بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


وہ اپنی بیٹی کے پیرنٹس ڈے پر کیوں نہیں گیا؟

  بدھ‬‮ 15 مئی‬‮‬‮ 2019  |  18:23

ایک دن میں صبح سویرے اٹھ گیا دیکھا تو ہفتے کا دن تھا۔ میں نے سوچا شکر ہے آج آفس سے چھٹی ہے اور میں نے ایک ہاتھ میں کافی اٹھائی اور دوسرے میں اخبار اور جا کر بالکنی پر بیٹھ گیا۔ میں نے ساتھ پڑا ریڈیو آن کر دیا۔ اس پر ایک بہت پرانا اور زبردست اینکر ایک پروگرام کر رہا تھا، اس نے بولا: ایک ہزار بنٹے۔۔آج کے پروگرام کا نام ہے ایک ہزار بنٹے۔مجھے ابھی ٹام کی بیٹی کی کال آئی ہے اور اس نے بولا ہے کہ

وہ ٹام سے بہت ناراض ہے

کیونکہ وہ اپنی بیٹی کے پیرنٹس ڈے پر نہیں گیا تھا۔ ٹام آپ کی جاب بہت مشکل ہے اور آپ ہفتے میںکوئی ساٹھ سے ستر گھنٹے کام کرتے ہیں۔ آپ کے لیے ہی ہمارا آج کا سپیشل پروگرام ہے۔ میں ایک بہت نامور اینکر ہوں اور آپ سب بخوبی جانتے ہیں تبھی میرا پروگرام سن رہے ہیں۔ میں نے ساری زندگی بہت انتھک مصروفیت میں گزاری ہے لیکن مجھے یاد ہے کہ جب میں پچپن سال کا ہوا تو میں نے ایک دن کیلکولیٹر اٹھایا اور اس پرآج کل کے انسان کی ساری زندگی کے سیٹرڈیز کاؤنٹ کرنے لگ گیا۔ کسی انسان کی اوسط عمر کیا ہوگی، پچھتر اور اس میں کتنے ٹوٹل سیٹر دیز آئیں گے، میں نے پچھتر کو بیاسی سے ضرب دے دی اور اس طرح بنا تین ہزار نو سو۔ اب میں اس وقت پچپن سال کا تھا اور میں ان میں سے دو ہزار نو سو سیٹر ڈیز گزار چکا تھا اور

اب میرے پاس ٹوٹل ایک ہزار سیٹرڈیز باقی بچے تھے۔ میں ایک کھلونوں کی دکان پر گیا اور ادھر سے ایک ہزار بنٹے خرید کر لے آیا اور ہر ہفتے کے دن میں ایک ایک کر کے ان میں سے بنٹا پھینکتا جاتا تھا۔ جب بھی میں یہ دیکھتا ہوں کہ کتنے کم دن رہ گئے ہیں تو اپنی جان سے پیاری بیوی کو کھانے یا ناشتے پر لے جاتا ہوں، یا اپنے بچوں کو تحفے تحائف لے کر دیتا ہوں۔ ٹام میرا خیال ہے کہ آپ بہت محنتی ہو اور اس کے لیے میں آپ کو داد دیتا ہوں مگر شاید اپنی بیٹی کے لیے آپ کو بھی یہ بنٹے خرید کر اپنے ورک ٹیبل پر سامنے رکھنے چاہیے ہیں۔ میں نے ریڈیو کا یہ پروگرام سنا اور میں فٹا فٹ اٹھا اور بجائے جم کا رخ کرنے کے جا کر اپنی بیوی کو جگا یا کہ بچوں کو تیار کرو آج پکنک ڈے ہے۔ میں نے دل میں تہیہ کیا کہ راستے میں جو بھی کھلونوں کی دکان نظر آئی

میں بھی اس سے جا کر وہی ہزار بنٹے خرید کر لے آؤں گا۔ مانا کہ میرا ہر دن بہت بزی گزرتا تھا اور ہر روز کام کے بعد ایک ویک اینڈ پر چھٹیاں ملتی تھیں لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں تھا کہ میری بیوی اور بچے اس کے لیے سفر کرتے۔اپنے بچوں کے سکول کے پروگرامز ضرور اٹینڈ کیا کریں بچوں کی نشو نما پر زمین آسمان کا فرق پڑتا ہے، کبھی کبھی ایسے ہوتا ہے کہ ہم کسی بہت وجیہہ اور پر کشش انسان کو دیکھتے ہیں لیکن وہ بالکل بجھا ہوا ہوتا ہے اور کسی موٹے فربہ بھدے سے انسان کو بہت پر جوش خوش اور ولولہ انگیز پاتے ہیں،

 جس بچے کو بچپن سے کانفیڈنس دیا جاتا ہے، وہ اندھوں میں کانار اجہ ہو کر بھی اپنے آپ کو خوش اور پر محسوس کرتا ہے اور جو بظاہر ہمیں اتنے خوبصورت دکھائی دیتے ہیں، وہ بجھے ہوئے اس لیے ہوتے ہیں کہ انہیں اس بات کا کوئی اندازہ نہیں ہوتا کہ باقی لوگوں کو وہ جاذب نظر نظر آرہے ہیں، کیونکہ ان کے اندر کوئی خلاء رہ گیا ہوتا ہے جو ماں باپ کے بچپن کے پیار سے ہی پر ہوسکتا تھا۔ انسان اور مشین میں صرف ایک فرق ہے، مشین کو توڑنا جوڑنا بہت آسان ہوتا ہے، کوئی وقت نہیں لگتا۔ لیکن کسی بچے کو احساس کمتری میں ڈالنا اور پھر یہ سمجھنا کہ وہ ٹھیک ہو جائے گا بہت بڑا ظلم ہے کیونکہ انسانوں کے زخم زندگی بھر دکھتے رہتے ہیں۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎