بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


صرف تعلیم نہیں، تربیت بھی

  جمعرات‬‮ 29 ‬‮نومبر‬‮ 2018  |  15:57

کچھ چیزیں اور احساسات غیر اختیاری طور پر ہمارے لاشعور میں بس جاتے ہیں۔ ہم لاکھ پڑھ لکھ جائیں، کسی بڑے عُہدے پر پہنچ جائیں، وہ احساسات کسی شکنجے کی طرح ہمارے گرد اپنا گھیرا تنگ کرتے چلے جاتے ہیں اور ہمیں محسوس بھی نہیں ہوتا کہ ہم کب ان کی گرفت میں آنا شروع ہوئے۔ اگرچہ یہ سبق ہمیں کبھی کسی توتے کی

طرح رٹایا نہیں جاتا، لیکن پھر بھی ہمارے ذہنوں پر ہمیشہ کے لیےنقش ہوجاتا ہے۔ ان میں صداقت، ایمان داری، حُبّ الوطنی، رحم دِلی، اعلیٰ ظرفی اور ہم دردی جیسے مِلے

جُلے جذبات و احساسات شامل ہیں۔ ان کا کوئی امتحان بھی نہیں ہوتا، لیکن ہماری نہ صرف روزمرّہ، بلکہ ابدی زندگی کی کام یابی و ناکامی بھی ان ہی میں مضمر ہے۔

یہ احساسات دراصل تربیت ہی کا ایک حصّہ ہوتے ہیں، جو ہم گھر، خاندان، احباب اور ارد گرد کے ماحول سے حاصل کرتے ہیں۔ تربیت کے حقیقی معنی ابتدا سے انتہا تک پرورش کے مراحل سے گزرنا ہے اور تعلیم و تربیت گویا یک جان ،دو قالب ہیں۔ تعلیم کا مطلب تربیت اور تربیت کا مطلب تعلیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ تعلیم و تربیت عمومی طور پر ایک ساتھ ہی لکھے اور بولے جاتے ہیں۔

تعریف کی روشنی میں دیکھا جائے، تو دُنیا بَھر میں جاپانی نظامِ تعلیم پہلے نمبر پر شمار کیا جاتا ہے۔ جاپان نے 1868ء میں ابتدائی تعلیم ہر خاص و عام کے لیے مفت قرار دی اور پولیس کو یہ احکامات جاری کر دیے گئے کہ اگر کوئی بھی چھوٹا بچّہ سڑکوں پر گھومتا پایا جائے، تو بچّے کو اس کے والدین کے ساتھ جیل میں ڈال دیا جائے۔جاپان میں اسکولنگ کے ابتدائی چار، پانچ برس تک(10 سال کی عُمر سے پہلے)کسی امتحان کا تصوّر نہیں ہے۔ اس پورے عرصے کے دوران اسکول انتظامیہ بچّے کی شخصیت کی تعمیر اور کردار سازی پر توجّہ دیتی ہے۔

اسے اخلاقیات اور معمولاتِ زندگی کے طور طریقے سکھائے جاتے ہیں۔ چھوٹے، بڑے کی تمیز سکھائی جاتی ہے، تو بچّے میں سخاوت، ہم دردی، رحم دلی جیسی خصوصیات پیدا کرنے کے لیے تعمیری شعبوں میں تعلیم و تحقیق کے اصل معنی بھی بتائے جاتے ہیں۔پھر جاپان میں عموماً طلبہ ایک ٹیم کی شکل میں اسکول کی صفائی ستھرائی میں بہت دِل جمعی سے حصّہ لیتے ہیں،جس کی بدولت ان کے اندر یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ کوئی کام چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ زیادہ تر طلبہ اور اساتذہ ایک ساتھ ایک جیسا کھانا کھاتے ہیں،

جس سے دونوں کے مابین ذہنی ہم آہنگی میں اضافہ ہوتا ہے۔ پھر طلبہ پر کوئی اور زبان سیکھنے کے حوالے سے کسی قسم کا دبائو نہیں ڈالا جاتا۔ تمام تر حقائق،تحقیق اور تازہ ترین اطلاعات کے ساتھ ساتھ سائنسی، تیکنیکی اور فنی موضوعات پر لکھی ہوئی بے شمار کتب جاپانی زبان میں موجود ہیں، تو طلبہ اپنی علمی پیاس بُجھانے کے لیے خود ہی سیکھنے سکھانے کے عمل کی جانب راغب ہوتے چلے جاتے ہیں۔

ہر نئی کتاب دکانوں کے ساتھ ساتھ لائبریریز میں بھی فروخت کی جاتی ہے،جس کے سبب کتب کی طباعت و اشاعت کا سلسلہ رکتا نہیں، بڑھتا چلا جاتا ہے۔ نتیجے کے طور پر ہم دیکھ سکتے ہیں کہ جاپان نے محض علم و قلم کی طاقت سے کس طرح اقتصادی بحرانوں پر قابو پایا اور دوسری جنگِ عظیم کے بعد دُنیا کے نقشے پر ٹیکنالوجی کی ایک نئی قوّت بن کر اُبھرا۔جاپان کے تعلیمی نظام کا پاکستان سے موازنہ کریں، تو کچھ سوالات ذہن میں اُبھرتے ہیں۔ مثلاً کیا ہمارا نظامِ تعلیم ایک باشعور اور اخلاق کے اعلیٰ اصولوں سے مزّین معاشرہ پروان چڑھا رہا ہے؟

کیا ہمارے اسکول بہترین کردار کے حامل افراد تیار کررہے ہیں؟ کیا پاکستان میں اُردو زبان میں، ہر موضوع پر کتب موجود ہیں؟ اور کیا کوئی نئی کتاب شایع ہونے کے بعد اس کی لاگت اور جائز نفع لکھاری کو مل پاتا ہے؟ بدقسمتی سے ان تمام تر سوالات کا جواب ’’نہیں‘‘ ہے۔آخر کوئی تو وجہ ہے کہ جاپان، چائنا، امریکا، کوریا اور دُنیا کے کئی ترقّی یافتہ مُمالک میں تعلیم ان کی اپنی مادری اور قومی زبان ہی میں دی جاتی ہے۔ابتدائی جماعتوں میں امتحان کا کوئی تصوّر نہیں اور تعلیم کا اوّلین اور بنیادی مقصد صرف طلبہ کی تربیت کرنا،

اُن کا شعور اُجاگر کرنا ہے۔ پاکستان کا جائزہ لیں، تو اندازہ ہوتا ہے کہ ہم نے 1947ء میں انگریزوں، ہندوؤں سے بہ ظاہر آزادی تو حاصل کی، لیکن ذہنی طور پر بھارتی ثقافت اور انگریزی کے دبائو سے آج سات دہائیاں گزرنے کے باوجود آزاد نہیں ہو سکے۔ کوئی سرکاری ادارہ ہو یا نجی، محض انگریزی ہی کو معیارِ تعلیم تصوّر کر لیا گیا۔ اسکولز ،کالجز میں اخلاقی و ذہنی نشوونما ناپید ہے۔ کتابوں سے دِل چسپی محض درسی کتب تک محدود ہے، وہ بھی صرف اس لیے کہ اچھے گریڈز حاصل کیا جاسکیں۔ لائبریریز سُنسان پڑی ہیں۔

کتابوں پر گَرد جمی ہے۔ زیادہ تر لکھاری کتاب لکھنے کے بعد اپنی کتابیں دوست احباب میںتحفتاً ہی بانٹ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی ان کتب کو خریدنا گوارا نہیں کرتا۔ بس ایک دوڑ لگی ہے، جس میں ہر کوئی ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنا چاہتا ہے۔ نقل، بے ایمانی اور چالاکی سے ڈگریاں حاصل کی جارہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عموماً عملی زندگی میں قدم رکھنے کے بعد طلبہ کو کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ اب انھیں کس سمت میں آگے بڑھنا ہے۔سماجی زندگی میں دیکھیں، تو پڑھے لکھے لوگ شادی بیاہ کی تقریبات میں پلیٹس میں ڈھیروں کھانا چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

اچھی خاصی خواندہ خواتین، ملازموں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک کرتی ہیں۔ کمپنیز میں اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ لاکھوں، کروڑوں کا غبن کر کے بھاگ جاتے ہیں۔ دکان دار جھوٹ بول کر اشیاء فروخت کرتے ہیں۔ تقریبات، کسی خوشی، تہوار کے موقعے پر بھونپو/باجے بجا بجا کے عوام کو پریشان کیا جاتا ہے۔ لوگ گھروں کا کچرا سڑکوں پہ پھینک دیتے ہیں۔ جگہ جگہ پان کی پیکوں کی گل کاریاں دکھائی دیتی ہیں۔ اور یہ ناخواندہ افراد کی نہیں، معزز پڑھے لکھے لوگوں کی بات ہو رہی ہے، جو سماج میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔

وجہ دراصل یہ ہے کہ اپنی زندگی کے کم و بیش چودہ سال اسکولز، کالجز اور یونی ورسٹی میں گزارنے کے باوجود بھی ہم لوگ صرف کاغذ کی ڈگریاں ہی حاصل کرتے ہیں۔ حصولِ تعلیم برائے تربیت نہیں، برائے ڈگری ہے۔ تعلیمی اداروں میں سارا فوکس ’’اچھا انسان‘‘بننے کی بجائے، محض’’رٹو توتا‘‘بنانے پر ہوتا ہے۔ اخلاقی تربیت کو تو یک سرنظر انداز ہی کردیا جاتا ہے ۔ ایک چھوٹے سے بچّے کے کاندھے پر مَن بَھر وزنی بستہ ڈال کر اسے اوّل دِن بس یہی ذہن نشین کروایا جاتا ہے کہ اُسےہر صورت فرسٹ آنا ہے۔

اگر نمبر کم آگئے یا خدانخواستہ وہ فیل ہوگیا،تو بس لعنت ملامت کا سلسلہ شروع،جو آگے چل کر کئی نفسیاتی مسائل کا سبب بھی بن جاتا ہے۔ واضح رہے کہ ز ندگی کے ابتدائی برس انسان کی عُمر کا وہ نازک ترین دَور ہے کہ جس میں ساری توجّہ اُس کے کردار و اخلاق کی تعمیر پر مبذول کی جانی چاہیے، نہ کہ غیر ضروری دباؤ سےاُسے ذہنی مریض بنا دیا جائے۔اس ضمن میں حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ تعلیمی نظام میں سدھار کے لیے قابلِ عمل،

ٹھوس اقدامات کرے اور خاص طور پر موجودہ حکومت جس تبدیلی کے نعرے لگا لگا کر اقتدار میں آئی ہے، وہ تبدیلی تعلیمی نظام میں بھی لائے، تاکہ آنے والی نسل ہی سے کچھ خواندہ، باشعور افراد معاشرے کا حصّہ بن کر اُس کے سدھار میں اپنا کردار ادا کرسکیں۔


loading...