Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پُرانی ریت روایات پلٹ نہیں سکتیں

  پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018  |  14:12

ایک جگہ کہیں پڑھا تھا،’’بڑے بزرگ کیا رخصت ہوئے، لگتا ہے سب کچھ ساتھ ہی لے گئے‘‘۔اور یہ حقیقت بھی ہے کہ تیزی سےگزرتے وقت نے ہم سے کیاکچھ نہیں چھین لیا، جیسے ہماری عمدہ اقدار اور روایات، اچھے رویّے، عادات،خُوب صُورت رشتے ناتے اور بھی نہ جانے کیا کیا کچھ۔ پہلے ہمارے پاس اپنوں کے لیے وقت ہوتا تھا۔

مصروف زندگی سے چند گھنٹے نکال کر عزیز و اقارب اور محلّے داروں کی خیر خیریت دریافت کرلی جاتی تھی، تو کسی مریض کی عیادت بھی کرلیتے تھے۔مگر اب صرف ایک ٹیلی فون کال کرکے

یا محض میسیج ہی کے ذریعے مزاج پُرسی کر لی اور حقِ بندگی ادا ہو گیا۔پہلے کبھی بچّوں کو یہ تعلیم دی جاتی تھی کہ خاندان کے افراد ہی نہیں، محلّے داروں، حتیٰ کہ راہ چلتوں کو بھی سلام کریں، اس طرح معاشرے میں سلامتی کا پیغام عام ہوتا تھا۔لیکن اب اس اہم اسلامی معاشرتی قدر کو بھی تقریباً فراموش کردیا گیا ہے۔

اب بچّے، عزیز رشتے داروں کو تو بادلِ نخواستہ سلام کی زحمت کر ہی لیتے ہیں، لیکن محلّے کے بزرگوں کے سامنے سے بڑی ڈھٹائی سے گزر جاتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے سامنے سگریٹ، پان گٹکے کا استعمال کرتے ہوئے بھی کوئی ندامت محسوس نہیں کرتے۔کبھی سب گھر والے ایک ساتھ بیٹھ کر چھوٹی چھوٹی خوشیاں، دُکھ درد آپس میں بانٹتے تھے،لیکن اب دِل کی باتیں فیس بُک، واٹس ایپ وغیرہ پر ہونے لگی ہیں۔حالاں کہ اہلِ خانہ جسمانی طور پر ایک ہی گھر میں موجود ہوتے ہیں۔

اسی طرح پہلے اگر کسی خوشی یا غم کے موقعے پر عزیز و اقارب کسی ناراضی یا تکلیف کی وجہ سے شریک نہ ہوتے، تو انہیں منانے اور راضی کرنے کی کوششیں کی جاتیں۔بڑے بزرگ معافی تلافی کے بعد انہیں منا کر لے آتے،لیکن اب اس تردّد کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیںکی جاتی- ہمارے بچپن میں جب بھائی کو دہی یا نہاری وغیرہ لینے بازار بھیجا جاتا تھا، تو ساتھ ایک اسٹیل یا المونیم کا چھوٹا برتن ضرور دیتے۔ وجہ یہ تھی کہ ایک تو گرد و غبار اور جراثیم سے شے محفوظ رہے،دوم، چیزیں نمایش کرکے نہیں لائی جائیں۔

گھر کی بزرگ خواتین روٹی لینے بھیجتیں، تو خاص طور پر رومال ساتھ دیتیں۔خیال ہوتا تھا کہ یوں شاپر میں روٹی لانے سے رزق کی بے ادبی ہوتی ہے۔اسی طرح گھر کا سوداسلف لانے کے لیے بھی کپڑے کے تھیلے سیے جاتے تھے،تاکہ نادار افراد احساس کم تری کا شکار نہ ہوں۔محلّے داروں حتیٰ کہ ایک ہی گھر کے مختلف پورشنز میں رہنے والے بھی ایک دوسرے کو کھانا خوان پوش سے ڈھک کر دیا کرتے۔ اب نام لو، تو پہلے خوان پوش کا مطلب سمجھانا پڑے گا۔ پھر گھر کے آئینوں پر پردہ ڈال کر رکھا جاتا تھا۔

بزرگوں کا کہنا تھا کہ آتے جاتے آئینے پر نظر نہیں پڑنی چاہیے، اس سے خود پسندی کی عادت پیدا ہوتی ہے۔کہیں باہر سے آتے یا جاتے، تو گھر کے بڑے گلی میں شور نہیں مچانے دیتے تھے، خاص طور پر رات کو گاڑی سے اُترنے سے پہلے تاکید کی جاتی کہ گاڑی کا دروازہ بالکل آرام سے بند کرنا،تاکہ ایک تو کسی کی نیند خراب نہ ہو، دوسرا ہر طرح کی نظر سے محفوظ رہیں، کیوں کہ فیملی اکھٹے باہر نکلتی ہے،

تو سو طرح کی نظریں پڑتی ہیں۔آج ایسی باتیں کریں، تو لوگ ہنستے، مذاق اُڑاتے ہیں۔پہلے وقتوں میں گھر کے دروازے پر پردہ ڈالا جاتا تھا، تاکہ دروازہ کھلتے ہی باہر والوں کی نظر نہ پڑے۔گھر کی بہو، بیٹیاں بھی گھروں میں قرینے سے سر پر دوپٹا اوڑھے رکھتی تھیں، تاکہ باپردہ رہیں۔اب تو سرے سے دوپٹا ہی غائب ہورہا ہے۔اگرچہ فیشن کے طور پر عبایا پہننا عام ہے۔کسی زمانے میں اسے برقع کہا جاتا تھا،لیکن اب اس برقعے کو بھی ایک برقعے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے۔پُرانے وقتوں میں بیٹیاں،

 باپ سے ایک حد تک بے تکلف ہوتی تھیں کہ ماؤں کا کہنا ہوتا کہ باپ بیٹی، بہن بھائی میں بھی پردہ ہوتا ہے، جو قائم رہنا چاہیے، لیکن اب بےتکلفی کا یہ عالم ہے کہ ساتھ بیٹھ کر بے ہودہ ڈرامے اور فلمیں دیکھی جاتی ہیں۔اگر سمجھاؤ، تو جھٹ کہا جاتا ہے کہ یہ پُرانے زمانے کی فرسودہ باتیں ہیں، اب وقت بدل گیا ہے۔مانا کہ بزرگوں کی قائم کردہ یہ ریت روایات، اقدارپلٹ نہیں سکتیں، لیکن جو چند باقی رہ گئی ہیں،

خدارا ان ہی کا بھرم رہنے دیں۔انھیں ان کی اصل روح کے مطابق زندہ رکھنے کی کچھ سعی تو کریں۔اور کچھ نہیں، تودِن میںچند گھنٹوں کے لیے موبائل فون بالکل بند کرنے کی عادت ہی اپنالیں۔ضروری نہیں کہ چوبیس گھنٹے فیس بُک،واٹس ایپ پر لاگ اِن رہا جائے۔ایک وقت مخصوص کریں اور اُس میں تمام پیغامات،نوٹی فیکشنز چیک کرکے بقیہ وقت کے لیے موبائل سائلنٹ کردیں۔گھر اور اہلِ خانہ سے قربت بڑھے گی، تو خالص اقدار و روایات کے احیاء کی بھی کوئی نہ کوئی صورت ضرور بننے لگے گی