Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


روسی انقلاب کے دور میں اذان اور نماز پر پابندی تھی لیکن ایک نوجوان روزانہ پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نماز پڑھتا تھا،روسی پولیس اس سے اذان اور نماز نہ رکوا سکے، وہ پولیس کو کیسے چکما دیتا تھا؟ ایک انتہائی ایمان افروز واقعہ

  پیر‬‮ 11 فروری‬‮ 2019  |  13:13

حضرت مولانا پیر ذوالفقار احمد نقشبندی سمرقند کے سفر کا ایک واقعہ سناتے ہیں کہ سمرقند میں عالم ایک نوجوان کو مجھ سے ملانے کیلئے لائے اور بتایا کہ یہ وہ خوش نصیب نوجوان ہے جو روسی انقلاب کے زمانے میں روزانہ پانچ مرتبہ اذان دے کر کھلے عام نمازیں پڑھتا تھا۔ یہ سن کر مجھے حیرت ہوئی اور پوچھا وہ کیسے؟ اس نوجوان نے اپنی پیٹھ پر سے کپڑا ہٹا دیا‘ ہم نے دیکھا تو اس کی پیٹھ کے ایک ایک انچ پر زخموں کے نشانات موجود تھے‘میں نے پوچھا یہ کیا معاملہ

ہے۔ اس نے

اپنی داستان بیان کرنا شروع کی‘ وہ کہنے لگا جب میں نے پہلی مرتبہ اذان دی تو پولیس والے مجھے پکڑ کر لے گئے اور خوب مارا‘ میں جان بوجھ کر اس طرح بن گیا جس طرح کوئی پاگل ہوتا ہے وہ جتنا زیادہ مارتے میں اتنا زیادہ ہنستا‘ ایک وقت میں کئی کئی پولیس والے مارتے مارتے تھک جاتے مگر میں اللہ کے نام پر مار کھاتے کھاتے نہ تھکتا۔ مجھے بجلی کے جھٹکے بھی لگائے گئے مگر میں نے برداشت کر لئے۔ مجھے کئی کئی گھنٹے برف پر لٹایا گیا‘ مجھے پوری پوری رات الٹا لٹکایا گیا‘ مجھے گرم چیزوں سے داغا گیا‘ میرے ناخن کھینچے گئے مگر میں اس طرح محسوس کرواتا جیسے کوئی پاگل ہوتا ہے

میں جان بوجھ کر پاگلوں والی حرکتیں کرتا تھا‘ پولیس والوں نے ایک سال میری پٹائی کرنے کے بعد مجھے پاگل خانے بھجوا دیا‘ وہاں بھی میں نے ایک سال اسی طرح گزارا حتیٰ کہ ڈاکٹروں نے لکھ کر دے دیا کہ یہ شخص پاگل ہے اس کا ذہنی توازن خراب ہے یہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتا۔ یہ اپنے آپ میں مگن رہتا ہے لہٰذا اب اس کو دوبارہ گرفتار نہ کیا جائے چنانچہ اس ڈاکٹری رپورٹ پر مجھے آزاد کر دیا گیا جب میں باہر آیا تو میں نے ایک جگہ پر چھوٹی سی مسجد نماز کیلئے بنائی میں وہیں دن میں پانچ مرتبہ اذانیں دیتا اور پانچ نمازیں کھلے عام پڑھا کرتا تھا۔میں نے اس نوجوان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور اس کے چہرے کو بار بار دیکھتا رہا اور اس کی ثابت قدمی پر رشک کرتا رہا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎