بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


خلائی مخلوق کے خلائی جہازکی زمینی معلومات حاصل کرنے کے لیے آمد19اکتوبر کو کیا ہواتھا؟سائنسدانوں کے حیرت انگیزانکشافات

  جمعرات‬‮ 8 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  11:47

نیویارک(این این آئی)ایک نئی تحقیق میں عندیہ دیا گیا ہے کہ ستاروں کے درمیان واقع خلا سے نظامِ شمسی میں داخل ہونے والا سیارچہ خلائی مخلوق کا خلائی جہاز ہو سکتا ہے جس کو زمین کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے بھیجا گیا ہو۔اس سیارچے کو 19 اکتوبر کو دریافت کیا گیا تھا اور اس کی رفتار اور زاویے سے

ظاہر ہوتا ہے کہ یہ نظامِ شمسی سے باہر کسی اور ستارے کے نظام سے آیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اس کے بارے میں سائنس دانوں کا کہناتھا کہ وہ اب تک معلوم اجرامِ

فلکی میں سے سب سے زیادہ لمبوترا ہے۔یہ تازہ تحقیق امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی کے سمتھ سونین سینٹر فار ایسٹرو فزیکس نے کی ہے۔اس تحقیق میں اس امکان کو ظاہر کیا گیا کہ یہ لمبوترہ سیارچہ جس کی چوڑائی کے مقابلے پر اس کی لمبائی کم از کم دس گنا زیادہ ہے اور ایک لاکھ 96 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا تھا کسی خلائی مخلوق کا ہو۔ایسٹرو فزیکل جرنل لیٹرز کو دی گئی اس تحقیق میں تحقیق دانوں کا کہنا تھاکہ

اومْوامْوا مکمل طور پر فعال خلائی جہاز تھا جس کو زمین کے بارے میں جاننے کے لیے خلائی تہذیب نے بھیجا ہو۔ہارورڈ یونیورسٹی کی یہ تحقیق فلکیات کے سربراہ پروفیسر ایبراہم لوب اور شمیل بیالی نے کی ہے۔ پروفیسر ابھی تک چار کتابیں اور 700 سے زیادہ تحقیقی پیپرز بلیک ہول، کائنات کا مستقبل، خلائی مخلوق کی تلاش اور ستاروں پر لکھ چکے ہیں۔یہ تازہ تحقیق اس لمبوترے سیارچے کی رفتار کی بنیاد پر لکھا گیا ہے۔تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اس لمبوترے سیارچے کو خلائی مخلوق کی شے سمجھا جائے تو ایک ممکنہ بات یہ ہو سکتی ہے کہ اومْوامْوا‘ ستاروں کے درمیان تیر رہا ہے۔تحقیق میں مزید کہا گیا ہے کہ اومْوامْواکی تیز رفتار اور غیر معمولی مدار کا مطلب ہو سکتا ہے کہ یہ اب فعال نہ ہو۔چلی میں واقع دوربین سے اس کا مشاہدہ کرنے والی امریکی ماہرِ فلکیات کیرن میچ اور ان کے ساتھیوں نے تخمینہ لگایا تھا کہ

اس سیارچے کی لمبائی 400 میٹر ہے اور تیزی سے گھوم رہا تھا، جس کی وجہ سے اس کی چمک میں تیزی سے کمی بیشی ہوتی رہتی تھی۔تاہم یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ اس تحقیق میں تحقیق دان یہ نہیں کہہ رہے کہ ’اومواموا‘ یقیناً خلائی مخلوق کا خلائی جہاز ہے۔ تحقیق دانوں کا کہنا ہے کہ ایسا ہونے کے خاطر خواہ امکانات موجود ہیں۔تحقیق دانوں کا کہنا تھا کہ یہ لمبوترہ سیارچہ خلائی مخلوق کا خلائی کباڑ بھی ہو سکتا ہے، غیر فعال سیل کرافٹ بھی ہو سکتا ہے جو غلطی سے یہاں آ گیا۔ یا پھر فعال خلائی جہاز جو ہمارے نظام شمسی کے بارے میں مزید معلومات حاصل کرنے آیا ہو۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎