Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پی ٹی آئی حکومت کے سخت اور مشکل فیصلوں کے نتائج آنا شروع ہو گئے،قوم کو بڑی خوشخبری سنا دی گئی

  جمعرات‬‮ 10 جنوری‬‮ 2019  |  19:23

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں سروے کرانے کی ہدایت کر دی،کمیٹی ارکان نے کہا کہ اسلام آباد کی جامعات میں آئس کا نشہ تیزی سے پھیل رہا ہے جس کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے، وزیر مملکت داخلہ نےاسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں طلبہ میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ناک اعداد و شمار بتائے ہیں،

نوجوان نسل میں منشیات کی عادت تیزی سے پھیل رہی ہے

جس کو روکنے کیلئے قانون سازی کرنی ہوگی، وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس عبد الرزاق دائود نے کمیٹی کو بتایا کہ حکومتی پالیسیز کے باعث پاکستان کی برآمداد میں اضافہ اور درآمداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے، اس پالیسی کے مزید اثرات 6ماہ میں سامنے آئیں گے،غیر ضروری اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے،افغانستان، بھارت اور ایران میں برآمداد کو بڑھانا پاکستان کے مفاد میں ہے۔بدھ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے حکومتی یقین دہانیاں کا اجلاس سینیٹر طاہر خان بزنجو کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہائوس میں میں ہوا۔ اجلاس میں سینیٹر کیشو بائی، سینیٹر اسد اشرف،سینیٹڑ فدا محمد، وزیر اعظم کے مشیر برائے کامرس عبد الرزاق دائود،

سیکرٹری وفاقی تعلیم، سیکرٹری پارلیمانی امور، اور وزارت قانون و انصاف کے حکام نے شرکت کی۔ کمیٹی اجلاس میں ملازمتوں میں کوٹہ سسٹم کا معاملہ زیر غور آیا۔ چیئرمین کمیٹی سینیٹر طاہر خان بزنجو نے کہا کہ گزشتہ اجلاس میں وزیر ممالکت پارلیمانی امور نے کوٹہ سسٹم کے حوالے سے آئینی ترمیم لانے کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن ابھی تک اس پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ پسماندہ صوبوں کیلئے کوٹہ سسٹم لاگو رہنا اہم مسئلہ ہے۔بیوروکریسی2ماہ کا کام20سال میں کرتی ہے۔ورلڈ بینک رپورٹ کے مطابق بلوچستان میں شرح غربت62فیصد ہو چکی ہے ۔سیکرٹری قانون و انصاف نے کمیٹی کو بتایا کہ کوٹہ سسٹم2013سے غیر قانونی ہو چکا ہے۔ اس کیلئے آئین میں ترمیم لانا نہایت ضروری ہے۔آئین کے آرٹیکل27کے تحت پارلیمنٹ نے20سال کیلئے کوٹہ سسٹم میں توسیع کی تھی جس کی مدت2013میں ختم ہو چکی ہے۔وزیر مملکتبرائے پارلیمانی امور کی کمیٹی اجلاس میں عدم شرکت کے باعث کمیٹی نے معاملہ اگلے اجلاس تک مٔوخر کر دیا۔کمیٹی اجلاس میں اسلام آباد کے سکولوں میں اساتذہ کی خالی نشستوں کا معاملہ بھی زیر غور آیا۔ سیکرٹری وفاقی تعلیم نے کمیٹی کو بتایا کہ اساتذہ کی285خالی اسامیوں میں بھرتی کیلئے فیڈرل پبلک سروس کمیشن کو درخواست کی جا چکی ہے۔اسلام آباد کے سکولوں میں اساتذہ کی کمیکے باعث ڈیلی ویجز پر اساتذہ کو بھرتی کیا گیا جن کو مستقل کرنے کا معاملہ سپریم کورٹ میں زیر غور ہے۔ سپریم کورٹ جو حکم دے گی اس پر عمل درآمد کریں گے۔

جو والدین معاشی مسائل کی وجہ سے بچوں کو سکول نہیں بھیج سکتے ان کیلئے خصوصی سکیم متعارف کرا رہے ہیں۔ ایک سال کے اندر اسلام آباد کے سکولوں کو پورے پاکستان کیلئے ماڈل بنائیں گے۔کمیٹی ارکان نے کہ وزیر مملکت داخلہنے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں طلبہ میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر تشویش ناک اعداد و شمار بتائے ہیں۔ اسلام آباد کی جامعات میں آئس کا نشہ تیزی سے پھیل رہا ہے جس کو روکنے کیلئے کوئی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔کمیٹی نے اسلام آباد کے تعلیمی اداروں میں منشیات کے بڑھتے ہوئے استعمال پر

تشویش کا اظہار کرتے ہوئے تعلیمی اداروں میں سروے کرانے کی ہدایت کر دی۔جوائنٹ سیکرٹری کامرس ڈویژن نے کمیٹی کو کمرشل کونسلرز پر بریفنگ دی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان کے42ممالک میں58کمرشل کونسلرز ہیں۔کمرشل کونسلز پاکستان کی ان ممالک میںبرآمداد بڑھانے کیلئے لابنگ کرتے ہیں۔پاکستان کی تجارت کا حجم اس وقت23ارب ڈالر ہے جو بہت کم ہے۔جن 100ممالک میں پاکستان کی برآمدات10ملین ڈالر سے زائد ہیں ان کے شہریوں کو پاکستانآمد پر ویزہ دیلے کی سہولت متعارف کرا رہے ہیں۔اس موقع پر وزیر اعظم کے

مشیر برائے کامرس عبد الرزاق دائود نے کہا کہ ہماری ترجیح ہے کہ انجینئرنگ، آئی ٹی، کیمیکلز، انگریکلچر اور دیگر شعبوں میں پاکستان کی برآمدات کو بڑھائیں۔پاکستان افریقہ میں برآمدات بڑھانے پر غور کر رہا ہے۔ اس سال افریقہ کو2ہزار ٹریکٹر برآمد کریں گے جس کی تعداد بعد ازاں بڑھائیں گے۔حکومتی پالیسیزکے باعث پاکستان کی برآمداد میں اضافہ اور درآمداد میں کمی آنا شروع ہو گئی ہے۔ اس پالیسی کے مزید

اثرات 6ماہ میں سامنے آئیں گے۔غیر ضروری اشیاء پر درآمدی ڈیوٹی میں اضافہ کیا گیا ہے۔برآمداد انڈسٹری کو ترجیحی بنیادوں پر گیس اور بجلی رعایتی قیمت پر فراہم کر رہے ہیں جس کے نتائج جلد سامنے آئیں گے۔افغانستان، بھارت اور ایران میں برآمداد کو بڑھانا پاکستان کے مفاد میں ہے۔