Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پاکستانیوں پرمقدس مقامات کی زیارت کرنے کیلئے اسرائیل جانے پر عائد پابندی ہٹائی جائے،بڑا مطالبہ کردیاگیا

  جمعرات‬‮ 13 دسمبر‬‮ 2018  |  21:01

پاکستان کرسچن نیشنل پارٹی کے چیئرمین ایم اے جوزف فرانسس نے کہا ہے کہ پاکستان میں اقلیتوں کے بنیاد ی حقوق پامال کئے جارہے ہیں،ہم فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے ظلم کی ہمیشہ مذمت کرتے آرہے ہیں،قومی اسمبلی میں نمائندگی نہ ہونے کی وجہ سے اپنے حقو ق کے لئے آواز نہیں اٹھا سکتے، مخصوص نشستوں پراسمبلی میں بھیجنا حقیقت کی منافی ہے، ہندو ، سکھ اور مسلمان اپنے مہذبوں کے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے دوسرے ممالک آسانی سے جاتے ہیں

جبکہ ہمیں اپنے مقدس مقامات کی زیارت کرنے کے لئے اسرائیل جانے پرقانونی

پابندی ہے، ہمیں بھی اسرائیل جانے کی اجازت دی جائے جہاں پر ہمارے مقد س مقامات موجود ہیں۔ جمعرات کو نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایم جوز ف فرانسس اور اقبال کھوکھرنے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بسنے والی مذہبی اقلیتوں خصوصاً مسیحی برادری نے وطن عزیز کے قیام سے لے کر آج تک ہمیشہ تعلیم،صحت،دفاع،سماجی اور دیگر شعبوں میں قابل قدر تاریخی خدمات سرانجام د ی ہیں۔ گوکہ مسیحی قوم گزشتہ 71سال سے بیشمار معاشرتی،معاشی اور مذہبی استحصال ور محرومی ومحکومی کا شکار ہے مگر

اس کے باوجود ہم نے ملکی استحکام، وقار،ترقی اور خوشحالی کیلئے دن رات کام کیا ہے۔کہاکہ مسیحی قوم نے محب وطن اورپرامن شہری ہوتے ہوئے وطن عزیز کے لئے ہرآزمائش کے موقع پر اپنا قومی ومذہبی فرض نبھانے کی کوشش کی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم ملکی آئین اور قومی سلامتی کے ساتھ ہیں مگر مذہبی طور پر مسیحی قوم کے بہت سارے مقدس مقامات ا سرائیل میں واقع ہیں۔جن کی زیارت کرنے کے لئے ہمیں جانا واجب ومقصود ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ بھلے ہی پاکستان اور اسرائیل کے درمیان ایک دوسرے کو تسلیم کرنے میں قانونی،سیاسی اور مذہبی پیچیدگیاں رکاوٹ ہیں لیکن مسیحیوں کو اسرائیل میں جانے کی اجازت ملنی چاہیے۔ پاکستان کی مسیحی اقلیت کو بھی اسی طرح یہ حق ملنا چاہیے جس طرح ہمارے مسلم بھائی سعودی عرب میں حج وعمرہ کی سعادت

حاصل کرتے ہیں، اہل تشیع قوم عراق وایران اپنی مذہبی مقدس زیارتوں کے لئے جاتی ہے،ہندوبرادری اپنی مذہبی رسومات کے لئے باآسانی انڈیا جاسکتی ہے۔سکھ برادری کے لئے واہگہ،ننکانہ کے ساتھ ساتھ کرتارپور کوریڈور کھولا گیا ہے حالانکہ دنیا جانتی ہے کہ انڈیا کے ساتھ ہمارے تعلقات کبھی بھی اطمینان بخش اور خوشگوار نہیں رہے اس کے باوجود ہم اس کے ساتھ سفارتی تعلقات بہتر رکھنے کے خواہش مند ہیں اور یہ بہت اچھا بھی ہے ہم اس کے حمایتی ہیں کیونکہ خداکی زمین پر

خداکی مخلوق کو آپس میں نفرتوں اور فاصلوں کو ختم کرنے کے لئے قدم بڑھانا ہوگا۔ہم بتانا چاہتے ہیں کہ اگر فرانس ، جرمنی اور انگلینڈ صدیوں کی جنگ کے بعد اکٹھے ہوسکتے ہیں تو اسرائیل اور پاکستان میں اختلافات بھی ختم ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کہہ چکے ہیں کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی رکن قومی اسمبلی عاصمہ حدیقہ بھی اسی حوالے سے تقریر کرچکی ہیں۔آج دنیا میں بے شمارتبدیلیاں ہورہی ہیں،

دنیا سمٹ رہی ہے۔ہمیں خطے کاامن قائم رکھنے کے لئے تمام دنیا کے ممالک سے بہتر اور قابل اعتماد سطح پر تعلقات ازسرِنواستوار کرنے کی ضرورت ہے۔ایم اے جوز ف فرانسس نے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ملکی خارجہ پالیسی کو مزید بہتر اور قابل عمل پالیسیوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا۔ دنیا کے بدلتے حالات وواقعات پر گہری نظر رکھتے ہوئے ہمیں اپنے اچھے برے کو سمجھنا ہوگا۔ملکی معیشت کے لئے بھی ہماری ایسی خارجہ پالیسی ہونی چاہیے کہ ہم معاہدوں کرتے وقت اپنے عوام کی خوشحالی اور ملکی وقار وترقی کو ملحوظ خاطر رکھیں۔پاکستان کو جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ کرنے اور نئی نسل کے لئے، پاکستان کو فلاحی مملکت بنانے کے لئے اور اسرائیل کے ساتھ قابل عمل تعلقات قائم کرنے کے لئے ہمیں خارجہ پالیسی مرتب کرنا ہوگی۔کہا کہ حکومت پاکستان سے یہ مطالبہ کرنا چاہتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات بحال کئے جائیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎