Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


فاحشہ

  پیر‬‮ 11 فروری‬‮ 2019  |  14:17

ہم گریجویشن کرکے فارغ ہونے والے تھے۔ ایک روز میرے کچھ کلاس فیلوز نے مجھے فون کیا۔ انہوں نے اسلام آباد کی سیر کا پروگرام بنایا تھا۔ یہ ایک دن کا پروگرام تھا اور ہمیں اسی روز شام کو واپس لاہور آنا تھا۔ وہ تمام لڑکے میرے بہت اچھے دوست تھے اور ہم پہلے بھی اکٹھے سیروتفریح کے لیے جاچکے تھے۔ ہم سب ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے لہٰذا میرے لیے ان کے ساتھ جانے میں کوئی مسئلہ نہیں تھا چنانچہ

میں نے بلا سوچے سمجھے ہاں کہہ دی۔ ہم صبح لاہور سے نکلے

اور اسلام آباد پہنچ گئے۔ ہم نے وفاقی دارالحکومت کے تمام سیاحتی مقامات کی سیر کی۔ ’مونال‘ میں ڈنر کیا، اور لاہور کے لیے واپس نکل پڑے۔ اسلام آباد سے موٹروے پر چڑھتے ہی ٹول پلازے پر ہمیں ایک پولیس والے نے روک لیا۔ میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی۔ وہ سیدھا میرے پاس آیا اور اس نے پہلا فقرہ یہ بولا کہ ”لڑکوں کے ساتھ کہاں جا رہی ہو؟“ میں نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے پوچھا کہ ”تم سے مطلب؟“ اتنے پچھلی سیٹوں پر بیٹھے میرے کلاس فیلوز باہر نکلے اور پولیس والے کو لے کر کچھ دور چلے گئے۔ 5منٹ بعد وہ واپس آئے اور جلدی سے گاڑی میں بیٹھ کر آگے بڑھ گئے۔ وہ مجھ کچھ بتا نہیں رہے تھے مگر جب میں نے اصرار کیا تو انہوں نے بتایا کہ

 پولیس والا ہمارے بارے میں کچھ غلط سمجھ رہا تھا۔ اس نے 500 روپے رشوت مانگی تھی جو اسے دے کر ہم نے جان چھڑوائی ہے۔ جب میں نے اس پر کچھ احتجاج کیا کہ تم لوگوں نے کیوں رقم دی، تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے قانون کے مطابق وہ ہم پر فحاشی کا الزام لگا کر ہم سب کو جیل میں ڈال دیتا۔ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی۔ جب ہم لاہور میں داخل ہوئے تو ایک بار پھر ہمیں یہاں ایک پولیس والے نے روک لیا۔ اس سے بھی میرے ساتھ موجود لڑکوں نے 500روپے رشوت دے کر جان چھڑائی مگر یہ رشوت خور پولیس اہلکار جاتے ہوئے مجھے ’فاحشہ‘ کہنا نہیں بھولا۔ میں آج بھی حیران ہوتی ہوں کہ ان پولیس والوں نے مجھے دیکھتے ہی یہ کیسے طے کر لیا کہ میں کوئی جسم فروش عورت ہوں اور لڑکوں کے ساتھ جا رہی ہوں؟کیا میرا جرم صرف یہ تھا کہ میں عورت ہوں؟

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎