Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


شہادت سے پہلے 400دہشتگردوں کا مقابلہ، پاک فوج کا ایسا شہید افسرجو آج بھی اپنی والدہ سے باتیں کرتا ہے، دنیا کی عسکری تاریخ میں نیا باب رقم کرنیوالے میجر واصف حسین شاہ شہید کی شہادت کا ایسا واقعہ جو آپ کے خون میں بجلیاں بھر دیگا

  جمعہ‬‮ 18 جنوری‬‮ 2019  |  16:54

اسلام آباد شہادت ہے مطلوب مقصود مومن ، نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی۔ علامہ اقبال نے شہادت کی خواہش کو اتنے خوبصورت انداز میں نہایت جامعہ انداز میں بیان کر کے دنیا پر شہادت کے شوق کی ایسی تصویر کشی کر دی ہے کہ رہتی دنیا تک لوگ شہادت کی تمنا کو اقبال کے اس شعر سے سمجھتے رہیں گے۔ وطن عزیز پاکستان پر جب دہشتگردی کی آسیب نےپنجے گاڑے تو وطن کی مٹی میں کچھ آشفتہ سر میدان میں آئے اور

اس مملکت خداداد کی حفاظت کیلئے اپنا کل ہم لوگوں کے آج پر نچھاور

کرتے ہوئے شہید سے کئے گئے رب تعالیٰ کے حسین وعدوں کے سپرد کر دیا۔ انہی آشفتہ سروں میں ایک مانسہرہ کی غیور دھرتی کا سپوت میجر واصف حسین شاہ بھی تھا۔ خانوادہ اہل بیت ؓ سے تعلق رکھنے والا پاک دھرتی کا یہ سپوت میدان میں اترا تو اس کے خون میں علیؓ کی شجاعت بھی دوڑ رہی تھی اور حسینؓ کی قربانی کا جذبہ بھی۔ اپنے عظیم اسلاف کے کارناموں کو دیکھتے ہوئے میجر واصف حسین شاہ شہید نے وہ کارنامہ سر انجام دے دیا جودنیا کی عسکری تاریخ لکھنے والوں کو ورطہ حیرت میں ڈال گیا۔ یہ 15اکتوبر 2014کا دن تھا۔

میجر واصف حسین شاہ شہید اپنے 4جوانوں کے ہمراہ دشمن کے نرغے میں تھے۔ دشمن بھی پانچ یا دس نہیں بلکہ 400کے قریب دہشتگردوں گیڈروں کے غول نے شیروں کو گھیر رکھا تھا۔ پھر وہ معرکہ عسکری تاریخ میں رقم ہوا کہ دنیا ورطہ حیرت میں مبتلا ہو گئی۔ میجر واصف حسین شاہ شہید اور ان کے 4جوان دشمن کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئے۔ جنوبی وزیرستان کے علاقے دتہ خیل میں گھمسان کا رن پڑا ہوا تھا۔ دور سے دیکھنے پر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ دو طاقتور فوجیں پوری قوت سے آپس میں ٹکرا گئی ہیں مگر ایک طرف صرف 4اور دوسری جانب 400کا لشکر تھا۔میجر واصف حسین شاہ شہید اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھاتے اور دشمن پر بڑھ چڑھ کر حملہ کرتے، وہ کبھی ایک جانب چاروں ساتھیوں کو لیکر ہلہ بول دیتے تو کبھی دوسری جانب ، دشمن بوکھلا گیا ، میجر واصف حسین شاہ شہید کامیاب ہو چکے تھے

وہ دشمن کو باور کراچکے تھے کہ اس کا مقابلہ چار سے نہیں بلکہ اپنی تعداد کے برابر حریف سے ہے۔ کئی گھنٹے مقابلہ جاری رہا بالآخر دشمن نےآخری ہلہ بول کر پسپا ہونے کا ارادہ کر لیا۔ اس دوران میجر واصف حسین شاہ شہید کی کمان میں ان کے ساتھی دشمن کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا چکے تھے ۔ میجر واصف حسین شاہ شہید سمجھ چکے تھے دشمن پسپا ہونے سے قبل زبردست حملہ کرنے پر آچکا ہے ۔ وہ بھی فیصلہ کر چکے ، آخری فیصلہ۔ انہوں نے نہ صرف اس حملے کو پسپا کرنے بلکہ دشمن کو مزید نقصان پہنچانے کی ٹھان لی تھی ۔400سو دہشتگردوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنے والے نے دشمن کے چھکے چھڑا دئیے اور پھر خدا کا وعدہ آن پہنچا۔

میجر واصف حسین شاہ کو شہادت کے عظیم مرتبے پر فائز کرنیکا حکم۔ وطن کے عظیم سپوت نے بہادری، شجاعت کی ایسی داستان رقم کر دی تھی کہ رہتی دنیا تک بزدل دشمن اپنے زخم چاٹنے پر مجبور ہو چکا تھا۔ میجر واصف حسین شاہ نے جان جانِ آفرین کے سپرد کیاور شہادت کے عظیم مرتبے کو پا لیا۔ مانسہرہ کے نواحی علاقے شیخ آباد میں آپ کی تدفین ہوئی۔ پاک فوج نے اپنے اس بہادر سپوت کو ستارہ بسالت سے نوازا اور آج 6ستمبر 2018کے موقع پر پوری قوم اپنے شہدا کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کی عظیم قربانیوں پر ان کے اہل خانہ کو خراج عقیدت پیش کر رہی ہے۔پاکستان کے ایک مؤقر اخبار سے بات کرتے ہوئے میجر واصف حسین شاہ شہید کےوالد ارشاد حسین شاہ کا کہنا ہے کہ بحیثیت انسان اولاد کا دکھ ضرور ہوتا ہے

مگر میرے بیٹےنے جو کارنامہ پاکستان کے لئے،اس ملک کے عوام کے لئے اور امن کے لئے سر انجام دیا ہے میں اسےسلیوٹ کرتا ہوں۔میجر واصف کی شجاعت کے اعتراف میں بیدڑہ روڈ کو ان کے نام سے منسوب کردیا گیا ہے۔ میجر واصف کی یادوں کو سینے سے لگائے والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنے ارد گرد شہید بیٹےکی موجودگی کو بار بار محسوس کرتی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ وہ اللہ کے پاس ہےبہت خوش ہے، میری بچی کے خواب میں آیا اور کہا امی جان کو بولیں پریشان نہ ہوں میں انکے پاس ہوں اور میں نے جو کام کیا ہے انکی اور والد کی عزت کے لئے کیا ہے۔میجر واصف اور ان جیسے سیکڑوں جوانوں کی شہادت اس بات کی گواہ ہے کہ پاکستان کے فرزند ارض پاک پر جان قربان کرنے کے لئے پوری طرح تیار ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎