Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


65ء اور 71ء کی جنگیں لڑنے والا فوجی عدالت میں جا پہنچا تمغہ جرات سے نواز ا جانے والے فوجی کا کیا حال ہو گیا ؟

  جمعہ‬‮ 18 جنوری‬‮ 2019  |  15:40

پاکستان کی دو جنگوں میں حصہ لینے والے ڈیکوریٹڈ فوجی اہلکار نے اپنی پنشن میں اضافے اور ملٹری اسپتال میں علاج معالجے کی مفت سہولت حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر لیا۔ عدالت نے سابق فوجی اہلکار کی جانب سے دائر کی جانے والی درخواست کو سماعت کے لیے منظور کرتے ہوئے وزارت دفاع سمیت دیگر فریقین کو بھی نوٹسز جاری کر دئے ہیں۔

عدالت میں دائر کی جانے والی درخواست میں سابق فوجی اہلکار یاسین دسوندی خان نے بتایا کہ مجھے 4 دسمبر 1964 کو پنجاب ملٹری رجمنٹ میں شامل کیا گیا۔ 1965 میں

پاک بھارت جنگ کے دوران مجھے چمب کے علاقہ میں تعینات کیا گیا جہاں میں نے اپنے ملک کا دفاع کیا۔ انہوں نے بتایا کہ جنگ کے بعد مجھے تمغہ جرات سے نوازا گیا۔چار سال کے بعد مجھے ریزروز میں بھیج کر 14 روپے کی ماہانہ پینشن پر رکھا گیا۔جس کے بعد 1971 میں بھی پاک بھارت جنگ کے دوران مجھے دوبارہ طلب کر کے رنگ پور کے علاقہ میں تعینات کیا گیا۔ تاہم وہ بھارتی فوجیوں کی گرفت میں آگئے اور تین سال تک بھارتی فوج کی قید میں رہے۔

انہوں نے اپنی درخواست میں بتایا کہ میں 2 اپریل 1974 کو وطن واپس آیا اور وطن واپسی پر مجھے ایک اور ایوارڈ سے نوازا گیا۔ لیکن ایک سال کے بعد 12 جولائی 1975 کو مجھے جبری ریٹائرمنٹ پر بھیج دیا گیا۔1981 میں مجھے فرنٹ لائن پر طلب کیا گیا، اور چار دسمبر 1982 کو مجھے ایک مرتبہ پھر سے ریزروز میں بھیج دیا گیا۔ یاسین کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ انہوں نے مجموعی طور پر 10 سال 7 ماہ اور8 دن فوج میں اپنے فرائض انجام دئے،

ان کی خدمات کے باوجود انہیں پینشن کے طور پر 1 ہزار 375 روپے ادا کیے جاتے ہیں اور انہیں مفت علاج معالجے کی سہولیات بھی فراہم نہیں کی گئیں۔72 سالہ یاسین کا کہنا ہے کہ 2018 میں حکومت نے میری پینشن میں اضافہ کر کے 10 ہزار روپے مقرر تو کی لیکن حکومتی اقدامات پر عملدرآمد نہیں کیا گیا۔لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بینچ کے جسٹس میراز وقاص نے اس کیس کا نوٹس لیا اور اسے سماعت کے لیے منظور کر لیا۔ انہوں نے وزارت دفاع سمیت دیگر فریقین کو آئندہ تین ہفتوں میں جواب جمع کروانے کی بھی ہدایت کر دی۔واضح رہیکہ ڈیکوریٹڈ فوجی اہلکار وہ فوجی اہلکار ہوتا ہے جسے اس کی بہادری کی بنا پر اعزازات اور تمغات سے نوازا جاتا ہے۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎