بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


وٹامن ڈی اور کیلشیئم کا جوڑ ہڈیوں کی کمزوری کا توڑ

  ہفتہ‬‮ 1 دسمبر‬‮ 2018  |  10:22

ہڈیاں انسانی جسم کا سب سے اہم حصہ ہیں۔ عمومی طور پر تو یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ہڈیاں کمزور ہونا شروع ہو جاتی ہیں،تاہم کبھی کبھی یہ شکایت نوجوان اور بچوں میں بھی ہوجاتی ہے۔ نامناسب غذا، سگریٹ نوشی اور غیر صحت مندانہ طرز زندگی وغیرہ ہڈیاں کمزور ہونے کی وجہ بنتی ہیں۔انسانی ڈھانچہ

ہڈیوں پر مشتمل ہوتاہے۔ ان ہڈیوں اور جوڑوں کو طویل عرصے تک تحفظ دینے کےلیے کیلشیئم ،وٹامن ڈی،پوٹاشیم اوردیگر مفید طاقتور غذائیں کھانے کے علاوہ بھی کچھ ایسے طرز عمل کی ضرورت ہوتی ہے جوآپ

کی ہڈیوں کو صحت مند رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔مثلاًآپ کو کچھ ایسی غذاؤں سے بچنا پڑے گا، جو ہڈیوں اور جوڑوں کو نقصان پہنچانے کا سبب بنتی ہیں۔کچھ غذائیں حدت یاسوزش پیدا کرتی ہیں، یا یوں کہیے کہ ہڈیوں سے کیلشیئم نکال لیتی ہیں اور کیلشیئم کا انجذاب روکتی ہیں۔

ہڈیوں کو مضبوط بنانے میں وٹامن ڈی اور کیلشیئم بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اگر ہم بچوں میں ہڈیوں کی کمزوری کا مسئلہ دیکھیں تو یہ انتہائی گھمبیرہے۔ اندازہ ہے کہ پاکستان میں تقریباً 40%بچے غذائی قلت کے باعث اپنی قدرتی بڑھوتری حاصل نہیں کرپاتے، جسے طبی زبان میں Stuntingکہا جاتا ہے۔ ایسے بچے وزن میں انتہائی کم اور قد میں چھوٹے رہ جاتے ہیں، نتیجتاً ایسے بچے اپنی زندگی کو کارگر اور پیداواری نہیں بناپاتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ماؤں کی غذاکا بھی خوب خیال رکھا جائے

اور جب ایک ماں حاملہ ہوجائے تو اسے اپنے علاوہ اپنے آنے والے بچے کی غذا بھی کھانی چاہیے۔ اس لیے ڈاکٹرز حاملہ ماؤں کو عمومی خوراک کے مقابلے میں مقدار میں زیادہ اور غذائیت سے بھرپور چیزیں کھانے کی ہدایت کرتی ہیںتاکہ ماں کے پیٹ سے ہی بچے کی ہڈیوں کی نشوونما بہتر طریقے سے ہونا شروع ہوجائے۔جیسا کہ ڈاکٹرز مشورہ دیتے ہیں ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے وٹامن ڈی اور کیلشیئم بنیادی اہمیت کے حامل ہوتے ہیں، تو آئیے ان دو وٹامنز کے بارے میں جانتے ہیں او رساتھ میں یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ وٹامنز ہم کن غذاؤں سے حاصل کرسکتے ہیں۔

وٹامن ڈیہو سکتا ہے آپ اچھی طرح سو رہے ہوں، اچھی خوراک کھا رہے ہوں، ورزش کر رہے ہوں لیکن زندگی کا ایک عنصر نظر انداز کر رہے ہوں جو بلند فشار خون (ہائی بلڈ پریشر) اور ذیابیطس کا امکان دو گنا سے بھی زیادہ تک بڑھا سکتا ہے۔ یہ عنصروٹامن ڈی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق دنیا میں اس وقت ایک ارب افراد وٹامن ڈی کی کمی کا شکار ہیں۔ہڈیوں کی صحت اور وٹامن ڈیوٹامن ڈی 3کاسب سے نتیجہ خیزاثر ہڈیوں کی صحت کو برقرا ر رکھنا ہے۔ وٹامن ڈی3کیلشیئم کے جذب ہونے کو بڑھاتا ہے، ہڈیوں کی صحت کے لئے کیلشیئم اور فاسفیٹ کی سطح کو قائم رکھتا ہے۔

وٹامن ڈی 3ناصرف ہڈیوں کی نشوونما کے لیے بلکہ یہ آسٹیوبلاسٹ اور آسٹیوکلاسٹ ہڈیوں کی دوبارہ تشکیل کیلئے بھی ضروری ہے۔ وٹامن ڈی 3کی کمی سے ہڈیاں پتلی، آسانی سے ٹوٹنے والی اور بے ڈھنگ ہوجاتی ہیں۔ اس کی کمی بچوں میں رِکٹس Ricketsاوبالغ افراد میں Osteomaiacia کا باعث بنتی ہے۔وٹامن ڈی کی کمی کے شکار لوگوں کو اکثر دھوپ میں زیادہ وقت گزارنے کا مشورہ دیا جاتا ہے، لیکن یہ بتانا ممکن نہیں ہو پاتا کہ آپ کو کتنا وقت دھوپ میں گزارنا چاہیے، کیونکہ دھوپ کی ضروری مقدار کا انحصار دوسری چیزوں پر بھی ہوتا ہے۔

ان میں آپ کی جلد کی رنگت، آپ کی جلد کا کتنا حصہ دھوپ میں ہے، سال کے کس وقت اور دن کے کس پہر آپ دھوپ سینک رہے ہیں، وغیرہ شامل ہیں۔ زیادہ تر تجویز کیا جاتا ہے کہ صبح 11 بجے سے سہ پہر3 بجے کے درمیان کا وقت دھوپ سینکنے کے لیے بہترین ہے۔ دوسرے عناصر جو وٹامن ڈی کی کمی کی وجہ بنتے ہیں، ان میں سبزیوں تک محدود خوراک بھی شامل ہے۔

— غذائی لحاظ سے کچھ مچھلیاں، بعض مچھلیوں کے جگر سے نکالا ہوا چرب دار تیل، انڈوں کی زردی اور ڈیری مصنوعات وٹامن ڈی حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔  ایسے تمام افراد جنہیں وٹامن ڈی کی کمی کا سامنا ہو، وہ روزانہ بھیڑ کے دودھ کا ایک گلاس صبح اور ایک گلاس شام پینا شروع کردیں۔ اسی طرح دیسی گھی بھی قدرتی طور پر وٹامن ڈی کا خزانہ مانا جاتا ہے۔دیگر غذاؤں میں آلو، پالک، کیلا، بادام، پستہ اور تازہ مکھن وغیرہ شامل ہیں۔ ان کا ترتیب سے استعمال کر کے بھی آپ وٹامن ڈی کی کمی سے چھٹکارا پاسکتے ہیں۔

کیلشیئم اور ہماری ہڈیاںصحت کا راز متوازن غذا اور جسمانی ورزش میں پوشیدہ ہے۔ ہماری غذا میں چند اشیاء کا استعمال نہایت ضروری ہے۔ مثال کے طور پر پروٹین، کاربو ہائیڈریٹ، وٹامن اور کیلیشیم کی ایک خاص مقدار جسمانی اور ذہنی صحت کے لیے ناگزیر ہے۔ انسانی ہڈیوں کے لیے وٹامن ڈی اور کیلشیئم بیک وقت ضروری ہیں۔ کیوں کہ وٹامن ڈی کے بغیر کیلشیئم بے کار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وٹامن ڈی کے بغیر کیلشیئم خون میں نہیں پہنچ پاتا۔ طبی ماہرین کی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کیلشیئم معدے میں اُس وقت تک سرائیت نہیں کر سکتا، جب تک اس کے ساتھ وٹامن ڈی استعمال نہ کیا جائے۔کیلشیئم اور وٹامن ڈی کا مرکب جوڑوں اور پٹھوں کے افعال کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎