاکستان انجینئرنگ فاؤنڈیشن کو دیامر بھا شا ڈیم کی تعمیر کا موقع فراہم کرے تو قوم کا 200ارب بچائیں گے،ڈیم کی تکمیل کیلئے 500ارب زائد سے روپے درکار ہیں،ایتھوپیا جیسا ملک اپنے وسائل سے 4500میگاواٹ بجلی پید کر سکتا ہے توہم میں کیا کمی ہے،دیامر بھاشا ڈیم سے 30ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے،

ڈیم کی فیزیبلٹی رپورٹ تیار کرنے اور 50لاکھ سستے مکانات کی تعمیر کیلئے انجینئرنگ کونسل کی خدمات حاضر ہیں۔جمعرات کو اسلام آباد میں میڈیا

کو بریفنگ دیتے ہوئے چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل نے کہا کہ ڈیم کیلئے جمع شدہ پیسوں اور ڈیم کیلئے مختص فنڈ سے ایک پبلک لمیٹیڈ کمپنی بنا دی جائے جس کے شیئرز مارکیٹ میں فروخت کے لیے پیش کردئیے جائیں، پاکستان انجینئرنگ کونسل ڈیم کی تکنیکی پہلوؤں، انجینئرنگ کمیونٹی کے کردار بارے کانفرنس کا انعقاد بھی کریگی،

اس وقت ملک بھر میں پی اے سی سے رجسٹرڈانجینئرز کی تعداد2لاکھ60ہزار ہیں، اگلے تین سالوں میں 1لاکھ انجینئرز کو روزگار فراہم کریں گے۔ جاوید سلیم قریشی نے کہا کہ ملک کی پالیسی سازی میں انجینئرزکو نظر انداز کیے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ملکی قرضہ روز بہ روز بڑھ رہا ہے،پالیسی سازی میں پروفیشنلز تعینات نہ ہونے کی وجہ سے جو منصوبے100ارب میں مکمل ہونا ہوتے ہیں وہ 250ارب سے تجاوز کر جاتے ہیں،پالیسی سازی میں انجینئرز کو جب تک ترجیح نہیں دی جائے گی

اس وقت تک ملک ترقی نہیں کریگا کیونکہ ترقیاتی منصوبوں کا تعلق انجینئرز سے ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت گریڈ 22میں ایک بھی انجینئرنگ کا افسر نہیں،پلاننگ کمیشن میں صرف ایک انجینئر موجود ہے،50لاکھ سستے گھروں کی تعمیر کہنے آسان نہیں، دنیا میں بنتی والی سستے تعمیراتی مال پاکستان میں پہنچا ہی نہیں،سستے گھروں کی تعمیر کیلئے مخصوص جگہوں کو ذہن میں رکھنا لازم ہے۔ جاوید سلیم قریشی نے کہا کہ اس وقت 40فیصد انجینئرز کو مخصوص سیٹوں پر نان انجینئرز تعینات ہیں،

جو قانون کی خلاف ورزی ہے، جس پر عہدے پر تعینات رہنے اور تعینات کرنے والے دونوں کو چھ ماہ کی سزا ہو سکتی ہے،سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں جو انجینئر پاکستان انجینئرنگ کونسل سے رجسٹرڈ نہ ہو وہ انجینئرنہیں ہو گا، اگر اانجینئر کہلائے تو سزا کے مستحق ۔ ایک سوال کے جواب میں چیئرمین پی ای سی نے کہا کہ ڈیم سے متعلق سیاسی پہلو پر متعلقہ فورم سے رجوع کیا جائے، ہمارا کام صرف تکنیکی پہلوؤں کو سامنے لانا ہے، پی ا ے سی ریگولیٹری باڈی ہے انتظامی نہیں،واشنگٹن معاہدے کے بعد پوری دنیا میں پاکستانی انجینئرز کو اہمیت حاصل ہو گئیں ہیں۔اس موقع پر انہوں نے وزیراعظم سے ریلوے، ورکس، مواصلات اور انرجی کے شعبوں میں میرٹ کی بنیاد پرانجینئرز کو تعینات کرنے کامطالبہ کیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎