بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


محبت میراث نہیں

  منگل‬‮ 4 دسمبر‬‮ 2018  |  11:13

کہیں گاڑیاں صاف کرتے، تو کہیں ہاتھوں میں کشکول تھامے، اللہ،رسول کے واسطے دیتے، سگنل پر پھول، غبارے، ٹشو پیپر بیچتے، تو کبھی بسوں اور ویگنوں میں صدقہ،خیرات مانگتے ایسے بچّے، وہ روزانہ دفتر جاتے اور واپس آتے دیکھتی تھی اور ہر بار وقت سے پہلے بڑے ہوجانے والے ان بچّوں کو دیکھ کر اُس کا دِل دُکھی

ہوجاتا تھا۔ اُسے احساس تھا کہ اِن میں سے زیادہ تر بچّے، کسی نہ کسی مجبوری کی بھینٹ چڑھے ہوں گے، جو آج اس طرح رُل رہے ہیں اور جس طرح کے حالات کا وہ شکار ہوتے

ہیں، اُن میں اچھے اور بُرے کی تمیز تقریباً ختم ہی ہوجاتی ہے۔ ان کے لیے تو بس روٹی کے چند ٹکڑوں کا حصول اور سانسوں کی ڈور کا چلتے رہنا ہی اوّلین ترجیح ٹھہرتا ہے، مگر یہ زندگی تو موت سے بھی بدتر ہے۔

جب کبھی وہ ایسے بچّوں کو دیکھتی، تو احساسِ تشّکر سے آنکھیں نم ہوجاتیں۔ پھر اُسے اپنی ماں کی قربانیاں یاد آنے لگتیں کہ کن حالات سے گزر کر ماں نے ان سب کے بہتر مستقبل کے لیے اپنا مَن مار لیا تھا۔ اُسے اچھی طرح یاد تھا، ابّا کی دوسری شادی اور ان سب کو چھوڑ کر چلے جانے کے بعد وہ سب بہن بھائی یک دَم ہی کیسے اپنی عُمروں سے کئی سال آگے بڑھ گئے تھے۔ حالات کی سنگینی کے احساس نے ان سب کو نہایت محتاط کردیا تھا۔ ہر لمحہ اِس احساس میں گِھرے رہتے کہ اب امّاں سے کوئی بے جا خواہش نہیں کرنی۔

کبھی کبھی تو اپنی جائز ضروریات کے مطالبے امّاں، ننھیال یا ددھیال کے سامنے رکھنے کی بجائے انہیں ترک کرنا ہی بہتر سمجھتے۔ ان سب کا یہ عمل اپنی عزّتِ نفس بچائے رکھنے کے لیے تھا، جو گھاٹے کا سودا ہرگز نہ تھا۔ یہ صبر و قناعت کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر اپنی خاندانی شرافت، انا اور خود داری بچائے رکھنے کی ایک جنگ تھی۔ وہ بھی یہ جنگ ہر قیمت پر لڑنے کے عزم کے ساتھ آگے بڑھی تھی، جس میں دِل لہو ہو، تو ہو، پر آنکھ نم نہیں ہونی چاہیے۔ بس، زندگی کے محاذ پر ڈٹے رہنا ہے، مشکلات سے گھبرانے کی بجائے مل جُل کر حل کی جستجو کرنی ہے۔ ہر روز زندگی کا اِک نیا سبق پڑھتے پڑھتے بالآخر وہ سب اپنے اپنے پیروں پر کھڑے ہوگئے۔

گو کہ ابّا سے دُوری کا قلق اپنی جگہ برقرار ہی رہا، مگر ان کی شخصیت میں پچھتاوے، ناکامی اور خود ترسی کے کسی احساس کا شائبہ تک نہیں تھا۔ اگر کچھ ہے، تو وہ خود اعتمادی ہے، اللہ سے شکووں کی بجائے پائے ثبات میں لغزش نہ آنے کا تشّکر ہے۔ انسان کتنے ہی امتحانات کا سامنا کرلے، اگر اس کے دِل میں دوسروں کا درد اور ان کے ساتھ نیکی کرنے کی توفیق باقی ہے، تو یقیناً اللہ بھی اُس سے راضی ہے۔ جوں ہی گاڑی ایک جھٹکے سے رُکی، تو خیالات کا بھی تسلسل ٹوٹ گیا اور وہ جلدی سے اُتر کر گھر کی جانب چل دی۔ گھر پہنچی، تو شہلا اُس کے بچپن کی سہیلی اپنی امّی کے ساتھ آئی ہوئی تھی۔ امّاں کے ہاتھ میں شہلا کی شادی کا کارڈ دیکھ کر وہ خوشی سے نہال ہوگئی۔

کارڈ کھول کر پڑھا، دولھا کے نام پر تھوڑی دیر رُکی، پھر شہلا کو تنگ کرنے لگی اور بولی، ’’تمہیں شادی کی بہت جلدی ہے؟‘‘ اس سے پہلے کہ شہلا کچھ بولتی، اُس کی امّی نے ہنستے ہوئے کہا، ’’سجیلہ بیٹی! اِسے نہیں، لڑکے والوں کو جلدی ہے۔ پھر آج کل اچھے لڑکے ملتے کب ہیں؟ ہم نے سوچا کہ خاندان بھی دیکھا بھالا ہے اور لڑکا بھی اچھا کماتا ہے، جتنی جلدی لڑکی کے فرض سے سبکدوش ہوجائیں، اچھا ہی ہے۔‘‘ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں، پھر شہلا شادی میں شرکت کا وعدہ لے کرچلی گئی۔

شادی والے روز، وہ شہلا کے شوہر کو دیکھ کر حیران رہ گئی کہ یہ تو وہی لڑکا تھا، جو اکثر اُس کے دفتر کی ساتھی، صدف کو لینے آتا تھا اور صدف نے اُسے بتایا تھاکہ یہ اُس کا کزن فراز ہے اور وہ ایک دوسرے سے شادی کرنا چاہتے ہیں۔ صدف کی گفتگو فراز سے شروع ہوکر اُسی پر ختم ہوتی تھی۔ اُس نے کبھی خود سےصدف کو کریدنے کی کوشش نہیں کی، بس جو اُس نے بتایا، وہ سُن لیا، لیکن اب اس اچانک پڑجانے والی اُفتاد پر وہ حیران و پریشان تھی، کیا کرے اور کیا نہ کرے۔

بہرحال، اُس نے چُپ رہنے ہی میں عافیت اور سب کی بھلائی جانی اور دِل میں پکا ارادہ کرلیا کہ وہ نہ شہلا کو کچھ بتائے گی اور نہ ہی صدف سے کچھ پوچھے گی۔تقریباً ایک ماہ بعد، شہلا کا فون آیا،تو اُس نے کہا کہ وہ امّی کے گھر آئی ہے اور وہ اُس سے فوراً ملنے آجائے۔ سو، شام میں وہ شہلا کے گھر چلی گئی۔ شہلا اُسے دیکھ کر کِھل اُٹھی۔ اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اُس نے شہلا سے کہا، ’’شہلا! ان سب باتوں کو چھوڑو، پہلے یہ بتائو کہ تمہارے میاں جی اور سُسرال والے کیسے ہیں؟‘‘

شہلا نے خوشی سے بَھرپور آواز میں کہا،’’ اللہ کا شُکر ہے، سب اچھے ہیں اور میرا بہت خیال بھی رکھتے ہیں۔‘‘پھر شہلا نے رازدارانہ انداز میں کہا، ’’ایک بات بتاؤں، فراز مجھ سے پوچھ رہے تھے کہ کبھی تمہاری زندگی میں کوئی شخص تو نہیں آیا تھا؟ تجھے تو پتا ہے سجیلہ، میری ایسی کوئی کہانی ہی نہیں تھی۔ مَیں نے بھی صاف صاف بتادیا کہ ایساکچھ نہیں۔پھر مَیں نے بھی ہمّت کرکے یہی سوال اُن سے پوچھا، تو انہوں نے سچ سچ بتادیا کہ ان کی زندگی میں ایک لڑکی تھی،

 جسے وہ پسند کرتے تھے، مگر شادی نہ ہوسکی، لیکن وہ ان کا ماضی تھا اور مَیں ان کا حال ہوں۔ سجیلہ یقین کرو، مجھے اُن کا سچ بولنا بہت اچھا لگا۔ اگر وہ چاہتے، تو جھوٹ بھی بول سکتے تھے کہ نہیں، کوئی لڑکی ان کی زندگی میں نہیں تھی۔‘‘شہلا کی یہ بات سُن کر اُسے ایسا لگا کہ جیسے اس وقت زندگی کے پھیلے ہوئے ہاتھ پر رکھنے کے لیے اُس کے پاس کچھ نہیں۔ نہ جانے کہاں سے امّاں کا چہرہ اُس کے سامنے آگیا، لیکن اُس نے اپنی تمام تر ہمتّیں مجتمع کرتے دِل ہی دِل میں فیصلہ کرلیا کہ وہ شہلا کو کبھی سچ نہیں بتائے گی۔ کافی دیر اُس کے پاس بیٹھ کر، گھر واپس آئی، تو امّاں نے کہا،

’’بیٹا! تھکی تھکی کیوں لگ رہی ہو؟‘‘ ’’کچھ نہیں امّاں! بس سَر میں درد ہورہا۔ وہ شہلا بہت بولتی ہے ناں، اللہ اُسے خوش رکھے۔‘‘ امّاں نے مُسکراتے ہوئے کہا،’’الٰہی آمین۔‘‘ اور وہ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ وہ مسلسل ایک ہی بات سوچ رہی تھی کہ کیا محبّت ماضی، حال اور مستقبل کے خانوں میں بَٹی ہوتی ہے یا پھر مَرد کی محبّت کے خانے الگ الگ ہوتے ہیں۔ نہ جانے کیوں آج اُسے ابّا یاد آگئے۔ پھر وہ عورت کی محبّت کے بارے میں سوچنے لگی کہ کیا عورت کی محبّت بھی ماضی، حال اور مستقبل کے خانوں میں بٹی ہوتی ہے؟

 نہیں، نہیں، ہرگز نہیں۔ اُس کے دماغ میں مسلسل سوال وجواب کی تکرار جاری تھی کہ ایک بار پھر امّاں کا چہرہ نظروں میں گھوم گیا۔ یادوں کی بجھی چنگاریاں سُلگیں،تو یاد آیا کہ امّاں نے زندگی بَھر نہ خود ابّا کو بُرا کہا اور نہ ہی کبھی بچّوں کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ ابّا کے لیے کوئی غلط جملہ بولیں۔ وہ جتنا سوچ رہی تھی، اُتنا ہی الجھ رہی تھی۔ اُس کے دِل سے ایک صدا آئی، ’’محبّت اگر سچّی ہو، تو وہ ماضی، حال یا مستقبل کے خانوں میں نہیں بٹتی، وہ تو بس حال ہی حال ہے۔ یعنی اگر ہے، تو بس ہے۔

 ایسا کیسے ہوسکتا ہے کہ کل تھی اور آج نہیں۔ اور آج ہے، تو کل نہیں ہوگی۔ وہ سوچ رہی تھی، فراز نے کس سے جھوٹ بولا تھا، پہلے صدف سے، اب شہلا سے یا پھر دونوں بار ہی اپنے آپ سے؟ نہ جانے کیوں اُس کا دِل مطمئن نہیں ہو پارہا تھا۔ اُس کے ذہن میں پھر ایک خیال کوندا کہ کیا محبّت صرف عورت کی میراث ہے؟ کیا کوئی مَرد اس کا اہل نہیں ہوتا۔ اسی گومگو کی کیفیت میں تھک کر اُس نے آنکھیں موند لیں اور نہ جانے کب نیند کی پری مہربان ہوگئی۔صبح جلدی جلدی تیار ہوکر وہ اسٹاپ پر پہنچ کر حسبِ معمول گاڑی کا انتظار کرنے لگی۔

اسی اثنا میں نہ جانے کہاں سے ایک فقیرنی، بچّے کا ہاتھ تھامے اُس کے سامنے آکھڑی ہوئی،’’اے…میری سوہنی! اللہ کے نام پر دے دے۔‘‘ بچّے نے کہا، ’’اللہ تجھے چاند سا دولھا دے۔‘‘فقیرنی فوراً بولی، ’’لیلیٰ ،مجنوں جیسی جوڑی ہو۔‘‘دُور سے گاڑی آتی دیکھ کر اُس نے پرس سے پیسے نکال کر اُس کے کشکول میں ڈالے اور جلدی سے گاڑی میں سوار ہوگئی،

مگر سیٹ پر بیٹھتے ہی سسّی، پُنوں، ہیر، رانجھا، شیریں، فرہاد اور نہ جانے کتنے نام اُس کے ذہن میں آنے لگے اور اچانک ہی اُسے اپنی الجھن کا حل مل گیا۔ نتیجہ بہت صاف اور واضح تھا، وہ سوچ رہی تھی کہ اُسے پہلے یہ خیال کیوں نہیں آیا۔ بے شک جو بھی انسان محبّت کی لاج رکھتا ہے، اللہ محبّت کا تاج اُس کے سَر پر رکھ دیتا ہے،جس میں مَرد یا عورت کی کوئی تخصیص نہیں ہوتی۔ محبّت…وہ لطیف جذبہ ہے، جو کسی ایک صنف کی میراث نہیں۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎