بہترین زندگی کے راز, نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


سعودی عرب نے نوجوان لڑکے لڑکیوں کیلئے نیا قانون متعارف کروادیا مگر خلاف ورزی پر کوئی سزا نہیں۔۔ !!

  ہفتہ‬‮ 12 جنوری‬‮ 2019  |  14:32

سعودی عرب میں شادی کی عمر کی حد 15سال سے بڑھا کر 18سال مقرر کر دی۔ تفصیلات کے مطابق سعودی عرب کی شوریٰ نے کم عمری میں شادی کے خلاف بل منظور کرتے ہوئے کم سے کم شادی کی عمر 18 سال مقرر کردی ہے تاہم اس سے قبل شادی کیلئے کم سے کم عمر 15 سال مقرر کی گئی تھی تاہم اب اسے بڑھا کر 18 کر دیا گیا ہے۔عبداللہ الشیخ کی زیر صدارتشوریٰ کونسل کا اجلاس میں کابینہ کے اراکین نے کم عمری کے خلاف شادی کا بل پیش کیا

جسے کثرت رائے سے منظو

رکر لیا گیا ہے ۔شوریٰ کونسل کے نائب صدر ڈاکٹر یحیحیٰ الثمان کی جانب سے جاری کئے گئے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ شوریٰ اراکین نے گزشتہ سیشن میں اسلامی قوانین کے لیے بنائی جانے والی کمیٹی کی پیش کردہ سفارشات کو سننے کے بعد ان پر غور کیا اور پھر اس قانون کو منظور کیا۔ن کا کہنا تھا کہ اس سے قبل قانونی طور پر لڑکوں اور لڑکیوں کو 15 سال کی عمر میں شادی کی اجازت تھی مگر اب ایسا نہیں ہوگا۔شوریٰ کونسل نے جو قانون منظور کیا اس میں شادی کی عمر کم سے کم 18 سال مقرر کی گئی علاوہ ازیں اس نقطے پر بھی سب نے اتفاق کیا کہ ایسی لڑکیاں یا لڑکے جو شادی کے قابل نہیں

ان کا زبردستی نکاح کروانا بھی جرم میں شمار کیا جائے گا۔اعلامیہ میں یہ بات بھی واضح کی گئی ہے کہ تاحال قانون کی خلاف ورزی پر کوئی سزا متعین نہیں کی گئی تاہم جلد اس حوالے سے سزائوں کا تعین کر دیا جائیگا۔ واضح رہے کہ اس سے قبل سعودی عرب میں منظور ہونے والے ایک نئے سائبر قانون میں میاں بیوی کا ایک دوسرے کی موبائل فون پر جاسوسی کو ابل سزا جرم قرار دیا ہے۔عرب ٹی وی کے مطابق مملکت میں میاں بیوی میں سے کسی ایک پردوسرے کی موبائل فون کی مدد سے جاسوسی ثابت ہونے پرکم سے کم ایک سال قید اور 500 ریال جرمانہ یا ایکساتھ دونوں سزائیں دی جاسکیں گی۔

سعودی عرب میں قانونی حکام کے مطابق میاں بیوی میں سے کسی ایک کا دوسرے کے موبائل کو غیرقانونی طورپر جاسوسی کےمقصد کے لیے استعمال کرنا جرم تصور کیا جائے گا۔ اس کے لیے اتنا ہی کافی ہے کہ اگر کوئی ایک دوسرے کے موبائل فون کے کوڈ کو اس کی مرضی کے خلاف کھولے یا توڑ کر اس کی پرائیسوی میں مداخلت کرے۔اسی طرح آن لائنمواصلاتی رابطوں کے ذرائع کو ایک دوسرے کے لیے جاسوسی کے لیے استعمال کرنے کی بھی یہی سزا ہووگی۔ میاں بیوی دونوں کا ایک دوسرے کے موبائل فون کی چھان بین کرنا جاسوسی کے زمرے میں آئے گا اور اسے بھی قانونی طورپر منع کردیا گیا ہے۔ ایسا کرنے پر جج جاسوسی کے مرتکب فرد کو تعزیری سزا دینے کامجاز ہوگا۔

سعودی عرب میں مشیر قانون عبدالعزیز باتل نے عرب ٹی ویسے بات کرتے ہوئے نئے عائلی قانون پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ جاسوسی کی بناء پر شوہر یا بیوی سے جرمانے کی شکل میں لی جانے والی رقم قومی خزانے میں جمع کرائی جائے گی۔ ان کاکہنا تھا کہ شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے کے لیے جاسوسی صرف اسمارٹ موبائل فون ہی تک محدود نہیں بلکہ کمپیوٹر اور کیمروں کے ذریعے بھی ہوسکتی ہے اور ان سب آلات کے ذریعے جاسوسی پر مذکورہ قانون کا اطلاق ہوگا۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ مذکورہ قانون کا اطلاق والدین پر اپنی اولاد کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے پر نہیں ہوگا۔ اس قانون کی رو سے میاں بیوی ایک دوسرے کے موبائل فون میں دوسرے کی اجازت کے بغیر داخل ہونے کے مجاز نہیں ہوں گے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎