بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


لڑکی کو اپنا دیس چھوڑنا پڑا

  پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018  |  23:28

میری چھوٹی خالہ حیدرآباد میں رہتی تھیں۔ 1970ءکا زمانہ تھا۔ امن و امان کا ماحول تھا، خالو کا اپنا چلتا کاروبار تھا۔ اُن کی دو بیٹیاں تھیں۔ بڑی کا نام زبیدہ اور چھوٹی کا مریم۔ گھر میں کُل چار افراد تھے، مالی خوش حالی تھی۔ زبیدہ بے حد حسین لڑکی تھی، گریجویشن کرچکی تھی، جب کہ مریم میٹرک میں تھی۔ میں اپنی والدہ اور تین بہنوں

کے ساتھ کراچی میں رہتا تھا۔ خالہ ہم سب سے بہت محبت کرتی تھیں۔ ایک روز ایک قریبی رشتے دار کی شادی میں شرکت کے لیے حیدر آباد جانا ہوا، تو ہم سب خالہ کے

گھر ٹھہرے۔ شادی والا گھر چند محلّے چھوڑ کر تھا۔ اُن دنوں گھر کے باہر شامیانہ وغیرہ لگانے کا رواج عام تھا۔ شادی کی تقریب کے بعد واپسی میں خاصی دیر ہوگئی اور کافی دیر انتظار کے بعد کوئی سواری نہ ملی تو، پیدل ہی روانہ ہوگئے۔

زبیدہ ذرا تیز چل رہی تھی، اس کے آگے چند قدم کے فاصلے پر ایک گھنا نیم کا درخت تھا، اس نے جب دیکھا کہ ہم کافی پیچھے رہ گئے ہیں، تو بھاگ کر اس درخت تلے جاکر کھڑی ہوگئی اور ہمارا انتظار کرنے لگی۔ ہمیں وہاں پہنچنے میں چند منٹ لگے تھے۔ ہمارے پہنچتے ہی زبیدہ نے ایک چیخ ماری اور گرگئی۔ خالو نے بھاگ کر اسے اٹھایا، اس کے گالوں کو تھپتھپایا، مگر اس کی بے ہوشی نہیں ٹوٹی۔

سنسان جگہ تھی، بڑی مشکلوں سے خالو اسے اٹھا کر گھر آگئے۔ اس موقعے پر خالہ سمیت ہم سب کی پریشانی دیدنی تھی۔ گھر پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد ہی زبیدہ کو ہوش آگیا۔ خالہ اور امّی مسلسل قرآنی آیات پڑھ کر اس پر پھونک رہی تھیں۔ ہوش آنے کے بعد اس نے حیرت سے ہم سب کو دیکھتے ہوئے پوچھا کہ ’’میں گھر کیسے پہنچی؟‘‘ خالہ نے شفقت و محبت سے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے بتایا کہ

’’تم ٹھوکر کھا کر گرگئی تھی اور بے ہوش ہوگئی تھی۔‘‘ خالہ کی بات سن کر اس نے اِدھر اُدھر نظریں گھمائیں اور منہ پھیر کر سوگئی۔ صبح اٹھی، تو پہلے کی طرح ہشاش بشاش تھی، مگر چہرے پر ہلکی سی زردی تھی۔ ہمیں بھی چوں کہ دوسرے روز گھر لوٹنا تھا، اس لیے ناشتے کے بعد کراچی روانہ ہوگئے اور گھر پہنچ کر اپنے اپنے معمولات میں مصروف ہوگئے۔ اُس زمانے میں فون ک سہولت عام نہ ہونے کے باعث تین چار ماہ تک خالہ کے گھر کی خیریت معلوم نہ ہوسکی۔ایک روز خالو نے میرے دفتر فون کیا اور سلام دعا کے بعد بتایا کہ

’’ہم آٹھ دس روز کے لیے تم لوگوں کے پاس کراچی آرہے ہیں۔‘‘ میں بہت خوش ہوا کہ وہ کافی عرصے بعد کراچی آرہے تھے۔ گھر جاکر یہ خوش خبری امّی اور بہنوں کو سنائی، تو وہ بھی خوش ہوگئیں۔ پھر اسی روز سہ پہر کو خالو جی، خالہ اور دونوں بچّیوں کے ساتھ ہمارے گھر آگئے۔ ان کے چہروں پر چھائی اداسی سے ہمیں اندازہ ہوگیا کہ وہ کچھ پریشان ہیں۔ کھانے سے فراغت کے بعد امّی نے زبیدہ کی طبیعت کے بہانے اُن کی پریشانی معلوم کرنے کی کوشش کی، توخالو نے ہمیں جو واقعہ سُنایا، وہ ہمارے لیے ناقابلِ فہم تھا،

انہوں نے بتایا کہ’’اُس روز شادی کی تقریب سے واپسی پر جس طرح زبیدہ بے ہوش ہوئی اور اگلے روز نارمل ہوگئی، تو اسے ڈاکٹر کے پاس لے جانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی، لیکن پھردو ہفتے بعد اچانک مالکِ مکان نے ہمیں مکان خالی کرنےکا نوٹس دے دیا۔ حالاں کہ ہم اس گھر میں کرایے دار کی حیثیت سے برسوں سے رہ رہے تھے۔ بہرحال، میں نے نئے گھر کے لیے تلاش شروع کردی، مگر اتنی جلدی گھر ملنا مشکل تھا۔ ایک دن میں نماز پڑھ کر مسجد سے نکلا، تو ایک اجنبی نے مجھے سلام کیا اور کہنے لگا۔

’’سُنا ہے آپ کو کرایے کے لیے نئے گھر کی تلاش ہے؟‘‘ اندھے کو کیا چاہیے، دو آنکھیں۔ میں نے اسے پہلے کبھی مسجد میں نہیں دیکھا تھا، حیرت اور تجسّس سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا تو، وہ مجھے پتا سمجھاکر چلا گیا۔ اگلے روز اس پتے پر گیا اور بغیر کسی دشواری کے مکان حاصل کرنے میں کام یاب ہوگیا۔ وہ تین کشادہ کمروں اور بڑے سے صحن والا گھر تھا۔ صحن میں ایک گھنا درخت تھا۔ مکان میں شفٹ ہونے کے بعد صبح سویرے صحن کی صفائی کرتے وقت تمہاری خالہ کو اس درخت کے نیچے ایک روپے کا نیا چمک دارسکّہ ملا، جو انہوں نے اٹھاکر اپنے پاس رکھ لیا اور خرچ نہیں کیا،

مجھے بھی نہیں بتایا۔ اگلے روزپھر انہیں ایسا ہی سکّہ ملا، اس کے بعد شام کو بھی متواتر سکّے ملنے لگے، تو تمہاری خالہ نے بالآخر وہ سکّے مجھے دکھا کر ساری صورتِ حال بتادی۔ ساتھ ہی بتایا کہ’’ زبیدہ کی حالت بھی کچھ ٹھیک نہیں لگ رہی، وہ سرِ شام کمرے کا دروازہ بند کرلیتی ہے اور آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے کھولتی ہے۔‘‘ میں نے سوچا کہ لڑکی ذات ہے، کوئی مسئلہ نہ ہوجائے۔ کسی عامل سے مشورہ کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔ مجھے ایک عالم ِدین سے روحانی عقیدت رہی تھی۔ ان سے جاکر ملا۔ وہ میرے ساتھ گھر آگئے۔ گھر کے چپّے چپّے کا معائنہ کرکے صحن میں آئے، تو اُن کی نظریں صحن کے درخت میں الجھ کر رہ گئیں۔

اسی دوران میری بیوی نے سکّے لاکر ان کے سامنے رکھ دئیے۔ ان کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا، پھر زبیدہ کو بلا کر اس سے چند سوالات پوچھنے کے بعد اسے اندر بھیج دیا اور مجھ سے پوچھا، ’’بچّی پر پہلا دورہ کب اور کہاں پڑا تھا؟‘‘ میں نے تفصیل بتائی، تو انہوں نے وہ درخت بھی دیکھنے کی خواہش ظاہر کی۔ میں انہیں لے کر گھر سے نکلا، تو مجھ پر انکشاف ہوا کہ وہ گھنا درخت ہمارے اس نئے گھر سے آدھ فرلانگ سے بھی کم فاصلے پر تھا۔ عالمِ دین نے اس درخت کا معائنہ کیا اور مجھ سے پوچھا،

’’آپ نے یہ مکان کس کے مشورے پر کرائے پر لیا تھا؟‘‘ میں نے مسجد کے باہر ملنے والے اجنبی شخص کے بارے میں بتادیا۔ انہوں نے توجّہ سے میری باتیں سُننے کے بعد پورے تیقّن سے کہا کہ’’ آپ کی صاحب زادی پر کوئی جن مہربان ہوگیا۔ جوان لڑکیوں کو سج دھج کر اور خوشبو وغیرہ لگا کرآدھی رات کو گھروں سے باہر گھومنے پھرنے سے اسی لیے روکا جاتا ہے کہ اس طرح کی مخلوق اکثر راتوں کو اِدھر اُدھر گھومتی پھرتی ہے، بہرحال مَیں چند روز بعد ہی اس کے بارے میں حتمی طورپر کچھ بتاسکوں گا کہ وہ کیا چاہتا ہے۔ آپ نے اس کے دئیے ہوئے سکّے استعمال نہ کرکے اچھا کیا۔‘‘عالم مجھے تسلّی دے کر چلے گئے۔

تین دن بعد وہ دوبارہ آئے اور ہمیں کچھ وظائف بتاکر کہا کہ انہیں باقاعدگی سے پڑھتے رہیں، اللہ تعالیٰ بہتر کرے گا۔ وہ اب تنگ نہیں کرے گا۔ ہم مطمئن ہوگئے۔ سکّے آنا واقعی بند ہوچکے تھے، مگر پھر ایک نئی اُفتاد شروع ہوگئی، گھر کا سامان غائب ہونے لگا۔ کبھی بالٹی، کبھی لوٹا اور کبھی گھر کی دیگچی اچانک غائب ہوجاتی۔ باورچی خانے میں بلّی کے گزر کا کوئی راستہ نہیں تھا، مگر کچن کا کوئی نہ کوئی برتن یا چاول، دال اور چینی وغیرہ ڈبوں سے غائب ہونے لگے۔ادھر زبیدہ بھی گم صم رہنے لگی تھی،

اسے دوبار بے ہوشی کا دورہ بھی پڑ چکا تھا۔ میں نے تنگ آکر پھر اسی عالمِ دین سے رجوع کیا، تو انہوں نے تسلّی دی کہ وہ جو بھی مخلوق ہے، ہمیں نقصان نہیں پہنچائے گی، کیوں کہ وظائف کی وجہ سے وہ حصار میں قید ہوچکی ہے۔ اتفاق سے اُن ہی دنوں بھارت سے بڑے بھائی کی طبیعت کی خرابی کا فون آگیا۔ میں نے سوچا کہ کچھ عرصے کے لیے بھائی کے پاس چلے جانا چاہیے، جس روز میں نے بھارت جانے کی تیاری شروع کی، زبیدہ کی حالت دگرگوں ہونے لگی۔ میری کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا

کہ اس صورتِ حال کا کیسے مقابلہ کروں، مگر پھر کل صبح پیش آنے والے واقعے نے میری یہ مشکل آسان کردی۔ میں باہر جانے کی تیاری کررہا تھا، تمہاری خالہ ناشتا بنانے کچن میں گئیں، تو دروازے ہی پر انہیں گھی کا برتن گرا ہوا نظر آگیا۔ گھی بند الماری میں رکھا ہوا تھا، جو گرنے کے بعد فرش پر بہنے لگا۔ باورچی خانہ چاروں طرف سے بند تھا۔ یہ دیکھ کر وہ ڈر گئیں، مجھے آواز دی، میں کپڑے بدل رہا تھا۔ کپڑے بدل کر باورچی خانے پہنچا، تو انہوں نے فرش کی طرف اشارا کیا۔ میں نے گھی بہتا ہوا دیکھا، تو یہ سمجھا کہ ان کے ہاتھ سے برتن گرگیا ہوگا، میں نے احتیاط کرنے کا مشورہ دیا، تو وہ جھنجلا کر بولیں

’’یہ میں نے نہیں کیا، ہم پر کوئی نئی آفت آنے والی ہے۔‘‘ بہرحال، ناشتے کے بعد انہیں تسلّیاں دے کر میں دکان پر چلا گیا۔ پریشانی میں بھوک اُڑ گئی تھی۔ مغرب کے بعد دکان بند کرکے گھر آیا، بیوی نے کھانے کا پوچھا، تو میں نے کہا کہ ایک گلاس دودھ گرم کرکے لے آئو، کھانا نہیں کھائوں گا۔ وہ باورچی خانے میں چلی گئیں۔ میں اُن کے پیچھے چلا گیا کہ وہیں بیٹھ کر دودھ پی لوں گا۔ انہوں نے دودھ کی پتیلی ہلکی آنچ پر رکھی اور مجھ سے باتیں کرنے لگیں، میری توجّہ باتوں کی طرف تھی کہ معاً کھٹکا سا ہوا۔ ہم دونوں نے چولہے کی طرف بہ یک وقت دیکھا اور ہماری آنکھیں یہ منظر دیکھ کر کُھلی کی کُھلی رہ گئیں

کہ دودھ کی دیگچی آہستہ آہستہ چولہے سے اوپر اٹھ رہی تھی، وہ تقریباً ایک فٹ تک کسی سہارے کے بغیر اٹھی، خوف کے عالم میں، مَیں نے تمہاری خالہ کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹا اور اس سے پہلے کہ ہم وہاں سے بھاگتے، دیگچی جیسے تیرتی ہوئی عین اسی جگہ گری، جہاں تمہاری خالہ چند لمحے پہلے کھڑی تھیں۔ ہم دونوں گرتے پڑتے بچّیوں کے کمرے کی طرف بھاگے۔ کچھ دیر بعد گھر میں دھواں بھرنے لگا۔ میں نے گیس کا والو بند کردیا، مگر دھواں بڑھتا ہی رہا۔ باورچی خانے کی طرف جانے کی ہمّت نہ ہوئی، باہر سے چائے ناشتا منگوایا اور پھر میں نے تمہارے دفتر فون کرکے کراچی آنے کی اطلاع دی۔ جلدی جلدی ضروری سامان پیک کیا

اور دکان ایک دوست کی نگرانی میں دے کر کراچی آگئے۔ اب یہاں کچھ دن رُک کر ہم حالات کا جائزہ لینا چاہتے ہیں تاکہ اس کی روشنی میں منصوبہ بندی کی جائے۔‘‘خالو نے یہ کہانی سُناکر ہمیں پریشان کردیا تھا، زبیدہ کو دیکھ کر دُکھ محسوس ہوا کہ بے چاری کس مصیبت میں گرفتار ہوگئی تھی۔ خالو اور خالہ کا خیال تھا کہ کراچی آنے کے بعد وہ نادیدہ قوت اس کا پیچھا چھوڑ دے گی، لیکن یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ ہمارے گھر آنے کے بعد پہلی ہی رات دو بجے کے قریب اس کی چیخوں سے سارا گھر گونجنے لگا۔

ایسا لگ رہا تھا، جیسے اسے کوئی ذبح کررہا ہو۔ پوری رات ہم سب جاگتے رہے، وہ کبھی پُرسکون ہوجاتی اور کبھی تڑپنے لگتی۔ صبح خالو نے بھارت جانے کا فیصلہ کرکے جلدی جلدی پاسپورٹ اور ویزے کا کام مکمل کروایا۔ ایک ماہ کے اندر سارے انتظامات مکمل ہوگئے اور وہ سب بھارت چلے گئے۔ خالو نے زبیدہ کی چند ہفتوں بعد اپنے بھائی کے بیٹے سے شادی کردی، جو پڑھا لکھا ہونے کے ساتھ ساتھ حافظِ قرآن بھی تھا۔ شادی کے بعد خالہ اور خالو تقریباً دو ماہ بعد مریم کے ساتھ پاکستان واپس آگئے۔ زبیدہ کے بارے میں بتایا کہ وہ کچھ روز ایک روحانی عامل کے زیرِ علاج رہی اور اب ماشاءاللہ اپنے شوہر کے ساتھ بھارت میں سُکھی زندگی گزار رہی ہے۔


دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎