بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


وقت ہی تو سب کچھ ہے

  پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018  |  23:34

’السلّامُ علیکم‘‘بڑے جوش سے سلام کیا گیا تھا۔’’وعلیکم السلّام‘‘دوسری جانب معمول کا انداز تھا۔’’کیسی ہو، کیا کر رہی تھیں؟‘‘پہلی آواز نے بڑے پیار سے پوچھا۔’’ہاں، ٹھیک ہوں، آپ کون…؟‘‘اب انداز میں ذرا سی الجھن تھی۔’’ارے مجھے نہیں پہچانا…؟؟‘‘ پہلی آواز میں تعجب شامل ہو چُکا تھا۔ ’’ہاں، وہ…مَیں پہچان نہیں پا رہی

ہوں۔‘‘لہجے میں ہلکی سی شرم ساری دَر آئی تھی۔ ’’کیسی بے وفا سہیلی ہو، اتنی جلدی بھول بھی گئیں۔‘‘’’ایسی کوئی بات نہیں، آواز جانی پہچانی ہے، بس نام یاد نہیں آرہا، آپ ہی اپنا نام بتا دیں۔‘‘ اب التجا کی جا رہی تھی۔’’واہ!

ایسے کیسے بتا دوں، ذرا ذہن پر زور تو ڈالیں۔ ویسے بھی ہمارے ملاقات کو، کوئی بیس، تیس سال کا عرصہ نہیں گزر گیا کہ تم بھلا ہی ڈالو۔ ذرا یادداشت کھنگالو،

یاد آ جاؤں گی۔‘‘ اب وہاں سے ’’بوجھو تو جانیں ‘‘کے کھیل کا آغاز ہو چُکا تھا(خواہ مخواہ اپنا اور اُس کا وقت ضایع کیا جارہا تھا۔ویسے بھی ہماری قوم کے پاس بے کار کاموں کے لیے بہت وقت ہے)’’بہت معذرت، لیکن واقعی مجھے یاد نہیں آرہا کہ آپ کون، ارے کہیں سمیرا تو نہیں…‘‘ اندازے سے کہاگیا، لیکن جواب میں ’’او…ہوں‘‘ سُنائی دیا۔’’شاہانہ، رابعہ…حرا‘‘وہ جلدی جلدی نام گنوا رہی تھی

کہ یہ پہیلی بوجھ لوں، تو بات کا سلسلہ آگے بڑھے، لیکن وہاں تو بڑے اطمینان اور سُکون سے بوجھنے اور سوچنے کا امتحان لیا جا رہا تھا۔’’ارے بھئی کتنی لمبی بات کروگی…؟‘‘ پیچھے سے میاں کی اُکتائے لہجے میں آواز سُنائی دی،’’چائے پک پک کر جوشاندہ بن جائے گی اور دودھ اُبل کر کہیں گر نہ جائے۔‘‘’’بس، آئی دو منٹ۔‘‘شوہر نامدار کو جواب دے کر موبائل کان سے لگالیا اور کہا،’’ اچھا سُنیں، بُرا مت منائیے گا، مَیں ابھی کچھ مصروف ہوں، آپ سے بعد میں بات کروں گی۔‘‘

اور گھبرا کر فون بند کردیا ۔ ’’ارے میری بات تو سُنو، مَیں…سُندس…‘‘ دوسری طرف سے چلّا کر کہا گیا، لیکن نام سُننے سے پہلے ہی لائن کٹ چُکی تھی۔اس تجربے سے یقیناً آپ بھی کبھی نہ کبھی ضرور گزرے ہوں گے۔ جب دوسری طرف سے یہ اصرار ہوتا ہے کہ اگر آپ کا حافظہ بہترین ہے یا پہچان پر ہے ناز، تو پہچان جائیے۔اب دوسرا اس پہچان میں کتنا ہی اُلجھتا رہے، اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔وہاں سے تو محض آپ کی یادداشت کا امتحان لے کر لطف اندوز ہواجارہا ہوتا ہے اور دوسرا ، اگر مروّت کا مارا ہے،

تو اس کھیل میںبنا مرضی شریک ہو کر بھی خود ہی اپنی ہار قبول کر لیتا ہے۔تب کہیں جاکر اپنا تعارف بطور احسان کروایا جاتا ہے۔یہی نہیں، دوسرے کو اس احسان مندی کے بوجھ تلے دبا کر طنزاً مُسکرایا بھی جاتا ہے، جیسے کوئی بہت بڑا کارنامہ انجام دیا ہو۔ افسوس، یہ نہیں سوچا جاتا کہ اس چکر میں آپ نے نہ صرف دوسرے کا، بلکہ خود اپنا بھی کتنا وقت گنوا دیا ہے۔ وہ وقت، جس کا لمحہ لمحہ قیمتی ہے، کیسی بے مصرف اور بے کارباتوں میں ضایع کر دیا جاتا ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ سلام کے ساتھ ہی اپنا نام بتا کر کام کی بات کی جائے۔

اپنے اردگرد رہنے والوں کی خرابیاں، کوتاہیاں، خامیاں گنوانے میں وقت ضایع کرنے کی بجائے فون کی ضرورت اور اہمیت کو سمجھتے ہوئے خیریت اور ضروری باتوں تک محدود کیا جائے۔یوںبھی اس جدید ٹیلی فون ٹیکنالوجی نے اسلامی معاشرے کی روایات و اقدار اور تہذیب و ثقافت پسِ پشت ڈالنے میں کوئی کسر نہیں اُٹھا رکھی،لہٰذا جتنی اور جس قدربھلائی ممکن ہوسکتی ہے،کم از کم اتنی تو ضرور ہمارے ہاتھوں انجام پانی چاہیے۔ذرّہ برابر ہی سہی کوشش تو کردیکھیں کہ قطرہ قطرہ مل کر ہی بالآخر دریا بنتا ہے۔اپنے اور دوسروں کے قیمتی وقت کو جس قدر محفوظ کرسکتے ہیں، ضرور کریں کہ روزِحشر اپنے اِک اِک عمل کا جواب دہ ہونا ہوگا۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎