بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بدسلوکی کرنے والے شریکِ حیات کی شناخت کیسے ہو؟

  بدھ‬‮ 28 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  22:55

وہ ہر وقت جاننا چاہتا ہے کہ آپ کیا کر رہی ہیں، اور کس کے ساتھ ہیں۔ اگر آپ اس کی مرضی نہ کریں تو وہ غصے میں آ جاتا ہے۔ وہ آپ کو ہدایات دیتا رہتا ہے تاکہ آپ عین وہی کریں جو چاہتا ہے۔ اگر آپ یا آپ کا کوئی دوست اس صورتِ حال سے دوچار ہے تو اس بات کا امکان ہے کہ آپ کا شریکِ حیات بدسلوک ہے اور آپ کی

زندگی کو کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔ یہ کہنا ہے کہ میکسیکو کی ماہرِ نفسیات ٹیرے ڈیاز سینڈرا کا جو خاندانی اور شادی شدہ جوڑوں

کے معاملات کی ماہر ہیں۔ انھوں نے اس موضوع پر ایک کتاب بھی تحریر کی ہے۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس صدی میں صنفی مساوات میں خاصا اضافہ ہوا لیکن پھر بھی یہ بات ناقابلِ یقین لگے گی کہ اب بھی میرے پاس بہت سے ایسے مریض آتے ہیں جہاں ان کے شریکِ حیات ان کی زندگیوں کو کنٹرول کرنا چاہتے ہیں۔

اور یہ زیادہ تر عورتوں کے ساتھ ہو رہا ہے۔‘ٹیرے نے گھریلو تشدد سے بچاؤ پر بھی کام کیا ہے۔ انھوں نے اس کی شناخت اور بچاؤ کے لیے چند مشورے دیے ہیں۔ ایسا شخص عام طور پر بدتمیز اور غیر مہذب برتاؤ کرتا ہے۔ ہم سب کو تعلقات میں کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی قسم کی بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑتا ہے لیکن مستقل بدسلوک شریکِ حیات وہ ہے اپنا استحقاق استعمال کر کے کسی دوسرے شخص کو اپنی خواہشات، ضروریات اور مرضی کے مطابق کنٹرول کرنا چاہتا ہے۔عام طور پر وہ خوف اور زبردستی سے کام لیتا ہے

جس میں دھمکی آمیز رویہ بھی شامل ہے۔ یہ لوگ اپنے شکار کو مکمل طور خاموش کروانا چاہتے ہیں حتیٰ کہ وہ خود کو مجرم سمجھنے لگے۔ بدسلوکی کا دارومدار اس پر ہوتا ہے کہ کس کے پاس طاقت ہے۔ عورتیں عام طور پر دوسروں، مثلاً بچوں اور شوہر، کی زندگی کا حصہ ہوتی ہیں، جب کہ مرد خود اپنی زندگی کے مرکزی کردار ہوتے ہیں۔ تاہم عورتیں بھی بدسلوک ہو سکتی ہیں۔ اگر وہ شوہر سے زیادہ کمائی کرتی ہیں

 تو اس کا ناجائز فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ وہ کئی ایسے طریقے استعمال کر سکتی ہیں جن کی مدد سے مرد کو کنٹرول کیا جا سکے۔ عام طور پر اس کے کئی عوامل ہوتے ہیں۔ بعض لوگ زندگی میں پیش آنے والے حالات کی وجہ سے بدسلوکی پر اتر آتے ہیں۔ تاہم چونکہ ہم ایک پدرسری نظام میں رہ رہے ہیں اس لیے بہت سارے لوگوں کو اسی نظام سے اپنے طرزِ عمل کی شہ ملتی ہے۔لڑکوں کو بچپن میں سکھایا جاتا ہے کہ ‘مرد بن کر رہو۔’ یہی رویہ بعد میں ان کی عورتوں سے بدسلوکی کی راہ ہموار کرتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎