بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


چار پرندے ذبح کرنے سے چار بُری خصلتوں سے جان چھٹکارا، حضرت ابراہیم ؑ کا یہ سبق آموز واقعہ ملاحظہ کیجئے

  بدھ‬‮ 17 اکتوبر‬‮ 2018  |  13:24

حضرت اِبراہیم علیہ السّلام نے جن چار پرندوں کو ذَبح کِیا ان میں سے ہر پرند ایک بُری خصلت میں مشہور ہے۔مثلاً: مور کو اپنی شکل و صورت کی خوبصورتی پر گھمنڈ رہتا ہے اور مُرغ میں کثرتِ شہوت کی بُری خصلت ہے اور گدھ میں حِرص اور لالچ کی بُری عادت ہےاور کبوتر کو اپنی بُلند پروازی اور اونچی اُڑان پر نَخوَت و غرور

ہوتا ہے۔ ”تو ان چاروں پرندوں کے ذَبح کرنے سے ان چاروں خصلتوں کو ذَبح کرنے کی طرف اِشارہ ہے کہ:چاروں پرند ذَبح کیے گئے تو حضرت اِبراہیم علیہ السّلام کو مُردوں

کے زندہ ہونے کامنظر نظر آیا اور ان کے دِل میں نُورِ اطمینان کی تجلّی ہوئی۔جس کی بدولت انہیں نفسِ مطمئنہ کی دولت نصیب ہو گئی۔ ”تو جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کا دِل زندہ ہو جائے اور اس کو نفسِ مطمئنہ کی دولت نصیب ہو جائے اس کو چاہیے کہ:مرغ ذَبح

کرے یعنی شہوت پر چُھری پھیر دے اور مور کو ذَبح کرے یعنی اپنی شکل و صورت اور لِباس کے گھمنڈ کو ذَبح کر ڈالے اور گدھ کو ذَبح کرے یعنی حِرص اور لالچ کا گلا کاٹ ڈالے اور کبوتر کو ذَبح کرے یعنی اپنی بُلند پروازی اور اونچے مرتبوں کے غرور و نَخوَت پر چُھری چلا دے۔اگر کوئی ان چاروں بُری خصلتوں کو ذَبح کر ڈالے گا تو اِن شاءاللّہ تعالیٰ وہ اپنے دِل کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا اور اس کو نفسِ مطمئنہ کی سرفرازی کا شرف حاصل ہو جائے گا۔ ” (واللّہ تعالیٰ اعلم )تفسِیر جمل،جِلد ۱،صفحہ ۳۲۸،پارہ ۳،سورۃ البقرۃ،آیت:۲٦۰ )۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎