Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


افسوس کہ تم نے تو بیوی کا قرب مانگا

  پیر‬‮ 11 فروری‬‮ 2019  |  18:48

حضرت اقدس تھانوی رحمتہ اللہ علیہ نے لکھا ہے کہ ایک آدمی طالب صادق تھا کسی شیخ سے بیعت تھا‘ اس شیخ کی نظر اس کے مال پر تھی اس آدمی نے ایک خواب دیکھا اور آکر پیر صاحب کو بیان کیا‘ کہنے لگا‘ حضرت! میں نے خواب دیکھا ہے کہ آپ کے ہاتھ پر شہد لگا ہوا ہے اور میرے ہاتھ پر گندگی لگی ہوئی ہے‘ بس پیر صاحب نے سنا تو فوراً کہہ اٹھے کہ یہ بالکل سچا خواب ہے کیونکہ ہم دیندار لوگ ہیں‘ ہمارے ہاتھ پر شہد لگا ہوا ہے اور تم دنیا دار

ہو اور تمہارے

ہاتھ پر نجاست لگی ہوئی ہے وہ کہنے لگا حضرت ابھی پورا خواب تو سنیں‘ پورا خواب کیا ہے؟ کہنے لگا کہ آپ نے اپنا ہاتھ میرے منہ میں دیا ہوا ہے اور میں نے اپنا ہاتھ آپ کے منہ میں دیا ہوا ہے۔ مرید کو عقیدت کی وجہ سے شیخ سے پھر بھی فائدہ ہو رہا تھا مگر شیخ کی نظر چونکہ مرید کی جیب پر تھی اس لئے اس کو اس سے نقصان ہو رہا تھا۔ میں نے تو شیخ کو آزما لیا ہے ایک آدمی نے کسی بزرگ کو بتایا کہ میرے شیخ بڑے کامل بزرگ ہیں انہوں نے پوچھا کہ وہ کیسے؟ وہ کہنے لگا کہ میں نے ان کو آزما لیا ہے۔ وہ واقعی اللہ والے ہیں۔ انہوں نے پوچھا کہ تم نے کیسے آزما لیا ہے؟ وہ کہنے لگا کہ ایک دفعہ میری بیوی روٹھ کر میکے چلی گئی۔

 میں نے اپنے سسرال والوں کی بڑی منت سماجت کی لیکن وہ اپنی بیٹی کو میرے ساتھ بھیجنے سے انکار ہی کرتے رہے بالآخر میں اپنے شیخ کی خدمت میں حاضر ہوا اور سارا معاملہ عرض کر دیا انہوں نے مجھے ایک ایسا عمل بتایا کہ میں نے جیسے ہی وہ عمل کیا او ربیوی کو لینے گیا تو انہوں نے بغیر کسی حیل و حجت کے اسے میرے ساتھ کر دیا یہ بات سن کر وہ بزرگ افسوس کرنے لگے کہ تو نے اپنے شیخ کی قدر ہی نہیں کہ وہ کہنے لگا حضرت! میرے دل میں اپنے شیخ کی قدر ہے اسی لئے تو میں کہہ رہا ہوں کہ وہ بڑے کامل بزرگ ہیں۔ حضرت نے فرمایا تمہیں تو اپنے شیخ سے اللہ کے قرب کا سوال کرنا چاہئے تھا لیکن افسوس کہ تم نے تو بیوی کا قرب مانگا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎