بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کالا سونا… تھر بدل رہا ہے

  منگل‬‮ 4 دسمبر‬‮ 2018  |  11:28

بھوک، پیاس، غربت، افلاس، تڑپتے بچّے، امدادی مراکز کے باہر لمبی قطاریں… ہمارے ذہنوں میں صحرائے تھر کا تصوّر یہی کچھ ہے اور یہ سچ بھی ہے۔ وہاں کے باسی اکیس ویں صدی میں بھی پانی کے ایک گھونٹ یا روٹی کے چھوٹے سے ٹکڑے کو ترستے ہیں۔ علاج معالجے کی سہولتیں ہیں اور نہ ہی روزگار کے مواقع۔ گزشتہ دنوں

کراچی کے مختلف اخبارات اور ٹی وی چینلز سے وابستہ صحافیوں کے ایک وفد نے اینگرو کارپوریشن کے اسسٹنٹ مینیجر کارپوریٹ کمیونی کیشنز اینڈ پی آر، مقداد سبطین، برج پی آر کے گروپ اکاؤنٹ

مینیجر، فراز شفقت عثمانی اور سینئر اکاؤنٹ مینیجر، فراز انصاری کی رہنمائی میں صحرائے تھر کا دَورہ کیا۔ جب ہم منزل کی جانب گام زَن تھے، تو راستے بھر اس خطّے کی پس ماندگی ہی زیرِ بحث رہی،

 مگر جب 400 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرکے اسلام کوٹ پہنچے، تو گھٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبے اس خطّے میں اِک نئی صبح کے نمودار ہونے کے آثار نظر آئے۔ ایک ایسی صبح، جو اپنے ساتھ ترقّی و خوش حالی کی نوید لا رہی ہے۔ ہم نے اپنے دو روزہ دَورے کے دَوران مایوسی اور نااُمیدی کے اندھیروں کو چیر کر طلوع ہونے والی چمک دار صبح کے جو آثار دیکھے، آئیے! اُس کی کچھ جھلکیاں آپ کو بھی دِکھاتے ہیں۔1991ء میں امریکن کمپنی’’ یونائیٹڈ اسٹیٹس ایجینسی فار انٹرنیشنل ڈیویلپمنٹ‘‘

اور’’ جیو لوجیکل سروے آف پاکستان‘‘ کی جانب سے صحرائے تھر میں پانی کی تلاش کے لیے تجربات کیے جا رہے تھے۔ ایک روز اسلام کوٹ سے کوئی 25 کلومیٹر دُور اسی طرح کے ایک تجربے میں انکشاف ہوا کہ یہاں تو زیرِ زمین کوئلے کے ذخائر ہیں۔ جب مزید تحقیق ہوئی، تو پتا چلا، 19 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلے اس علاقے کے تقریباً نصف حصّے یعنی9 ہزار مربع کلومیٹر میں یہ ذخائر موجود ہیں اور ان کا حجم 175 ارب ٹن ہے۔ اسے یوں سمجھ لیجیے کہ یہ ذخائر، سعودی عرب اور ایران کے مجموعی تیل کے ذخائر کے برابر ہیں

 اور اس کوئلے سے دو سو سال تک ایک لاکھ میگاواٹ بجلی بنائی جا سکتی ہے، جو پاکستان کی ضروریات سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ بھی واضح رہے کہ پورے پاکستان میں کوئلے کے مجموعی ذخائر 186 ارب ٹن ہیں، جن میں سے 175 ارب ٹن تھر میں ہیں اور یہ پاکستان کے کُل گیس کے ذخائر سے 68 فی صد زیادہ ہیں۔دنیا کے ایسے ممالک، جہاں تھر کی طرح Lignite( کوئلے کی ایک قسم) ملتا ہے، پاکستان کا نمبر ساتواں ہے۔نیز، عالمی سطح پر کوئلے کے ذخائر میں اس کا 16 واں نمبر ہے۔

دنیا کا نواں بڑا صحرا، صحرائے تھر، پاکستان اور بھارت میں پھیلا ہوا ہے، لیکن اس علاقے میں موجود کوئلے کے ذخائر میں سے نوّے فی صد پاکستان کے پاس ہیں اور بھارت کے حصّے میں صرف دس فی صد آئے ، لیکن اُس نے 1948 ء ہی میں بجلی کے حصول کے لیے اپنے صحرائی علاقے سے کوئلہ نکالنا شروع کردیا تھا۔ اس مقصد کے لیے 8 ہزار میگا واٹ کے پاور پلانٹ لگائے گئے، جو کم وبیش چالیس برسوں تک اس کوئلے سے شہریوں کو بجلی فراہم کرتے رہے،

 تاہم اب ذخائر ختم ہونے پر بیرونِ مُلک سے کوئلہ منگوا کر وہ پلانٹ چلائے جا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس ضمن میں 1991 ء میں پیش رفت کی، مگر اُس کے بعد بھی برسوں تک معاملات سیاسی پوائنٹ اسکورنگ اور بے مقصد تجربات ہی کے گرد گھومتے رہے۔ اس دَوران ایک چینی کمپنی کو بلوایا گیا، مگر بجلی کی قیمت کے تنازعے پر معاملہ سمیٹ دیا گیا اور وہ واپس چلی گئی۔ کچھ عرصے تک یہ منصوبہ زرعی یونی ورسٹی، ٹنڈوجام کے پاس بھی رہا، چوں کہ اس کے پاس مہارت تھی اور نہ استطاعت،

 سو بات آگے نہ بڑھ سکی۔ بہرحال، سندھ حکومت نے مئی 2008 ء میں اس جانب سنجیدہ قدم اٹھاتے ہوئے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مختلف کمپنیز سے پیش کشیں طلب کیں اور پھر اکتوبر 2009ء میں سندھ حکومت اور اینگرو کارپوریشن نے مل کر’’ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ تشکیل دی، بعدازاں اس میں دوسری کمپنیز بھی شامل ہو گئیں۔ معاہدے کے مطابق اینگرو کارپوریشن کے ذمّے مینجمنٹ اور فنائنسنگ ہے، جب کہ سندھ حکومت انفرااسٹرکچر بنانے کی پابند ہے۔ تاہم، منصوبے پر باقاعدہ کام 2016 ء میں شروع ہوا۔

یعنی کوئلے کے ذخائر کی دریافت سے کوئلہ نکالنے کے آغاز تک کے سفر میں تقریباً 25 برس لگ گئے۔ کان کنی کے لیے ایک، ایک سو اسکوائر کلومیٹر پر مشتمل 13 بلاکس بنائے گئے ہیں، جن میں سے ابھی تک چھے بلاکس مختلف کمپنیز کو دیے گئے ہیں، بلاک نمبر 2 اینگرو کے پاس ہے اور بلاک نمبر 5 ڈاکٹر مبارک ثمرمند کے پاس۔ گو کہ سب سے پہلے کام اسی بلاک میں شروع ہوا تھا، مگر اِن دنوں مالی مسائل کے سبب بند ہے۔ یعنی اس وقت تھر کول فیلڈ کے 13 بلاکس میں سے صرف بلاک ٹو ہی میں کام ہو رہا ہے،

 جو’’ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ کے پاس ہے۔ حکومتِ پاکستان نے اقتصادی رابطہ کمیٹی کے ذریعے اکتوبر 2010 ء میں’’ تھر کول فیلڈ‘‘ کو اسپیشل اکنامک زون قرار دینے، سرمایہ کاروں کے لیے 20.5 فی صد گارنٹی واپسی کو یقینی اور متعدّد ٹیکسز اور لیویز پر چھوٹ دینے کا علان کیا۔ اس کے ساتھ، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی(SECMC) کے تقریباً 700ملین ڈالرز کے کان کنی کے منصوبے کے لیے قرض کی مد میں خود مختار ضمانت فراہم کرنے کی بھی اس شرط کے ساتھ منظوری دی

 کہ حکومتِ سندھ اس منصوبے کے اکثریتی حصص کی مالک ہو گی۔ سو، شیئرز میں تبدیلی ہوئی اور حکومتِ سندھ،’’ سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی‘‘ میں 51 فی صد حصص کی مالک بن گئی۔ اب تھر کول مائننگ پراجیکٹ’’ SECMC ‘‘کی زیرِ نگرانی چل رہا ہے، جو حکومت سندھ، اینگرو انرجی لمیٹیڈ(جس کا سابقہ نام اینگرو پاورجین لمیٹیڈ تھا) اور اس کے پارٹنرز تھل لمیٹیڈ(ہاؤس آف حبیب، حبیب بینک لمیٹیڈ، حب پاور کمپنی اور چائنا مشینری انجینئرنگ کارپوریشن کا معاہدے کے تحت مشترکہ منصوبہ( Venture Agreement)

ہے۔ Houlinhe اوپن پِٹ کول مائن، اسٹیٹ پاور انٹرنیشنل کی ذیلی کمپنی مینڈونگ(SPIM) جو ماضی میں CPIM تھی، وہ بھی preference shares' subscription کی حیثیت سے اسٹریٹیجک سرمایہ کار کے طور پر SECMC کے بورڈ کا حصّہ ہیں۔SECMC کو 95.5 مربع کلومیٹر رقبہ 30 سال کی لیز پر دیا گیا ہے اور اس لیز کو کوئلہ نکالنے کے لیے مزید 30 سال تک توسیع دی جا سکتی ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎