بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


اسد عمر نے یہ کب کہا کہ مجھے معلوم تھا،کون اس ملک کو چلا رہا ہے اور یہ کس کے کہنے پر ہورہا ہے؟سینئر ترین خاتون رہنما نے اہم انکشاف کر دیا

  ہفتہ‬‮ 15 دسمبر‬‮ 2018  |  11:59

سینیٹ میں اپوزیشن نے روپے کی قدر میں کمی کے معاملے پر وزیر مملکت حماد اظہر کا جواب سننے سے انکار کرتے ہوئے احتجاجا واک آئوٹ کر دیا ، جبکہ ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے کہنے کے باوجود قائد ایوان شبلی فراز اپوزیشن کو منانے نہ گئے اور کہا کہ میری یہی ڈیوٹی رہ گئی ہے کہ اپوزیشن کو مناتا رہوں، کورم پورا نہ ہونے ہونے پر اجلاس پیر تک ملتوی کر دیا گیا ، سینیٹر شیری رحمان نے کہاکہ

وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر کو ایوان میں آنا چاہیے، ،وہ ٹی وی پر روز موجود ہوتے ہیں،

وہاں یکطرفہ بحث ہوتی ہے، حکومت کے 100دن پورے ہونے پر شادیانے بجائے جا رہے تھے اور ، جس وقت وہ اپنے آپ کو شاباش دے رہے تھے تب مارکیٹ بحرانی کیفیت میں تھی، وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بارے میں معلوم نہیں تھا جبکہ اسد عمر نے کہا کہ مجھے معلوم تھا،کون اس ملک کو چلا رہا ہے اور یہ کس کے کہنے پر ہورہا ہے، جمعہ کو سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کی سینیٹر شیری رحمان نے امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی سے متعلق توجہ دلائو نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی وزیر خزانہ کو ایوان میں آنا چاہیے، وہ ٹی وی پر تو جواب دے دیتے ہیں

مگر ایوان میں بھی انہیں آنا چاہیے،وہ ٹی وی پر روز موجود ہوتے ہیں، وہ یکطرفہ بحث ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کے 100دن پورے ہونے پر شادیانے بجائے جا رہے تھے تب مارکیٹ کریش ہوئی، جس وقت وہ اپنے آپ کو شاباش دے رہے تھے تو مارکیٹ بحرانی کیفیت میں تھی۔ انہوںنے کہا کہ وزیراعظم نے کہا کہ مجھے ڈالر کی قیمت بڑھنے کے بارے میں معلوم نہیں تھا جبکہ اسد عمر نے کہا کہ مجھے معلوم تھا،کون اس ملک کو چلا رہا ہے اور یہ کس کے کہنے پر ہورہا ہے، اس بارے میں قائمہ کمیٹی میں ہمیں وضاحت دی گئی لیکن ہم اس پر مطمئن نہیں ہوئے، دو دفعہ شرح سود اور دو دفعہ ڈالر کی قیمت بڑھی ہے۔ اس موقع پر وزیرمملکت برائے ریونیو حماد اظہرتوجہ دلائو نوٹس کا جواب دیتے ہوئے کھڑے ہوئے تو اپوزیشن لیڈر راجہ ظفر الحق نے کہا کہ ہم صبح سے انتظار کرتے رہے لیکن وزیرخزانہ نہیں آئے، اب یہ تشریف لائے

ہیں،اسد عمر کو خود آنا چاہیے تھا، انہوں نے اعتراف کیاہے کہ مجھے پتا تھا کہ ڈالر مہنگا ہو رہا ہے۔ اس موقع پر قائد ایوان شبلی فراز نے کہا کہ اسحاق ڈار بطور وزیر خزانہ کسی دفعہ ادھر یہاں آئے ہیں، ہم نے حماد اظہر کو بلایا ہے یہ فارغ نہیں بیٹھے تھے۔ اس موقع پر ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے حماد اظہر کو بولنے کا موقع دیا، حماد اظہر نے کہا کہ آج ایک اخبار کی ہیڈ لائن گورنر اسٹیٹ بینک سے منسوب کی گئی ہے جو کہ غلط ہے، ایک طبقہ سنسنی پھیلانا چاہتا ہے، دسمبر 2017میں روپے کی قدر 104روپے تھی جبکہ 2018میں 124روپے تھی، نئی

حکومت کو خالی خزانہ دیا گیا ہے، فیصل آباد میں 120صنعتیں بند ہیں۔ اس موقع پر اپوزیشن نے حماد اظہر کی تقریر سننے سے انکار کر دیا اور ایوان سے واک آئوٹ کر گئے۔اس موقع پر اپوزیشن رکن نے کورم کی نشاندہی کردی، ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نے پانچ منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائیں اور قائد ایوان کو اپوزیشن کو منانے کیلئے کہا، جس پر شبلی فراز نے کہا کہ میری یہی ڈیوٹی رہ گئی ہے کہ اپوزیشن کو مناتا رہوں۔ اس موقع پر کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس پیر کی دوپہر2 بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎