بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


تیل: ایک سے بڑھ کر ایک

  پیر‬‮ 3 دسمبر‬‮ 2018  |  23:39

ازمنۂ قدیم ہی سے کئی اقسام کے تیل استعمال کیے جارہے ہیں، جو نہ صرف حُسن و خُوب صُورتی میں اضافے کا سبب بنتے ہیں، بلکہ کئی طبّی مسائل مثلاً بالوں کا جھڑنا، گنج پن وغیرہ کے علاج میں بھی فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔آج کل کے زیادہ تر افراد ان کے فوائد سے آگاہ نہیں کہ موجودہ دَور میں چند دِنوں میں رنگت نکھارنے، داغ دھبّے

دُور کرنے ،بالوں کے مسائل سے نجات کے لیے مہنگی سے مہنگی مصنوعات کے استعمال کا رجحان بڑھ گیا ہے،حالاں کہ ان کے مضر اثرات سے بھی انکار ممکن نہیں،جب

کہ روایتی تیل نہ صرف مضر اثرات سے پاک، بلکہ کم قیمت بھی ہیں۔ ذیل میں ہم چند خاص اقسام کے تیل سے متعلق معلومات فراہم کررہے ہیں۔Media player poster frame٭ روغنِ ملہ: بالوں کے لیے بےحد مفید ہے۔خشکی، سِکری اور گنج پَن دور کرتا ہے۔اگر حسبِ ضرورت آملہ پیس کر رات بَھر پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور صُبح اس سے بال دھو لیے جائیں،

 تو نہ صرف بالوں کی قدرتی سیاہی برقرار رہتی ہے،بلکہ بال گرنا رُک بھی جاتے ہیں۔٭روغنِ انڈا: انڈوں میں شامل وٹامن ای بالوں کی نشوونما کے لیے انتہائی مفید ہے۔اگر بال ہلکے، پتلے اور روکھے ہوں، تو ان کا بہترین علاج روغنِ انڈا کا استعمال ہے۔٭روغنِ السی: السی کا تیل جِلد اور دماغ کے لیے فائدہ مند ہے۔اگر چند قطرے چہرے پر لگا کر انگلیوں کی پوروں سے مساج کریں، تو داغ دھبّے دُور ہوجاتے ہیں۔چوں کہ السی کے تیل میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز پائے جاتے ہیں،

 تو یہ بالوں کو مضبوط بنانے کے ساتھ گرنے سے بھی روکتے ہیں۔٭روغنِ بادام: روغنِ بادام میں گوشت اور مچھلی سے زیادہ پروٹینز اور دودھ سے دگنی مقدار میں کیلشیم اور وٹامنز پائے جاتے ہیں، جو جسم کی نشوونما، خون کی کمی دُور کرنے سمیت ہڈیوں اور دانتوں کے لیے مفید ہیں۔٭روغنِ بادام تلخ: یہ تیل چہرے کی رنگت نکھارتا، داغ، دھبّے اور جھائیاں دُور کرتا ہے۔٭روغنِ پستہ: دودھ یا شہد میں روغنِ پستہ کے پانچ قطرے ملا کر پینے سے دِل و دماغ کو طاقت حاصل ہوتی ہے۔

علاوہ ازیں، اس کا باقاعدہ استعمال یادداشت بھی بہتر کرتا ہے۔٭روغنِ تِل: اس میں کئی ایسے مفید اجزاء مثلاً وٹامن بی، ای، میگنیشیم، کیلشیم اور فاسفورس پائے جاتے ہیں، جو بالوں اور سَر کی جِلد کے لیے فائدہ مند ہیں۔٭روغنِ سرسوں: سرسوں کے تیل سے بالوں کی مالش کرنا،نہ صرف بالوں، بلکہ دماغ کے لیے بھی اکسیر ہے۔٭روغنِ کدّو: حدیث شریف ہے کہ

’’کدّو دماغ کو طاقت وَر اور عقل میں اضافہ کرتا ہے۔‘‘اگر اس تیل کی سَر پر مالش کی جائے،تو دماغ کو تقویت ملتی ہے اور اگرپانی کے ساتھ استعمال کیا جائے،تو خون کا دباؤ نارمل ہوجاتا ہے۔٭روغنِ زیتون: حدیث مبارکہﷺ میں ہے کہ ’’زیتون کا تیل کھانے میں استعمال کرو اور اس سے جسم کی مالش کرو، کیوں کہ یہ صاف اور مبارک ہے۔‘‘ زیتون خشک جِلد کو نرم و ملائم کرتا اور چہرے کے رنگت نکھارتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎