بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پاکستان کو چینی قرضوں کے باعث آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا، امریکا

  ہفتہ‬‮ 13 اکتوبر‬‮ 2018  |  20:04

 امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے کہا ہے کہ پاکستان کو چین کے قرض کی ادائیگی کے لیے عالمی مالیاتی ادارے کے پاس مزید قرضہ لینے کے لیے جانا پڑا ہے۔ بین الاقوامی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیدر نوئرٹ نے پریس بریفنگ میں کہا ہے کہ میری دانست میں پاکستان

کی حکومتوں کو چین سے لیے گئے قرضے کی ادائیگی کے لیے سنگین صورت حال کا پیشگی اندازہ نہیں تھا تاہم اب انہیں بیل آؤٹ کے لیے آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑ رہا ہے۔امریکی وزارت

خارجہ کی ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان نے باضابطہ طور پر آئی ایم ایف سے قرضے کی صورت میں مدد طلب کرلی ہے تاکہ چین سے لیے گئے قرضے کو اتار سکے۔ قبل ازیں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے معاملے پر پاکستان سے بات کی تھی۔

ترجمان ہیدر نوئرٹ نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ امریکا اس سارے معاملے کا بڑی باریک بینی سے مشاہدہ کررہے ہیں اور پاکستان کے آئی ایم ایف سے قرضے کے حصول پر نگاہ رکھے ہوئے ہیں۔ اس حوالے سے امریکا کی پالیسی واضح ہے۔واضح رہے کہ حکومت پاکستان نے موجودہ معاشی بحران سے نکلنے کے لیے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور اس کے لیے وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر، گورنر اسٹیٹ بینک طارق باجوہ اور اقتصادی ٹیم کے دیگر ارکان نے آئی ایم ایف کی ڈائریکٹر کرسٹین لیگارڈ سے ملاقات بھی کی ہےامریکا نے چین سے لئے گئے قرض کو پاکستان کی معاشی مشکلات کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہاہے

 کہ امریکا پاکستان کی طرف سے آئی ایم ایف سے قرض کے حصول کے لیے دی گئی درخواست کا جائزہ میرٹ پر لے گا۔ پاکستان کے حوالے سے کیس کو ہم کافی باریک بینی سے دیکھ رہے ہیں ۔ امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان ہیدرنوئرٹ نے گزشتہ روز پریس بریفنگ کے دوران بتایاکہ امریکا کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو بین الاقوامی مالیاتی ٖفنڈ سے پاکستان کے لیے کسی بیل آؤٹ پیکج کے بارے میں چند ماہ پہلے بات کر چکے ہیں‘ان کا کہناتھاکہ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں حکومتوں نے چین سے قرض شاید یہ سوچ کر حاصل کیا

 کہ اس قرض سے نکلنا اتنا مشکل نہیں ہو گا تاہم یہ مشکل ہوگیا ہے۔دوسری جانب پاکستان نے امریکا کی طرف سے پاکستان کو درپیش اقتصادی مشکلات کی وجہ سی پیک سے منسلک قرضوں کو قرار دینے کے بیان کو مسترد کرتے ہوے کہا ہے کہ یہ تاثر درست نہیں ہے‘پاکستان کی موجودہ معاشی مشکلات کا تعلق توانائی کے شعبےسے متعلق گردشی قرضے ہیں جن میں گزشتہ ایک دہائی کے دوران مسلسل اضافہ ہوتارہا ہے

اور یہ قرضے اب 13 سو ارب رپے تک پہنچ چکے ہیں۔اقتصادی امور سے متعلق پا کستا ن حکومت کےترجمان فرخ سلیم کا کہنا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی مشکلات کا تعلق چین پاکستان اقتصادی راہد اری سے منسلک قرض نہیں ہیں کیونکہ ان کے بقول ان قرضوں کی فوری واپسی کاپاکستان کو کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے۔ان قرضوں کی واپسی تین چار سال بعد شروع ہوگی ۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎