بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا

  پیر‬‮ 26 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  23:40

ایک بار غازی الدین حیدر اپنے وقت کے مشہور درباری گویے حیدری خاں سے گانا سن رہے تھے-انہوں نے حکم دیا کہ اگر حیدری خاں نے آج انہیں رُلایا نہیں تو وہ حیدری خاں کو قید خانے میں پھنکوا دیں گے-خدا کی قدرت حیدری خاں نے ایسا گایا کہ غازی الدین حیدر رو پڑے- انہوں نے خوش ہو کر کہا “ بولو حیدری اںکیا مانگتے

ہو“-حیدری خاں نے جواب دیا “ حضور آپ مجھے کبھی نہ بلوائیے گا اور نہ گانا سنیے گا“-ادشاہ نے حیرت سے پوچھا “ کیوں؟ “-حیدری خاں نے جواب دیا “ حضور آپ

بادشاہ ہیں٬ مر گئے تو کوئی دوسرا تخت پر بیٹھا دیا جائے گا لیکن اگر میں آپ کی شاہانہ طبعیت کا شکار ہو کر جان سے ہاتھ دھو بیٹھا تو مجھ جیسا حیدری خاں دوبارہ کبھی پیدا نہیں ہوگا“-سب سے پہلا اصول یہ ہے کہ اپنی صلاحیتوں پر بھرو سہ رکھیے۔

جب تک آپ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہو گی، آپ کامیاب اور خوش و خرم نہیں ہو سکتے۔ ایک معقول خود اعتمادی ہی کامیابی کی طرف بڑھنے کی پہلی سیڑھی ہے۔ احساس کمتری اور شش و پنج کا شکار دماغ مستقبل کی کیا منصوبہ بندی کر سکتا ہے؟ لیکن خود اعتماد شخص اپنیصلاحیتوں سے مکمل آگاہ ہوتا ہے اور وہ جانتا ہے کہ کامیابی کیسے ملے گی۔اس کی دماغی صلاحیت اور اندازِ فکر کی بلندی اسے سیدھا راستہ دکھاتی ہے۔

یہ ایکچونکا دینے والی حقیقت ہے کہ کئی باصلاحیت افراد کو خوف زدہ کر کے نکما اور قابل رحم بنا دیا گیا ہے اور اس طرح ان کو احساس کمتری کے آزار میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ مگر آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا حل درست علاج میں مضمر ہے۔ آپ اپنی ذہنی فکر و تردد کو بہتری کی جانب گامزن کر سکتے ہیں، اور اس یقین کے ساتھ کہ آپ ایسا کر کے رہیں گے۔

احساس کمتری کی مختلف وجوہات ہوتی ہیں، اور ان میں سے چند ایک کی بنیاد بچپن ہی میں پڑ جاتی ہے۔ایک اعلیٰ عہدے دار نے مجھ سے رابطہ قائم کیا کہ وہ ایک نوجوان کو اپنی کمپنی میں ایک خاص ذمہ داری سونپنا چاہتا ہے۔اس نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ’’انتہائی اہمیت کے کام اور بات کو خفیہ رکھنے کی مناسبت سے اس پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا، لہٰذا جس عہدے پر میں اسے دیکھنا چاہتا ہوں،

وہ فی الحال مشکل نظر آ رہا ہے۔ اس میں تمام اہلیت اور قابلیت موجود ہے، مگر وہ بولتا بہت زیادہ ہے اور اس کے اندر احساس ذمہ داری بالکل نہیں ہے کہ کون سی بات کس کے سامنے کہنی چاہیے اور کس کے سامنے نہیں۔‘‘ تجزیہ کرتے ہوئے میں نے اس بات کو مدنظر رکھا کہ ’’وہ بولتا بہت ہے۔‘‘ احساس کمتری کی یہ بھی ایک قسم ہے۔ اس طرح وہ دوسروں پر اپنی قابلیت کا رعب جمانا چاہتا ہے۔

اس کا اٹھنا بیٹھنا ان لوگوں میں تھا جو اچھی مالی حیثیت کے افراد تھے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ تھے اور خاندانی پس منظر بھی شاندار تھا۔ مگر یہ نوجوان غربت میں پلا بڑھا اور کالج کے افراد سے بھی زیادہ ملنا جلنا نہ تھا۔ چنانچہ اسے اپنی اس کمزوری کا شدت سے احساس تھا کہ اس کی تعلیم میں بھی کچھ کمی رہ گئی ہے اور خاندانی پس منظر بھی زیادہ بہتر نہیں ہے۔اپنی خودی کو بلند کرنے کا اس کو یہی نسخہ سمجھ میں آیا کہ خوب بڑھ چڑھ کر باتیں کی جائیں۔ جب آجر کو معلوم ہو گیا کہ اس شخصیت کی خصلت کیا ہے،

تو مہربان اور شفیق دوست کی حیثیت سے اس نے نوجوان کو کاروبار میں وہ مواقع فراہم کیے جہاں اس کی صلاحیتیں کھل کر سامنے آنے لگیں۔ اس نے بھی واضح کیا کہ اس کی ذہنی کم مائیگی اور احساسات نے اس کے اعتماد کو زک پہنچائی تھی۔ اس خود شناسی نے مل جل کر اس کو کمپنی کا ایک سرمایہ بنا دیا۔ اس کی اندرونی صلاحیتیں اور قوتیں ابھر کر سامنے آنے لگیں۔بہت سے نوجوان اپنی ذاتی ہمت اور توجہ سے احساس کمتری پر قابو پا لیتے ہیں


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎