Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


گاڑی سٹارٹ کیوں نہیں ہوتی تھی؟

  پیر‬‮ 13 مئی‬‮‬‮ 2019  |  16:41

ایک دن جنرل موٹرز کے پونٹیاک ڈویژن میں ایک شکایتی خط موصول ہوا۔ جب جنرل موٹرز کے مالک نے خط پڑھا تو لکھا تھاکہ میں ایک عام آدمی ہوں اور میں نے دو ماہ پہلے آپ کی پونٹیاک خریدی ہے۔ گاڑی بہت زبردست ہے اور کوئی مسئلہ بظاہر نظر نہیں آتا مگر میری ایک شکایت ہے۔ دراصل ہمارے گھر میں کھانے کے فوراً بعد آئس کریم کھانے کا رواج ہے۔ میں اکثر کھانا باقیوں سے پہلے ختم کر کے آیس کریم پارلر کی طرف نکلا جاتا ہوں۔میری بات آپ کو عجیب لگے گی مگر یہ سچ ہے کہ

style="text-align: right;">جب بھی میں ونیلا فلیور کی آئس کریم لے کر آتا ہوں تو گاڑی سٹارٹ ہونے میں مسئلہ دیتی ہے۔ہمیشہ زیادہ وقت لیتی ہے۔ مجھے خط تحریر کرتے ہوئے بھی شرمند گی ہو رہی ہے کیونکہ میری شکایت بالکل بچگانہ لگ رہی ہے اور مجھے معلوم ہے کہ آپ مجھے پاگل سمجھیں گے لیکن یہ حقیقت ہے۔ پلیز کسی بندے کو جلد سے جلد میرا مسئلہ حل کرنے کے لیے بھیجیں۔ ڈائیرکٹر نے یہ خط پڑھا تو اسے کافی غصہ آیا مگر اس نے گارنٹی کے کاغذوں میں شروع کے مہینوں میں ہر طرح کی شکایات کا حل فراہم کرنے کا دعوہ کیا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اس پر کیس ہو سکتا تھا تو اس نے اپنے ایک ماہر انجینئر کو بلایا اور تحمل سے سمجھایا کہ یہ شکایت ہے اور میں خود بھی اس پر بالکل یقین نہیں کرتا لیکن کیونکہ ہمیں اس کا جواب نہ دینا مہنگا پڑ سکتا ہے اس لیے تم کل صبح جاؤ اور اس کے ساتھ جا کر بات چیت کرو۔اگلے دن وہ انجینئر اس کے گھر پہنچا تو حیران رہ گیا کہ

 وہ ایک بہت مہنگے علاقے کا رہائشی تھا اور گاڑی بہت اچھے سے رکھے ہوئی تھی۔ جب وہ آدمی باہر نکلا تو یہ انجینئر مزید حیرت میں پڑھ گیا کیونکہ یہ ایک باوقار تعلیم یافتہ اور وجیہہ شخص تھا اور بالکل بھی بے وقوف یا بونگا نہیں لگتا تھا۔انجینئر نے اس سے مخاطب ہو کر پوچھا کہ کیا مسئلہ ہے؟ میں نے آپ کا خط تفصیل سے پڑھا ہے لیکن اس کا سائنسی اعتبار سے کوئی سر پیر نہیں بنتا۔ آپ ایک پڑھے لکھے آدمی معلوم ہوتے ہیں تو پھر آپ کیسے اس طرح کی بات کر سکتے ہیں۔ اس آدمی نے انجینئر سے بولا کہ میں رات کو نو بجے روز رات کو آئس کریم پارلر کا چکر لگاتا ہوں۔ آپ رات کو میری طرف آنا۔ پھر خود دیکھ لینا کہ میں سچ بول رہا ہوں یا جھوٹ۔ آئس کریم فلیور سے گاڑی کے سٹارٹ ہونے نہ ہونے کا براہ راست کوئی تعلق نہیں ہو سکتا اور

مجھے بذات خود بھی اس کا کوئی منطق نظر نہیں آتا مگر آپ دو تین دن میرے ساتھ چل کر خود دیکھ لو کہ ایسا ہے یا نہیں؟ کیونکہ وہ اتنا پڑھا لکھا آدمی تھا اور اچھے خوشحال بیک گراؤنڈ کا لگتا تھا تو انجینئر اس کی بات مان گیا۔ اس دن رات کو وہ اس آدمی کے گھر نو بجے پہنچا اور دونوں پونٹیاک لے کر آئس کریم پارلر کی طرف نکلے۔ جب وہ ونیلا آئس کریم لایا تو بیٹھا اور گاڑی سٹارٹ کی مگر وہ کافی دیر لگا کر سٹارٹ ہوئی۔ انجینئر نے سب کچھ دیکھا اور واپس اپنے گھر چلا گیا۔اگلے روز پھر نو بجے وہ دونوں آئس کریم پارلر گئے اور اب کی بار وہ چاکلیٹ آیس کریم لایا لیکن جب گاڑی سٹارٹ کی تو فوراً سے سٹارٹ ہو گئی۔ اگلی رات پھر دونوں آئے اس نے سٹرابیری فلیور لیا اور گاڑی سٹارٹ کی۔ یکدم ہو گئی اور دونوں واپس لوٹ گئے۔ تیسری رات اس آدمی نے کوئی اور فلیور لیا اور گاڑی پھر سے سٹارٹ ہو گئی۔ اب چوتھی رات دونوں گئے اور اس نے اپنی بات منوانے کے لیے پھر سے ونیلا فلیور لیا اور واپس آیا۔ جب گاڑی سٹارٹ کی تو اس نے بہت وقت لے لیا اور کافی مسئلہ دیا۔

انجینئر خود بھی حیران تھا لیکن وہ بہت اچھی طرح جانتا تھا کہ اس کا آئس کریم فلیور سے کوئی تعلق نہیں ہو سکتا تھا۔ اس نے اس آدمی سے پوچھا کہ ونیلا فلیور کہاں سے لے کر آتے ہو۔ وہ آدمی بولا کہ آئس کریم پارلر کچھ اس طرح سے بنایا گیا ہے کہ سارے فلیور کے سٹال پیچھے لگے ہوئے ہیں اور کافی رش رہتا ہے اس لیے ان کو لینے میں بہت وقت لگ جاتا ہے جبکہ ونیلا آئس کریم کا سٹینڈ بالک سامنے لگا ہوا ہے اور عموماً ادھر بہت کم رش ہوتا ہے اور میں فوراً ائس کریم لیکر واپس آجاتا ہوں۔ انجینئر خوش ہوا کیونکہ وہ سمجھ گیا تھا کہ مسئلہ آئس کریم کا نہیں تھا بلکہ وقت کا تھا۔ گاڑی زیادہ وقت بند رہنے کے بعد یکدم سٹارٹ ہو جاتی تھی لیکن

اگر پانچ منٹ سے کم وقت کے بعد اس کو پھر سٹارٹ کرتا تھا تو وہ مسئلہ دیتی تھی۔ اس نے اس آدمی سے آئل کی ساری تفصیلات مکمل کیں، پھر گاڑی کا انجن چیک کیا۔ اگلے دن وہ صبح اس کے گھر پہنچ گیا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ ٓائس کریم کا اس مسئلے سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ ویپر لاک کا مسئلہ تھا۔ جب وہ آدمی کوئی بھی دوسرافلیور لیتا تھا تو اتنا وقت لگ جاتا تھا کہ انجن ٹھنڈا ہو جاتا تھا اور گاڑی فوراً سٹارٹ ہو جاتی تھی مگر جب وہ دو منٹ میں واپس آجاتا تھا تو ابھی انجن کا ویپر لاک ختم نہیں ہوا ہوتا تھا۔ اسی لیے گاڑی سٹارٹ ہونے میں وقت لگاتی تھی۔ کبھی کبھی ایسے مسئلے جو بالکل پاگلوں والے لگتے ہیں وہ بھی در حقیقت اپنا وجود رکھتے ہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎