بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


سنہ 536 تاریخ کا بدترین سال کیوں تھا؟

  پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018  |  14:00

انسان کی زندگی میں مشکل دور آتے رہتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کسی مشکل دور سے گزر رہے ہیں تو سوچیے کہ اگر آپ سنہ 536 میں رہ رہے ہوتے تو کیا ہوتا؟ہارورڈ یونیوسٹی میں قرونِ وسطیٰ کے تاریخ دان اور آثار قدیمہ کے ماہر مائیکل مک کارمک کہتے ہیں: ’دنیا کے ایک بڑے حصے میں یہ تاریخ کے بدترین سالوں میں سے ایک

تھا۔‘مائیکل مک کارمک نے جریدے سائنس میں لکھا: ’یورپ میں پراسرار سی دھند پھیل گئی، مشرق وسطیٰ اور ایشیا کے چند حصے 18 ماہ تک مسلسل اندھیرے میں ڈوب گئے۔‘ںسال 536 کے موسم

گرما میں درجہ حرارتسیلسیئس سے لے کرسیلسیئس تک گر گیا۔ یہ گذشتہ 2300 سالوں میں سب سے سرد عشرہ تھا۔ اس موسم گرما میں چین میں برف باری ہوئی، فصلیں تباہ ہو گئیں، اور لوگ بھوکوں مرنے لگے۔آئرلینڈ کی تاریخ میں درج ہے کہ سال 536-539 میں ’روٹی ملنا ناممکن‘ بن گیا تھا۔پھر سال 541 میں مصر کے ساحلی شہر الفَرَما میں گِلٹی دار طاعُون پھیل گیا۔مک کارمک کہتے ہیں کہ اسے ’طاعون جسٹینین‘ کہا جانے لگا

جو تیزی سے پھیلا اور اس کے نتیجے میں رومن سلطنت کی آدھی سے لے کر ایک تہائی تک کی آبادی شکار ہو گئی اور یہی سلطنت کے ٹوٹنے کی وجہ بھی بنی۔لیکن آخر ان تباہ کن سلسلہ وار واقعات کی وجہ کیا تھی؟تاریخ دانوں کو ایک طویل عرصے سے معلوم تھا کہ چھٹی صدی کا وسط تاریک ترین دور تھا جسے ’ڈارک ایجز‘ کہا جاتا ہے، لیکن وہیں پراسرار بادلوں کی وجہ ایک طویل عرصے تک پہیلی بنی رہی ہے۔

اب ہارورڈ یونیورسٹی انیشی ایٹیو فار دی سائنس آف دی ہیومن پاسٹ کے محققین کو سوئس گلیشیئر سے حاصل کردہ برف کے ٹکڑے کے باریک بینی سے کیے گئے تجزیے سے وضاحت ملی ہے۔سال 536 کی بہار میں پڑنے والی برف میں آتش فشانی شیشے کے دو انتہائی چھوٹے ذرات پائے گئے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت آئس لینڈ یا شاید شمالی امریکہ میں آتش فشاں پھٹا تھا، جس کی وجہ سے نصف شمالی کرۂ ارض پر راکھ پھیل گئی تھی۔

محققین کے خیال میں یہ آتش فشانی دھند سرد موسم کے ہمراہ ہواؤں کے ساتھ یورپ اور بعد میں ایشیا میں پھیل گئی۔اس کے بعد 540 اور 547 میں دو مزید بڑھے آتش فشاں پھٹے۔بار بار آتش فشاں پھٹنے اور اس کے بعد طاعون کی وجہ سے یورپ معاشی جمود کا شکار ہو گیا جو ایک صدی یعنی 640 سنہ عیسوی تک اس سے نکل نہیں سکا۔اس سال کی برف سے عندیہ ملتا ہے کہ قرونِ وسطیٰ کی معیشت بہتر ہونا شروع ہو گئی۔محققین کو شواہد ملے ہیں کہ فضا میں موجود سیسہ گلیشیئرز میں منجمد ہو گیا، جس کی وجہ سے چھٹی صدی میں چاندی کی کان کنی میں جو تنزلی آئی وہ دوبارہ سے بہتر ہو گئی۔

اسی طرح سے سیسے کی پیداوار میں دوبارہ 660 میں بہتری آئی، اور قرونِ وسطیٰ کی ابھرتی معیشت میں چاندی شامل ہو گئی۔قرونِ وسطیٰ اور رومن تاریخ دان کائل ہارپر کا کہنا ہے کہ قدرتی آفات اور برف میں منجمد انسانی آلودگی سے ’ہمیں انسانوں اور قدرتی آفات کے درمیان ایسا ربط ملتا ہے جس سے رومن سلطنت کی تنزلی کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے اور نئی قرون وسطیٰ کی معیشت کے ابتدائی آثار بھی ملتے ہیں۔‘


loading...