Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


زمین کے نیچے 410 میل کی گہرائی میں کیا ہے؟ سائنسدانوں کی جدید ترین تحقیق میں ناقابل یقین انکشافات

  بدھ‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2019  |  14:12

زمین کے نیچے کیا ہے، سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کی اور ناقابل یقین انکشافات سامنے آ ئے، ایک رپورٹ مطابق بڑے زلزلوں کی مدد سے سائنسدانوں نے زمین کے نیچے 410 میل کی گہرائی میں تحقیق کی جس سے انہیں معلوم ہوا کہ ہمارے قدموں کے نیچے ماؤنٹ ایورسٹ جیسے بلند وبالا پہاڑ دفن ہیں، ایسی چوٹیاں ہیں جن سے ہم واقف ہی نہیں ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ

زمین کے نیچے تحقیقات کا Seismic Waves کے سوا کوئی اور ذریعہ نہیں ہے۔ زلزلوں کی ان لہروں کی مدد سے ہی وہ یہ جان

سکتے ہیں کہ زمین کی گہرائی میں کیا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ چاند پر تو راکٹ جا سکتا ہے مریخ پر بھی جا سکتا ہے لیکن زیرزمین کیا ہو رہاہے یہ جاننا راکٹ کے لیے ناممکن ہے، سائنسدانوں کو زیر زمین جاننے کے لیے ایک بڑے زلزلے کی تلاش تھی ایک ایسے زلزلے کی جس نے زمین کی انتہائی گہرائی میں بھی بھونچال پیدا کیا ہو اور اسی سے معلوم ہو سکتا تھا کہ زیر زمین کیا ہو رہا ہے، کس قسم کے کیمیائی عمل جاری ہیں، نیچے کا حصہ ٹھوس ہے یا نہیں، رپورٹ کے مطابق 1994ء میں بولیویا میں آنے والے تباہ کن زلزلہ جس کی شدت ریکٹر سکیل پر 8.2 تھی، اس زلزلے نے بولیویا کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، اس زلزلے کے بعد سائنسدانوں نے زلزلے کے اس مرکز پر تحقیق کے لیے سپر کمپیوٹرز کا ایک سسٹم استعمال کرتے ہوئے سیسمک لہروں کی مدد سے زیر زمین ساخت معلوم کی۔ رپورٹ کے مطابق

اس سے خارج ہونے والی بے پناہ توانائی نے زمین کے انتہائی اندرونی حصوں کے بارے میں سائنسدانوں کو حیران کرکے رکھ دیا۔ سائنسدانوں کو پتہ چلا کہ زیر زمیں ایک خاص حد تک جانے کے بعد پہاڑوں کی طرح سخت، پتھریلی اور ٹھوس ہے۔ زیر زمیں ماؤنٹ ایورسٹ جیسے پہاڑ موجود ہیں، نئی تحقیق کے مطابق زمین کا 84 فیصد حصہ کرسٹ سے کروس تک سیلیکیٹ راک پر مشتمل ہے جبکہ سطح زمین سے 410 میل کی گہرائی پر نئی چوٹیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ مینٹل اپر بالائی اور زیریں سطحوں پر مشتمل ہے، یعنی نیچے بالکل نئی زمین شروع ہوتی ہے۔ وہاں جا کر مزید ٹھوس اور سخت چٹان جیسی چیز ملتی ہے، اس حوالے سے سائنسدانوں کی تحقیق کا عمل ابھی مزید جاری ہے۔