بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


سعادت مند اولاد کی برکت …..

  جمعہ‬‮ 9 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  19:29

ایک دفعہ ایک گاؤں کو کسی وجہ سے خالی کروا دیا گیا ،اور بہت سے لوگ جن کی پاس کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ..وہ قریب کے ایک جنگل میں رہنے لگے ،ان سب گھرانوں میں ایک گھرانا ایسا بھی تھا جس کے پاس کھانے تک کچھ نہیں تھا لیکن ان کے پاس ایکا تھا اور سعادت مند اولاد تھی. ایک دن باپ بہت پریشان تھا کہ آج ہمارے پاس کچھ

کھانے کو نہیںں ہے اور رات ہونے کو ہے ،چنانچہ باپ نے بیٹے سے کہا بیٹا تم جنگل چلے جاؤ اور لکڑیاں لے آؤ بیٹے نے کہا: 

جی ابا جان میں ابھی جاتا ہوں .اور یہ کہہ کر وہ جنگل چلا گیا اور باپ نے اب بیٹی سے کہا کے بیٹی تم ایک کام کرو آگ پر پانی گرم کرنے کے لیا رکھ دو ،بیٹی نے بھی ایک سعادت مند اولاد کی طرح کہا جی ابا جان ..اور دونوں بچے اپنے باپ کی بات پر عمل کرنے میں مصروف ہوگئے،اتنے میں باپ کوئی اور کام کرتا یا کسی

اور طرف جاتا اس سے پہلے ہی تھوڑی ہی دورایک درخت پر بیٹھا :کوا ہنسنے لگا اور بولا ایک تو خود پاگل ہو شاید.. اور اُوپر سے اپنے بچوں کو بھی پاگل بنا رہے ہو اور ہنسنے لگا، اور پھر دوبارہ بولا کل یہاں کھانے کو کچھ ہے ہی نہیں پھر کیوں اپنے اولاد کو دوڑا رہے ہو،.اس پر وہ باپ بولا تمہیں کس نے کہا کہ میرے پاس کچھ کھانے کو نہیںں ہے ،کوا ہنسا اور بولا کیا ہے تمہارے پاس وہ باپ بولا میں نے تو تمہارا ہی شکار کرنے کی پلاننگ کی ہے ،.اس پر وہ ۔ کوا فورن سے چپ ہوا اور گھبراتے ہوئے خود ہی سوچنے لگا کہ یہاں کچھ نہیں تھا پھر بھی اس کی اولاد نے۔ جی کہا. اور کام میں لگ گئے لیکن یہاں تو میں بیٹھا نظر آرہا ہوں تو اس کی اولاد میرا کیا کرے گی ،

یہ سوچ آتے ہی کوا فوراً بولا نہیں نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے ،وہ آدمی بولا کیوں نہیں کر سکتا میں تو تمہارا ہی شکار کروں گا ،.اس پر وہ "کوا اس آدمی کی منت کرنے لگا کہ مجھے چھوڑ دو ،.وہ آدمی بولا میں تجھے اگر چھوڑ دوں تو مجھے کیا ملےگا ،میں تو تمہارا ہی شکار کرؤنگا ،.اس پر وہ "کوا بہت پریشان ہوا اور بولا نہیں مجھے نہیں مارو میں تمہیں ایک راز کی بات بتاؤنگا مجھے چھوڑ دو ،اس پر وہ آدمی بولا اچھا ایسی بات ہے. ٹھیک ہے چھوڑ دؤنگا تمہیں پہلے راز کی بات بتاؤ مجھے، "کوا اس آدمی کو ساتھ لے کر ایک درخت کے پاس گیا اور کہا کہ میں نے یہاں پر ایک چور کو اس درخت کے نیچے کچھ زیورات اور پیسا چھپاتے دیکھا تھا اس درخت کے نیچے کھدائی کرو ،اس آدمی نی کھدائی کی اور اسے وہ زیورات اور پیسے مل گئے اور اس "کوے کی جان بچ گئی .

اس واقعے کے بعد یہ گھرانہ کسی شہر میں جا کر رہنے لگا اور پھر ایک پڑوس سے بات چیت کے دوران اس گھرنے نے باتوں باتوں میں بتایا کہ ہم لوگ اسی جنگل میں رہتے تھے پھر یہ سب ہوا پھر ہم امیر ہوگئے اور یہا آ گئے ،اس بات کے کچھ ہی دنوں بعد وہ پڑوسی گھرانے نے سوچا ہمیں بھی جنگل جانا چا ہیے شاید ہمیں بھی کوئی خزانہ مل جاۓ اور ہم اور امیر ہوجائیں ،.یہ خیال آتے ہی سب نے تیاری کی اور اسی جنگل میں اسی جگہ چلے گئے جہاں پر پہلے والا گھرانہ امیر ہوا تھا ،..اب انہوں نے بھی وہی سب کیا جو اس سے پہلے والے گھرانے نے بتایا تھا ،اب رات کا وقت قریب آرہا تھا باپ نے بیٹے سے کہا بیٹا ایک کام کرو جنگل سے لکڑیاں لے آؤ تاکہ ہم رات سے پہلے آگ جلا لیں اور کھانے کا کوئی بندوبست کر لیں، اس پر بیٹا کہتا ہے، ابو کیا پاگل ہو یہاں کھانے کو کچھ

ہے نہیں اور آپ ہو کے مجھے تانگ کر رہے ہو کہ جنگل میں جاؤ لکڑیاں لے کر آؤ ،،باپ بیچارا خاموش ہوجاتا ہے ،پھر بیٹی سے مخاطب ہوتا ہے ،کہتا ہے بیٹی تم پانی گرم کرنے کے لیے رکھو دو ،،.بیٹی کہتی ہے ابو اپ واقعی میں پاگل ہوگئے ہیں.. یہاں کہا پانی ہے ،اور یہا نہ تو کھانے کو ہے نہ ہی یہاں پر پینے کو ہے کچھ ،.آپ نی پتا نہیں کس مصیبت میں ڈال دیا ہے .ہمیں ،.باپ بیچارا خاموش ہو کر رہ گیا ،قریب درخت پر بیٹھا وہی "کوا ہنستے ہوے بولا تم لوگوں سے پہلے یہاں ایک گھرانا رہتا تھا جس میں اتنا ایکا تھا. کہ باپ نے کہا بیٹے جنگل سے لکڑیاں لے آؤ . تو بیٹے نے کہا 'جی ابو جان اور چلا گیا اور یہ بھی نہیں پوچھا کے ابو میں کیسے جاؤنگا جنگل یا میں لکڑیاں لا کر کیا کرؤں گا یہا کچھ ہے تو نہیں کھا نے کو' ،نہں اس نے باپ سے ایک سوال نہیں کیا اور سیدھا جنگل میں چلا گیا. پھر باپ نی بیٹی سے کہا کے بیٹی تم پانی گرم کرنے کے لیا رکھو ،

بیٹی نے بھی یہ سوال نہیں کیا کے ،'ابو میں کہا سے پانی لے کر آؤں یہا کھانے کو کچھ نہیں ہے اور آپ مجھے پانی گرم کرنے کا کہ رہے ہیں یہ آپ نے کہا لا کر پھینک دیا ہے وغیرہ وغیرہ نہیں،،اس بیٹی نے ایک سوال بھی نہیں پوچھا ،اس لیے ان کے لیے راہیں کھُلگییٴ .اور وہ امیر ہوگئے ،.. دوستوں میں نے بڑوں سے سنا ہے کے سعادت مند اولاد اللہ تعالیٰ نصیب والوں کو دیتا ہے ،.وہ اپنی جگہ ٹھیک ہیں بیشک بلکل ٹھیک کہتے ہیں ہمارے

بڑھے بزرگ ، لیکن میں کہتا ہوں کے اولاد کی سہی تربیت اچھی تربیت اولاد کو سہی بھرپور آپ کا وقت ان کو ایک سعادت مند اولاد بنا سکتی ہے ،.انسان کے نصیب میں سب پہلے سے لکھ دیا ہے. لیکن انسان کو یہ بھی کہا گیا ہے کے دعا کرو دعا تقدیر بدل دیتی ہے ،نصیب بدل دیتی ہے انسان کا ،اس جدیر دور کے والدین سے میرے ریکویسٹ ہے بہت ہی مودبانہ گزارش ہے کے اپنی اولاد کو وقت دیں ان کے ہاتھون میں آپ کے ہاتھ ہوں نہ کے جدید دور کے آلات ہوں جس نے نوجوان نسل کو ماں باپ سے دور کر دیا ہے ،، اس لیے جو تعلم آپ اپنے بچے کو دینا چاھتے ہیں جو سیکھنا چاھتے ۔جو انہے بنتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں. انہے وہی سیکھایںٔ وہی باتیں ان کی تربیت خود کرینگی گی ۔ آپ کے وقت دینے سے آپ کی ہی زندگی خوشگور ہوگی،.

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎