Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


ایران پر حملے کی تیاریاں،امریکی بمبار طیاروں کے اسکواڈرن قطر پہنچ گئے،کاؤنٹ ڈاؤن شروع

  بدھ‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2019  |  11:13

امریکا نے غیر مخصوص ایرانی دھمکیوں کے تناظر میں اپنے بی باون بمبار طیاروں کو خطے میں تعینات کر دیا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کا یہ 20 واں اسکواڈرن امریکی ریاست لْوئزیانا کی بارکس ڈیل ایئر فورس بیس سے قطر پہنچا۔ اس سے قبل امریکا اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی ممکنہ ایرانی اقدامات کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق ان بمبار طیاروں کا ایک اسکواڈرن خلیجی ریاست قطر میں

واقع امریکی فوجی اڈے پر پہنچنا شروع ہو گیا ہے۔

ان جنگی طیاروں کو قطری دارالحکومت دوحہ کے جنوب مغرب میں واقع العدید ایئر بیس پر کسی بھی ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لیے رکھا جا رہا ہے۔ ان ہوائی جہازوں کا یہ 20 واں اسکواڈرن امریکی ریاست لْوئزیانا کی بارکس ڈیل ایئر فورس بیس سے قطر پہنچا۔ اس سے قبل امریکا اپنا ایک طیارہ بردار جنگی بحری جہاز یو ایس ایس ابراہم لنکن بھی ممکنہ ایرانی اقدامات کے تناظر میں مشرق وسطیٰ کی طرف روانہ کر چکا ہے۔دریں اثناء مصر کی نہر سویز اتھارٹی نے کہا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرقِ اوسط میں طیارہ بردار بحری بیڑے ابراہام لنکن کو نہر سویز سے گزرنے والے ایرانی بحری جہاز وں کی ’سدِّ راہ‘ اور ان پر نظر رکھنے کے لیے بھیجا ہے۔امریکا کے قومی سلامتی کے مشیر جان بولٹن نے ا ایک بیان میں کہا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ایران کی دھمکیوں اور پریشان کن اشاروں کے ردِعمل میں طیارہ بردار بحری بیڑے کو مشرقِ اوسط میں لنگر انداز کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔اس سے امریکا یہ بھی ظاہر کردے گا کہ وہ کسی بھی حملے کا تباہ کن طاقت سے جواب دے گا۔ایران نے امریکا کے طیارہ بردار بحری جہاز کو خطے میں بھیجنے کے اعلان کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ

یہ ایک پرانی خبر ہے اور اس کو ایک نفسیاتی حربے کے طور پر نئے انداز میں پیش کیا جا رہا ہے۔علاوہ ازیں امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے سے پیدا ہونے والی کشیدگی کے پیش نظر ایرانی قیادت سے بات چیت کا عندیہ دیدیا۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایرانی قیادت سے بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ جو کچھ میں ایران سے چاہتا ہوں اس کے لیے تہران بات چیت کے لیے پہل کرے۔امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ سابق امریکی سیکریٹری آف اسٹیٹ جان کیری نے کہا تھا کہ ایران کو بات چیت کے لیے طلب نہ کیا جائے بلکہ وہ واشنگٹن کو بلائے۔انہوں نے کہا کہ اگر ایرانی حکام ایسا کرتے ہیں، ہم ان سے بات چیت کے لیے آمادہ ہیں۔واضح رہے کہ گزشتہ روز ہی امریکا نے ایران پر اسٹیل اور کان کنی کی صنعت پر پابندی عائد کردی تھی۔مذکورہ پابندی کے نتیجے میں ایران سے لوہا، اسٹیل، المونیم اور تانبا خریدنے یا تجارت کرنے والے کو بھی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔اس سے قبل وائٹ ہاؤس نے تمام ممالک پر ایران سے تیل خریدنے پر پابندی عائد کی تھی جو اس کی آمدن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ امریکا کی جانب سے پابندی کا فیصلہ ایسا وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران نے جوہری معاہدے کے بعض نکات پر حاصل تجارتی استثنیٰ میں توسیع نہ کرنے پر 60 دن کی مہلت دی تھی۔ایران نے کہا تھا کہ

اگر معاہدے کے دیگر فریق ممالک (جرمنی، برطانیہ، روس، چین اور فرانس) جوہری معاہدے پر جاری بحران ختم کرانے میں ناکام ہوتے ہیں تو وہ یورینیم کی افزودگی دوبارہ شروع کردے گا۔جس پر معاہدے کے تمام فریقین نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران جوہری معاہدے کی پاسداری جاری رکھے۔ جرمن چانسلر کے ترجمان اسٹیفن سیبارٹ نے کہا تھا کہ ہم بطور یورپی، جرمن ہونے کے ناطے مکمل طور پر اپنا کردار ادا کریں گے اور ایران سے بھی مکمل عملدرآمد کی توقع کریں گے۔واضح رہے کہ عالمی عدالت کی جانب سے امریکا کو ایران پر عائد اقتصادی پابندیاں ختم کرنے کا حکم سامنے آنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ انتظامیہ نے تہران کے ساتھ 1955 کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا۔ایران کے ساتھ معاہدہ سابق صدر براک اوباما کے دور میں کیا گیا تھا تاہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقتدار میں آنے کے بعد مئی 2018 میں خود کو اس ڈیل سے علیحدہ کرلیا تھا۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎