Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


قرون وسطیٰ کے زمانے کی خاتون کے دانتوں سے انتہائی نایاب پتھر دریافت، یہ پتھر اس وقت کون سے خطے میں پایا جاتا تھا؟

  ہفتہ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2019  |  12:36

جرمنی کے خانقاہ میں موجود قرون وسطیٰ کے زمانے کی خاتون کے ایک ڈھانچے پر تحقیق کرنیوالی ٹیم نے عورت کے دانتوں سے صدیوں پرانے نایاب پتھر دریافت کرلئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ سائنسدانوں کو خاتون کے دانتوں سے کسی زیور کی مانند نایاب نیلا پتھر ملا ہے جس سے ایک نئی تحقیق کے دور کا آغاز ہونے کا امکان ہے۔خاتون کے دانتوں سے ملنے والے پتھر کو ’لازی لائی‘ کہا جا رہا ہے، جو دراصل قیمتی جواہروں اور نایاب پتھر کی ایک قسم ہے۔

لازی لائی کو سنگ لاجورد بھی کہا جاتا

ہے اور یہ کسی زمانے میں سونے جتنا مہنگا ہوا کرتا تھا، تاہم اب یہ نایاب بن چکا ہے۔تحقیقی جرنل ’سائنس ایڈوانسز‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق تحقیق کاروں کو یہ نیلا نایاب پتھر جرمنی کے ایک خانقاہ میں موجود ایک خاتون کے ڈھانچے کے معائنے کے وقت ملاجس خاتون کے دانتوں سے یہ نیلا نایاب پتھر ملا، اس متعلق خیال کیا رہا ہے کہ ان کی عمر 45 سال سے 60 کے درمیان ہوگی اور ان کی موت ممکنہ طور پر 997 سے 1162 کے درمیان ہوئی ہوگی۔اس سے زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ جس خاتون کے دانتوں سے یہ نیلا پتھر ملا ہے، ان کے دانتوں یا اس نیلے پتھر پر ایسے کوئی نشانات موجود نہیں

جس سے اندازہ ہوکہ خاتون کو دانتوں کی کوئی بیماری ہو۔یہ نیلا نایاب پتھر جس خاتون کے ڈھانچے سے دریافت ہوا ہے، وہ قرون وسطیٰ کے زمانے میں جرمنی کے دیہات میں ایک چرچ میں مذہبی خدمات سر انجام دیتی تھیں۔خاتون کے دانتوں سے نایاب سنگ لاجورد کے ملنے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ جرمنی کے دیہاتوں میں رہنے والی خواتین سے متعلق بھی مزید کئی انکشافات سامنے آئیں گے۔ماہرین کے مطابق خاتون کے دانتوں سے ملنے والا سنگ لاجورد نامی نایاب نیلا پتھر قرون وسطیٰ کے زمانے میں صرف جنوبی ایشیا کے خطے میں پایا جاتا تھا، جب کہ زیادہ تر اس پتھر کی کانیں حالیہ افغانستان کے علاقے میں موجود ہوتی تھیں۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اس زمانے میں بھی سنگ لاجورد کو کانوں سے نکال کر اسے تراشنے کے بعد یورپ سمیت دنیا کے دیگر خطوں میں فروخت کیلئے بھیجا جاتا تھا اور یہ اس زمانے میں بھی قیمتی تھا۔ماہرین کو امید ہے کہ صدیوں پرانے خاتون کے ڈھانچے کے دانتوں سے ملنے والے اس نایاب پتھر کے بعد تحقیقات کے نئے دور کا آغاز ہوگا اور وہ یہ جاننے میں کامیاب جائیں گے اس وقت کی خواتین کی زندگی کس طرح گزرتی تھی۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎