Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ڈاکٹرعافیہ کون ہیں ؟ امریکہ نے انہیں کیوں اورکیسے گرفتارکیا؟

  پیر‬‮ 31 دسمبر‬‮ 2018  |  21:41

ابویحییٰ علیبی کا تعلق القاعدہ سے تھا‘ وہ اس تنظیم کے اہم رہنماﺅں میں شمار ہوتا تھا‘ وہ اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ 2003ءمیں گرفتار ہوا‘ اسے بگرام کے امریکی بیس میں قید رکھا گیا‘ وہ 2006 میں اپنے چار ساتھیوں کے ساتھ فرار ہوگیا2006 میں ابویحییٰ نے الجزیرہ ٹیلی ویژن کو انٹرویو دیا‘ اس انٹرویو میں اس نے انکشاف کیا ”افغانستان اور بعض عرب ممالک میں بے شمار خفیہ جیلیں ہیں اور ان جیلوں میں سینکڑوں بے گناہ لوگ قید ہیں“ ابویحییٰ کا کہنا تھا ”بگرام کی جس جیل میں وہ لوگ قید تھے وہاں ایک پاکستانی

خاتون بھی

تھی‘ یہ خاتون دو سال پہلے بگرام لائی گئی اور وہ شدید تشدد کے باعث اپنا ذہنی توازن کھو چکی ہے“ ابویحییٰ کاکہنا تھا ‘وہ ایک درمیانی عمر کی خاتون ہے جس کے ساتھ وہی سلوک ہورہاہے جو مرد قیدیوں کے ساتھ روا رکھا جاتا ہے اور اس خاتون کی یادداشت تک ختم ہوچکی ہے“ میں نے جب الجزیرہ پر ابویحییٰ کا انٹرویو سنا تو میرا ذہن فوراً عافیہ صدیقی کی طرف چلا گیا اور میں نے سوچا ہوسکتا ہے وہ پاکستانی خاتون عافیہ صدیقی ہی ہو۔ یہ عافیہ صدیقی کون ہے؟ ہوسکتا ہے عافیہ کا نام ہماری یادداشتوں سے محو ہوچکا ہو‘

عافیہ صدیقی ایک 29سالہ پاکستانی امریکی خاتون تھی‘ وہ 2مارچ 1972ءکو کراچی میں پیدا ہوئی‘ اس کے والد محمد صدیقی پیشے کے لحاظ سے ڈاکٹر تھے‘ یہ خاندان 70کی دہائی میں امریکہ منتقل ہوگیا‘ عافیہ صدیقی پر مذہب کا غلبہ تھا‘ وہ سکول اور یونیورسٹی میں سکارف لیتی تھی ‘عافیہ نے دنیا کے بہترین تعلیمی ادارے ”ایم آئی ٹی“ سے گریجویشن کی‘ ایم آئی ٹی میں وہ مسلمان طالب علموں کی ایک ایسوسی ایشن میں شامل ہوگی‘ گریجوایشن کے بعد اس کے والدین نے اس کی شادی ڈاکٹر امجد خان کے ساتھ کردی اور وہ دونوں اطمینان سے زندگی گزارنے لگے‘

اللہ تعالیٰ نے اس دوران اسے دو بچوں سے نوازا‘2001ءمیں نائین الیون کا واقعہ پیش آیا اور دنیا کی تمام سیکریٹ ایجنسیاں دہشت گردوں کے خفیہ نیٹ ورک کے پیچھے لگ گئیں‘2002ءکے وسط میں امریکہ کے اٹارنی جنرل جان ایش کرافٹ اور ایف بی آئی کے ڈائریکٹر رابرٹ میولر نے پریس کانفرنس کی اوراس کانفرنس میں انکشاف کیا ایف بی آئی القاعدہ کے سات کارکنوں کو تلاش کررہی ہے ‘ ان کارکنوں میں ایک درمیانی عمر کی خاتون بھی ہے‘ ان سات لوگوں نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کےلئے دہشت گردوں کو رقم فراہم کی تھی‘ اس اعلان کے کچھ عرصہ بعد ایف بی آئی نے عافیہ صدیقی کی تصویر ریلیز کردی‘ ایف بی آئی کا بہتان آمیزالزام تھا امریکی حکومت نے 1999ءمیں القاعدہ کے تمام اکاﺅنٹس منجمد کردیئے تھے

جس کے بعد یہ لوگ بینکوں کے ذریعے رقم ٹرانسفر نہیں کرسکتے تھے‘ ان لوگوں نے اس کا حل ہیروں کی شکل میں نکالا‘ یہ مغربی افریقہ کے ملک لائبیریا سے ہیرے خریدتے ‘یہ ہیرے امریکہ سمگل کرتے‘ انہیں انڈر ورلڈ میں فروخت کرتے اور ان سے حاصل ہونے والی رقم دہشت گردی میں استعمال کرتے‘ عافیہ صدیقی ہیروں کی اس سمگلنگ کی مرکزی کردار تھی‘ وہ سال میں کئی کئی بارلائبیریا جاتی تھی‘ وہاں سے ہیرے خریدتی تھی اور امریکہ لا کر فروخت کردیتی تھی‘ ایف بی آئی کا کہنا تھا عافیہ صدیقی جولائی 2001ءمیں بھی لائبیریا گئی اور وہ وہاں سے 15 ملین ڈالر کے ہیرے خرید کر لائی تھی بعد ازاں ان لوگوں نے اس رقم میں سے پانچ لاکھ ڈالر خرچ کیے اور اس کے نتیجے میں امریکہ میں نائین الیون کا واقعہ وقوع پذیر ہوا‘ بعض امریکی صحافیوں کا کہنا تھا عافیہ صدیقی کی نشاندہی شیخ خالد محمد نے کی تھی‘ شیخ خالد القاعدہ کا مرکزی رہنما تھا اورنائین الیون کا سارا آپریشن اس نے ڈیزائن کیا تھا ‘وہ یکم مارچ 2003ءکو کراچی سے گرفتار ہوا اور اس نے دوران تفتیش عافیہ صدیقی کا نام لے لیا‘ اس وقت عافیہ کراچی میں مقیم تھی اور

شدید گھریلو مسائل کا شکار تھی‘ اس کے خاوند نے اسے طلاق دے دی تھی جس کے صدمے سے اس کے والد کو ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ دنیا سے رخصت ہوگئے‘عافیہ کو اللہ تعالیٰ نے انہیں دنوں بیٹے کی نعمت سے نوازا لیکن اس کے باوجود وہ شدید ڈپریشن اور پریشانی کا شکارتھی‘ اسی پریشانی میں اس نے اپریل 2003ءمیں اپنے تینوں بچے لیے اور ٹرین کے ذریعے کراچی سے اسلام آباد روانہ ہوگئی ‘اس وقت اس کے بچوں کی عمریں سات سال‘ پانچ سال اور چھ ماہ تھی‘ عافیہ صدیقی کراچی اوراسلام آباد کے درمیان کسی جگہ بچوں سمیت غائب ہوگئی‘ عافیہ صدیقی کی گمشدگی کے چند روز بعد ایک موٹرسائیکل سوار اس کی والدہ کے پاس آیا اوراس نے بتایا عافیہ گرفتار ہوچکی ہے اور اگر وہ اپنی بیٹی سے دوبارہ ملنا چاہتی ہے تو وہ خاموشی اختیار کرلے‘ انہی دنوںپاکستان کی وزارت داخلہ کے ترجمان اور دو امریکی اہلکاروں نے صحافیوں کے سامنے اعتراف کرلیا عافیہ صدیقی اور اس کے بچے ان کی حراست میں ہیں اور وہ ان سے تفتیش کررہے ہیں کاپی رائٹس : جاویدچوہدری کی یہ تحریرخصوصی طورپرجاویدسی ایچ ڈاٹ کام کے لئے تحریرکی گئی ہے ۔بغیر اجازت کسی قسم کی اشاعت سختی سے ممنوع ہے

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎