بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


بچوں کو دی جانے والی مضر صحت غذائیں

  پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018  |  14:33

دنیا بھر کے بچوں میں بہت سی خطرناک بیماریاں پھیل رہی ہیں جن کی وجہ روز مرہ زندگی میں چینی کا زیادہ استعمال ہے۔اسی بات کو مدد نظر رکھتے ہوئےاور اس کی روک تھام کے لئےانگلینڈ کے  ایک سرکاری ادارے’ پبلک ہیلتھ انگلینڈ’ نے ایک مہم کا آغاز کیا۔جس کے ذریعے والدین کو یہ بتایا گیا کہ انہیں اپنے بچوں کو روزانہ

کتنی مقدار میں کیلوریز کا استعمال کرنے دینا چاہئے۔اس مہم کا نام  change4life تھااور اس کامقصد والدین کواس بات سے آگاہ کرنا تھا کہ روز مرہ زندگی میں شوگر کا زیادہ استعمال بچوں کے لئے

نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اس مہم میں یہ بھی بتایا گیا کہ بچو ں کو کم سے کم دو ایسے اسنیکس دینے چاہئیے جن میں سے ہر ایک میں 100 کیلوریز موجود ہوں ،اس میں پھل اور سبزیاں شامل نہ ہوں۔

اس آٹھ ہفتوںپر مشتمل مہم میں والدین میں فری واؤچرزبھی تقسیم کیے گیے جس سے وہ  سپر مارکٹس  میں جاکر  مالٹ لوف ، کم چینی والی دہی اور بغیر چینی کے مشروبات خرید سکتے تھے۔اس آفر کو مزید دلچسپ بنانے کے لئےاس  میں اور بھی چیزوں کو شامل کیا گیا ۔

والدین کچھ مخصوص سپر مارکٹس میں جاکرفری واؤچرزکے زریعے پھل ،سبزیاں،بغیر چینی والی جیلی اور سادے چاول بھی خرید سکتےتھے۔پبلک ہیلتھ انگلینڈ کے نیشنل ڈائٹ اور نیوٹریشنل سروے کے مطابق انگلینڈ میں موجود چار سے دس سال کے بچے  اپنی روز مرہ کی زندگی میں  غیر تندرست اشیاء  جس میں کیکس، بسکٹس،بنز،ٹافیاں اور جوس وغیرہ شامل تھے ان کے زریعے  51 اعشاریہ 2 فیصد شوگر کا استعمال کر رہے تھے۔

جبکہ اسکول جانے والے بچے  دن میں کم سے کم تین ایسی اشیاء کا استعمال کرتے ہیں جن میں اضافی مقدار میں شوگر موجودہوتی ہے۔اس مہم کے زریعے والدین کو اس بات کا احساس دلایا گیا کہ ان کے بچے   تجویز کی گئی مقدار سے تین گنا زیادہ شوگر کا استعمال کر رہے ہیں۔