بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


خواتین کی انگلیوں کی لمبائی سے جنسی رجحانات کا اندازہ لگانا ممکن ہے

  بدھ‬‮ 5 دسمبر‬‮ 2018  |  2:01

ایک تحقیق کے مطابق ایسی خواتین کے ہم جنس پرست ہونے کا امکان ہوتا ہے جن کے دائیں ہاتھ کے انگوٹھے کے ساتھ والی اور انگوٹھی پہننے والی( چوتھی) انگلی کی لمبائی مختلف ہوتی ہے۔سائنسدانوں نے 18 جڑواں خواتین کی انگلیوں کی پیمائش کی جن میں ایک ہم جنس پرست تھی۔عموماً صرف ہم جنس پرست خواتین میں یہ پایا جاتا ہے

کہ ان کے بائیں ہاتھ کی پہلی انگلی اور انگوٹھی کی انگلی برابر ہو اور ایسا عام طور پر مردوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔سائنسدانوں نے اس کے علاوہ 14 جڑواں مردوں کی انگلیوں کی پیمائش

کی جن میں ایک ہم جنس پرست تھا۔مرد اور خواتین دونوں کو کوکھ میں مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کا سامنا ہوتا ہے لیکن ہو سکتا ہے

 کہ دوسروں کے مقابلے میں بعض کو ان ہارمونز کا زیادہ سامنا رہا ہو۔عام طور پر انگوٹھے کے بعد خاتون کی پہلی اور چوتھی انگلی کی لمبائی ایک جیسی ہوتی ہے تاہم مردوں کی انگلیوں میں فرق نمایاں ہوتا ہے۔یہ تحقیق آرکائیوز آف سیکشول بیہیویئر(جنسی رویوں) میں شائع ہوئی ہے۔یونیورسٹی آف ایسیکس کے محققین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ کوکھ میں زیادہ ٹسٹوسیٹرون(سیکس ہارمون) کی وجہ سے ایسا ہوتا ہے۔

اس تحقیق کے سربراہ ڈاکٹر ٹیویزڈے واٹس کا کہنا ہے کہ’ کیونکہ جڑواں جو کہ اپنے جینز کی 100 فیصد شیئر کرتے ہیں اور ان کی جنسی سمت مختلف ہو سکتی ہے اس کا جنیات سے ان کا تعلق نہیں بلکہ دیگر عناصر کی وجہ سے ایسا سمجھنا چاہیے۔محققین نے رائے دی ہے کہ جنسیت کوکھ میں طے ہو جاتی ہے

 اور اس کا انحصار مرد کے ہارمونز کی تعداد پر ہوتا ہے کہ کس طرح سے ان کا سامنا کرنا پڑا یا مختلف جسم کس طرح اس پر اپنا ردعمل دیتے ہیں۔ جن کو ٹسٹوسیٹرون ہارمونز کی زیادہ مقدار کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان کے بارے میں امکان ہوتا ہے کہ وہ ہم جنس پرست یا دونوں جنسوں کی طرف کشش رکھنے والی شخصیت ہو سکتے ہیں۔

اور کیونکہ ہارمونز کے لیول اور انگلیوں کی لمبائی میں فرق کے آپسی تعلق کی وجہ سے اگر کسی کا ہاتھ دیکھیں تو اس سے جنسی رویے کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔


loading...