Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ’’ماڈل‘‘ تیار،کیا طریقہ اختیار کیاجائیگا؟وفاقی وزیر شیریں مزاری منصوبے کی تفصلات منظر عام پر لے آئیں

  جمعرات‬‮ 13 دسمبر‬‮ 2018  |  20:55

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے ایک ماڈل بنایا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کا حل شمالی آئرلینڈ اور برٹش طرز پر ہے۔ جمعرات کو اسلام آباد میں سینیٹرمشاہد حسین سید کی زیرصدارت سینٹ کمیٹی برائے خارجہ کی کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اجلاس ہوا جس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق شیریں مزاری نے کہا کہ پاکستان نے مسئلہ کشمیر کے حل

کے لیے کبھی بھی اس سطح کی کوشش نہیں کہ جس سطح کی ہونی چاہئے

تھی۔انہوں نے کہاکہ ہم نے مقبوضہ کشمیر میں خواتین کے حقوق کی پامالیوں پر کبھی یو این ایچ سی آر کا دروازہ کھٹکھٹایا؟ کیا ہم نے بچوں پر پیلٹ گنز کے استعمال پر عالمی اداروں کا دروازہ کھٹکھٹایا؟ہمیں یو این ایچ سی آر کی رپورٹ کے بعد کشمیر میں تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرنا چاہیے تھا اگر اقوام متحدہ مشرقی تیمور میں رائے شماری کراسکتا ہے تو کشمیر میں کیوں نہیں۔شیری مزاری نے کہا کہ کشمیری نسل در نسل آزادی کے لیے قربانیاں دے رہے ہیں اور اب ہمیں بیانات اور تقریروں سے آگے نکل جانا ہوگا،

میں نے مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک ماڈل بنایا ہے جس میں مسئلہ کشمیر کا حل شمالی آئرلینڈ اور برٹش طرز پر ہیں اس ماڈل کے تحت پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کا آغازکیا جائے اور اسی ماڈل کے تحت تمام گروپس کے ساتھ مذاکرات شروع کیے جائیں جب کہ اقوام متحدہ رائے شماری کے لیے کشمیریوں کی رجسٹریشن کرے اور خود اس کی مانیٹرنگ کرے۔شیریں مزاری نے کہا کہ رائے شماری کے لیے اقوام متحدہ حد بندی کرے اور کشمیرکو غیر فوجی علاقہ قرار دیا جائے اب ہم کشمیریوں کو مزید خون بہاتے نہیں دیکھ سکتے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎