Taraqi for web

تین لکیریں

  منگل‬‮ 10 اکتوبر‬‮ 2017  |  19:54

میں اداسی میں اکثر کسی جھیل‘ کسی آبشار یا کسی جنگل میں جا بیٹھتا ہوں اور میں اس وقت تک وہاں بیٹھا رہتا ہوں جب تک میرا دل ہلکا نہیں ہو جاتا‘ میں 2011ءمیں بھی اسی قسم کی صورتحال کا شکار تھا‘ میرا دل بھاری تھا‘ میں شدید ڈپریشن کا شکار تھا‘ میں سوئٹزر لینڈ کے ایک غیر معروف گاﺅں میں تھا‘ میں نے وہاں ایک قبر پر سرخ گلابوں کا گل دستہ رکھا‘ فاتحہ پڑھی اور قبرستان کی سیڑھیاں اترتے اترتے نیچے جھیل تک چلا گیا۔ دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑ سوئٹزر لینڈ میں ہیں‘ یہ پہاڑی ملک ہے‘ آپ کسی شہر‘ کسی قصبے یا کسی گاﺅں میں چلے جائیں پہلے آپ کی ملاقات پہاڑ سے ہو گی پھر آپ کسی نہ کسی جھیل سے ملیں گے اور آپ آخر میں گاﺅں یا قصبے میں داخل ہو جائیں

داخل ہو جائیں گے‘ میں بھی ایک ایسے ہی گاﺅں میں تھا‘ وہ گاﺅں پہاڑ کی اترائیوں پر آباد تھا‘ میں نے دنیا میں اس گاﺅں کے قبرستان سے زیادہ خوبصورت قبرستان نہیں دیکھا‘ میراایک عزیز دوست اس قبرستان میں دفن ہے‘ میں 2011ءسے وہاں جارہا ہوں‘میں قبر پر پھول چڑھاتا ہوں اور قبرستان سے اترتا ہوا جھیل تک چلا جاتا ہوں‘ گاﺅں کے نیچے سوئٹزر لینڈ کی تیسری بڑی جھیل ہے‘ یہ جھیل‘ جھیل کم اور سمندر زیادہ دکھائی دیتی ہے‘

جھیل میں بحری جہاز چلتے ہیں‘ میرا دل اس دن بہت اداس تھا‘ میں سیڑھیاں اترتے اترتے جھیل کے کنارے پہنچ گیا اور وہاں آہستہ آہستہ واک کرنے لگا‘مجھے ٹینشن‘ ڈپریشن اور اداسی میں پانی کے ساتھ آہستہ واک ہمیشہ سوٹ کرتی ہے‘ میں واک کرتے کرتے جھیل کے آخری سرے تک پہنچ گیا‘ جھیل کے آخر میں تین قلعہ نما گھر تھے‘ وہ گھر چٹان پر بنے ہوئے تھے‘ پتھر کی سیڑھیاں پانی تک آتی تھیں‘ سیڑھیوں کے آخر میں چھوٹی چھوٹی تین گودیاں تھیں اور ان گودیوں میں نیلے اور سفید رنگ کی تین موٹر بوٹس کھڑی تھیں‘ گھروں کے پیچھے سرسبز پہاڑ تھا‘ گھر کا پچھلا راستہ پہاڑ کی طرف کھلتا تھا‘ وہ راستہ آگے چل کر واکنگ ٹریک بن جاتا تھا‘

گھروں کو سرخ‘ پنک اور سفید بوگن بیل کے لاکھوں پھولوں نے ڈھانپ رکھا تھا‘ سبز پہاڑ‘ سبز پہاڑ کے قدموں میں تین قلعہ نما گھر اور گھروں کے قدموں میں جھیل‘ میں وہ منظر دیکھ کر رک گیا‘ وہ منظر‘ منظر نہیں تھا وہ کیلنڈر کی خوبصورت تصویر تھا‘ شام کے رنگ گہرے ہو رہے تھے‘ جنگلی پرندے اور سفید بگلے ان گہرے ہوتے رنگوں میں آب حیات گھول رہے تھے‘ میں گھروں کے قدموں میں پتھر کے بینچ پر بیٹھ گیا‘ مجھے محسوس ہوا دنیا کے تمام مناظر روزاس منظر کا طواف کرنے یہاں آتے ہوں گے‘ وہ یہاں ماتھا ٹیک کر آگے جاتے ہوں گے‘ میں بڑی دیر وہاں بیٹھا رہا‘ میں محویت میں کبھی پہاڑوں کی طرف دیکھتا تھا‘ کبھی جھیل میں گم ہو جاتا تھا اور کبھی سرخ‘ پنک اور سفید پھولوں میں چھپے مکانوں کو دیکھنے لگتا‘ سکوت کے اس عالم میں اچانک ایک آواز گونجی ”آپ کافی میں چینی لیتے ہیں“ آواز مردانہ تھی‘ لہجہ ہندوستانی تھا اور الفاظ اردو کے تھے‘میں نے گھبرا کر پیچھے دیکھا‘ مکان کی کھڑکی میں ایک بوڑھا ہندوستانی کھڑا تھا‘ وہ مسکرا کر میری طرف دیکھ رہا تھا‘ چہرے پر اپنائیت تھی‘ میں نے اونچی آواز میں جواب دیا ”میں چینی نہیں لیتا“ اس نے قہقہہ لگایا‘پھر”سیم پرابلم“ کا نعرہ لگایا اور غائب ہو گیا‘ میں نے تھوڑی دیر بعد اسے سیڑھیاں اترتے دیکھا‘ اس کے دونوں ہاتھوں میں کافی کے مگ تھے‘ وہ سیڑھیاں اتر کر میرے پاس پہنچا‘ مگ بینچ پر رکھے اور اپنا ہاتھ میری طرف بڑھا دیا ”مائی نیم از موہن“ میں نے بھی اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھا دیا‘ موہن کا ہاتھ بہت نرم تھا‘ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے میں نے کسی مچھلی سے ہاتھ ملا لیا ہے‘ وہ میرے ساتھ بینچ پر بیٹھ گیا۔

وہ بھارت کے شہر چنائی کا رہنے والا تھا‘ بزنس مین تھا‘ تین میں سے ایک مکان اس کی ملکیت تھا‘ وہ ہر دو ماہ بعد ایک ہفتے کےلئے وہاں آتا تھا‘ کشتی رانی کرتا تھا‘ پہاڑ پر ٹریکنگ کرتا تھا اور کتابیں پڑھتا تھا‘ وہ غالب کا فین تھا‘ اسے غالب کے درجنوں شعر یاد تھے‘ وہ مجھے شروع میں ہندوستانی سمجھا‘ پھر اس نے اندازہ لگایا ہندوستان کا کوئی شہری دو گھنٹے ٹک کر نہیں بیٹھ سکتا۔ ”تم ہو نہ ہو ‘تم پاکستانی ہو‘ میں نے سوچا‘ میں نے کافی بنائی‘ چینی کا پوچھا اور کافی لے کرتمہارے پاس آ گیا“ ہم سورج ڈوبنے تک گپیں مارتے رہے‘ وہ مجھے اس کے بعد گھر کے اندر لے گیا‘ وہ گھر اندر سے بہت خوبصورت تھا‘ لکڑی کی اونچی چھتیں‘ پرانا وکٹورین فرنیچر‘ دو دو ٹن بھاری بیڈ اور پتھر کی پرانی فائر پلیسز‘ وہ گھر نہیں محل تھا‘ موہن نے بتایا‘ یہ گھر ڈیڑھ سو سال پرانا ہے اور یہ اس نے دو سال پہلے دس ملین ڈالر میں خریدا تھا ”مجھے یہاں بہت شانتی ملتی ہے“ اس نے بڑے فخر سے کہا‘ میں نے جواب دیا ”آپ کو اگر شانتی نہ ملتی تو آپ دس ملین ڈالر کیوں خرچ کرتے“ اس نے قہقہہ لگا کر سر ہاں میں ہلا دیا‘ میں نے اس سے پوچھا ”آپ نے بزنس کب شروع کیا تھا“ اس نے قہقہہ لگایا اور بولا ”میں اس وقت پندرہ سال کا لڑکا تھا“ میں غور سے موہن کی طرف دیکھنے لگا‘ موہن نے اس کے بعد بڑی دلچسپ داستان سنائی۔

وہ جھونپڑ پٹی سے تعلق رکھتا تھا‘ باپ شراب پی پی کر مر گیا‘ ماں نے اسے دوسروں کے گھروں میں برتن اور کپڑے دھو کر پالا‘ وہ پندرہ سال کا تھا تو اس نے چائے کا چھوٹا سا کھوکھا بنا لیا‘ وہ کھوکھے کا مالک بھی تھا‘ کک بھی اور ویٹر بھی‘ وہ روز سو ڈیڑھ سو روپے کمالیتا تھا‘ گھر میں خوش حالی آ گئی مگر وہ مزید ترقی کرنا چاہتا تھا‘ چنائی یونیورسٹی کا ایک پروفیسر صبح کے وقت اس کے کھوکھے سے چائے پیتا تھا‘ وہ بچے کی محنت پر خوش تھا‘ وہ اسے روز کوئی نہ کوئی نئی بات سکھاتا تھا‘ موہن نے ایک دن پروفیسر سے پوچھا ”ماسٹر کیا میں بھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں“ پروفیسر نے قہقہہ لگا کر جواب دیا ”دنیا کا ہر شخص بڑا آدمی بن سکتا ہے“ موہن کا اگلا سوال تھا ”کیسے؟“ پروفیسر نے اپنے بیگ سے چاک نکالا‘ موہن کے کھوکھے کے پاس پہنچا‘ دائیں سے بائیں تین لکیریں لگائیں‘ پہلی لکیر پر محنت‘ محنت اور محنت لکھا‘ دوسری لکیر پر ایمانداری‘ ایمانداری اور ایمانداری لکھا اور تیسری لکیر پر صرف ایک لفظ ہنر (سکل) لکھا۔ موہن پروفیسر کو چپ چاپ دیکھتا رہا‘ پروفیسر یہ لکھنے کے بعد موہن کی طرف مڑا اور بولا ”ترقی کے تین زینے ہوتے ہیں‘ پہلا زینہ محنت ہے‘ آپ جو بھی ہیں‘ آپ اگر صبح‘ دوپہر اور شام تین اوقات میں محنت کر سکتے ہیں تو آپ تیس فیصد کامیاب ہو جائیں گے‘ آپ کوئی سا بھی کام شروع کر دیں آپ کی دکان‘ فیکٹری‘ دفتر یا کھوکھا صبح سب سے پہلے کھلنا چاہیے اور رات کو آخر میں بند ہونا چاہیے‘ آپ کامیاب ہو جائیں گے“پروفیسر نے کہا” ہمارے گرد موجود نوے فیصد لوگ سست ہیں‘ یہ محنت نہیں کرتے‘ آپ جوں ہی محنت کرتے ہیں آپ نوے فیصدسست لوگوں کی فہرست سے نکل کر دس فیصد محنتی لوگوں میں آ جاتے ہیں‘ آپ ترقی کےلئے اہل لوگوں میں شمار ہونے لگتے ہیں‘ اگلا مرحلہ ایمانداری ہوتی ہے‘ ایمانداری چار عادتوں کا پیکج ہے‘ وعدے کی پابندی‘ جھوٹ سے نفرت‘ زبان پر قائم رہنا اوراپنی غلطی کا اعتراف کرنا‘

آپ محنت کے بعد ایمانداری کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لو‘ وعدہ کرو تو پورا کرو‘ جھوٹ کسی قیمت پر نہ بولو‘ زبان سے اگر ایک بار بات نکل جائے تو آپ اس پر ہمیشہ قائم رہو اور ہمیشہ اپنی غلطی‘ کوتاہی اور خامی کا آگے بڑھ کر اعتراف کرو‘تم ایماندار ہو جاﺅ گے اور کاروبار میں اس ایمانداری کی شرح 50 فیصد ہوتی ہے‘ آپ پہلا تیس فیصد محنت سے حاصل کرتے ہیں‘ آپ کو دوسرا پچاس فیصد ایمانداری دیتی ہے اور پیچھے رہ گیا 20فیصد تو یہ 20 فیصد ہنر ہوتا ہے‘ آپ کا پروفیشنل ازم‘ آپ کی سکل اور آپ کا ہنر آپ کو باقی 20 فیصد بھی دے دے گا‘ آپ سو فیصد کامیاب ہو جاﺅ گے“ پروفیسر نے موہن کو بتایا ”لیکن یہ یاد رکھو ہنر‘ پروفیشنل ازم اور سکل کی شرح صرف 20 فیصد ہے اور یہ 20 فیصد بھی آخر میں آتا ہے‘ آپ کے پاس اگر ہنر کی کمی ہے تو بھی آپ محنت اور ایمانداری سے 80 فیصد کامیاب ہو سکتے ہیں لیکن یہ نہیں ہو سکتا آپ بے ایمان اور سست ہوں اور آپ صرف ہنر کے زور پر کامیاب ہو جائیں‘ آپ کو محنت ہی سے سٹارٹ لینا ہو گا‘ آپ کو ایمانداری کو اپنا اوڑھنا اور بچھونا بنانا ہو گا اور آپ کو آخر میں خود کو ہنر مند ثابت کرنا ہوگا“ پروفیسر نے موہن کو بتایا‘ میں نے دنیا کے بے شمار ہنر مندوں اور فنکاروں کو بھوکے مرتے دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ بے ایمان بھی تھے اور سست بھی اور میں نے دنیا کے بے شمار بے ہنروں کو ذاتی جہاز اڑاتے دیکھا‘ کیوں؟ کیونکہ وہ ایماندار اور محنتی تھے ‘ پروفیسر نے اپنا چاک بیگ میں رکھا‘ موہن کی ناک چھوئی اور بولا ”تم ان تین لکیروں پر چلنا شروع کر دو‘ تم آکاش تک پہنچ جاﺅ گے“ موہن نے لمبا سانس لیا اور بولا ”میں نے چاک سے بنی ان تین لکیروں کو اپنا مذہب بنا لیااور میں 45 سال کی عمر میں ارب پتی ہو گیا“ موہن نے بتایا‘کھوکھے کی وہ دیوار اور اس دیوار کی وہ تین لکیریں آج بھی میرے دفتر میں میری کرسی کے پیچھے لگی ہیں‘ میں دن میں بیسیوں مرتبہ وہ لکیریں دیکھتا ہوں اورپرو فیسر کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں“۔

موہن خاموش ہو گیا‘ سورج نے جھیل میں ڈبکی لگا دی‘ شام رات میں تبدیل ہونے لگی‘ موہن کے گھر سے شام کا منظر بہت خوبصورت تھا‘ گھر کی ساری کھڑکیاں پینٹنگ بن چکی تھیں اور ہر پینٹنگ منہ کھول کر سانس لے رہی تھی‘موہن کی کامیابی کی تین لکیروں کی طرح۔ زیروپوائنٹ/جاوید چودھری

یہ انیس کروڑ نوے لاکھ ڈالر کا چیک تھا‘ چیک میز پر پڑا تھا‘ اس نے چیک اٹھایا‘ غور سے دیکھا‘ مسکرایا‘ چوما اور دوبارہ میز پر رکھ دیا‘ یہ چیک محض چیک نہیں تھا‘ یہ بہت بڑا اعزاز تھا‘ کاغذ کے اس ٹکڑے نے اسے چند منٹوں میں پوری دنیا میں مشہور کر دیا تھا‘ وہ ایک ہی جست میں گم نامی کے اندھیرے سے شہرت کی چکا چوند میں پہنچ گیا‘ وہ دنیا بھر کے میڈیا کی بریکنگ نیوز بن گیا‘ وہ کاغذ کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے ذریعے دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا چیف ایگزیکٹو آفیسر بن چکا تھا اور یہ تامل ناڈو کے شہر مدورائی کے اس غریب بچے کےلئے بہت بڑا اعزاز تھا جس نے غربت میں آنکھ کھولی‘ والد رگوناتھ پچائی الیکٹریکل انجینئر تھا لیکن خاندان کی آمدنی بہت محدود تھی‘ گھر دو کمروں کا فلیٹ تھا‘ اس فلیٹ میں اس کا ٹھکانہ ڈرائنگ روم کا فرش تھا‘ وہ فرش پر چٹائی بچھا کر بیٹھ جاتا تھا‘ وہ پڑھتے پڑھتے تھک جاتا تھا تو وہ سرہانے سے ٹیک لگا کر فرش پر ہی سو جاتا تھا‘ ماں کے ساتھ مارکیٹ سے سودا لانا‘ گلی کے نلکے سے پانی بھرنا‘ تار سے سوکھے کپڑے اتارنا اور گلی میں کرکٹ کھیلنے والے بچوں کو بھگانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ گھر کی مرغیوں اور ان کے انڈوں کو دشمن کی نظروں سے بچانا بھی اس کی ڈیوٹی تھی اور شہر بھر میں کون سی چیز کس جگہ سے سستی ملتی ہے‘ یہ تلاش بھی اس کا فرض تھا اور باپ اور ماں دونوں کی جھڑکیاں کھانا بھی اس کی ذمہ داری تھی‘ وہ بارہ سال کا تھا جب ان کے گھر ٹیلی فون لگا‘ اس فون نے اس کا کام بڑھا دیا‘ وہ فلیٹس کے اس پورے بلاک کا پیغام بر بن گیا‘ لوگ اس کے گھر فون کر کے بلاک کے دوسرے فلیٹس کےلئے پیغام چھوڑتے تھے اور وہ یہ پیغام پہنچانے کےلئے اٹھ کر دوڑ پڑتا تھا‘ وہ جوانی تک ٹیلی ویژن اور گاڑی کی نعمت سے بھی محروم رہا‘ اس کا والد پوری زندگی کار نہیں خرید سکا لیکن آج وہ نہ صرف دنیا کی سب سے بڑی آرگنائزیشن گوگل کا سی ای او تھا بلکہ وہ دنیا میں سب سے زیادہ تنخواہ لینے والا ملازم بھی تھا‘ اس کی سالانہ تنخواہ 20 کروڑ ڈالر طے ہو چکی تھی۔

دنیا کی سب سے بڑی تنخواہ کا پہلا چیک اس کے سامنے پڑا تھا اور تامل ناڈو کا سندر راج پچائی کبھی اس چیک کو دیکھتا تھا اور کبھی اپنے اس بچپن کو یاد کرتا تھا جس میں وہ سال سال بھر دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کےلئے ترستا رہتا تھا‘ وہ بچپن‘ بچپن نہیں تھا‘ وہ محرومی کی ایک سیاہ داستان تھی‘ پچائی کو آج بھی یاد تھا جب سٹینڈ فورڈ یونیورسٹی نے اسے ہوائی ٹکٹ بھجوایا تو اس کا والد ٹکٹ دیکھ کر حیران رہ گیا‘ وہ ٹکٹ اس کے والد کی سالانہ آمدنی سے بھی مہنگا تھا‘ اسے آج تک یہ بھی یاد تھا وہ کورس کی کتابیں مانگ کر پڑھتا تھا اور اپنی اسائنمنٹس ردی کے کاغذوں پر مکمل کرتا تھا‘ وہ بسوں کے ساتھ لٹک کر سفر کرتا تھا اور اسے صرف مذہبی تہواروں پر مٹھائی نصیب ہوتی تھی‘ وہ کبھی چیک کو دیکھتا تھا اور کبھی اپنے اس وقت کو یاد کرتا تھا جب اس نے گھسٹ گھسٹ کر چنائے سے بارہویں جماعت پاس کی‘ وہ اس کے بعد انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی خراگپور چلا گیا‘ اس نے وہاں ٹیوشنز پڑھا پڑھا کر میٹالرجیکل انجینئرنگ کی ڈگری لی‘ پوزیشن اچھی تھی چنانچہ دنیا میں ٹیکنالوجی کی سب سے بڑی یونیورسٹی سٹینڈفورڈ نے اسے وظیفہ دے دیا‘ وہ امریکا چلا گیا‘ اس نے سٹینڈفورڈ یونیورسٹی سے میٹالرجیکل انجینئرنگ میں ایم ایس کیا‘ وہ انجینئرنگ سے بڑا کام کرنا چاہتا تھا‘

2004ءمیں جب گوگل میں نوکریاں نکلیں تو اس نے اپلائی کر دیا‘ گوگل نے اسے پراجیکٹ مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ میں ملازمت دے دی‘ یہ ملازمت اس کےلئے نعمت ثابت ہوئی‘ سندر راجن پچائی اس یونٹ کا حصہ تھا جس نے ”گوگل کروم“ کا منصوبہ شروع کیا‘ یہ منصوبہ 2008ءمیں مکمل ہوا اور اس کے ساتھ ہی پچائی گوگل اور امریکا دونوں میں مشہور ہو گیا‘ اس کا دماغ ذرخیز تھا چنانچہ وہ گوگل کےلئے نئے نئے منصوبے بناتا رہا‘ گوگل کا ویب براﺅزر ہو‘ اینڈروئڈ ہو یا پھر فائرفاکس‘ گوگل ٹول بار‘ ڈیسک ٹاپ سرچ اور گوگل گیئرز یہ تمام پراجیکٹ سندر راجن پچائی نے مکمل کئے‘ ان منصوبوں سے گوگل کی آمدنی میں اضافہ ہوا‘ گوگل اس وقت دنیا کی امیر ترین کمپنی ہے‘ اس کی مالیت 554 ارب ڈالر ہو چکی ہے جبکہ اس کی سالانہ آمدنی 74 بلین ڈالر ہے‘ پاکستان کے کل غیرملکی قرضے 70 بلین ڈالر ہیں‘ گویا گوگل ایک سال میں دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت کے کل قرضوں سے زیادہ رقم کماتا ہے‘ یہ کمپنی سٹینڈفورڈ یونیورسٹی کے دو طالب علموں لیری پیج اور سرجے برن نے 1996ءمیں شروع کی‘ یہ دونوں اس وقت پی ایچ ڈی کے طالب علم تھے‘ گوگل کا مقصد انٹرنیٹ پر موجود مواد کو درجوں میں تقسیم کرنا اور اسے لوگوں کےلئے آسان بنانا تھا‘ گوگل 2000ءتک دنیا کا معتبر ترین سرچ انجن بن گیا‘ یہ کمپنی دنیا بھر سے نیا ٹیلنٹ تلاش کرتی رہتی ہے‘ سندر راجن پچائی بھی اس کی دریافت تھا‘ یہ نوجوان 1972ءمیں تامل ناڈو میں پیدا ہوا‘ یہ 1993ءمیں سٹینڈفورڈ یونیورسٹی پہنچا‘ 1995-96ءمیں ایم ایس اور 2002ءمیں ایم بی اے کیا‘ یہ زندگی میں بہت کچھ کرنا چاہتا تھا اور گوگل نے اسے یہ بہت کچھ کرنے کا موقع دے دیا‘ یہ اپنے دلچسپ آئیڈیاز کے ذریعے بہت جلد کمپنی میں اپنی جگہ بنا گیا‘ یہ تیزی سے ترقی کرتے ہوئے 10 اگست 2015ءکو گوگل کا سی ای او اور لیری پیج کا نائب بن گیا‘ کمپنی نے اسے شیئر بھی دے دیئے‘ یہ اس وقت 60 کروڑ 50 لاکھ ڈالرز کے شیئرز کا مالک بھی ہے۔

گوگل نے پچائی کو فروری 2016ءکے دوسرے ہفتے 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر تنخواہ کا چیک دیا‘ پچائی یہ چیک وصول کرتے ہی دنیا کا سب سے زیادہ معاوضہ لینے والا ”سی ای او“ بن گیا‘ ہم اگر انہیں پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ دوسو کروڑ روپے بنیں گے گویا تامل ناڈو کا 43 برس کا ایک غریب جوان سالانہ دو سو کروڑ روپے تنخواہ لے رہا ہے اور غریب بھی ایسا جس نے 18 سال کی عمر تک فرش پر سو کر اور فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کی اور جو 12 سال کی عمر تک ٹیلی فون اور امریکا آنے تک ٹیلی ویژن اور گاڑی سے محروم تھا اور جس کا پورا بچپن دوسرے جوتے‘ تیسری شرٹ اور چوتھے پین کو ترستے گزرا اور جو آج بھی ہندی لہجے میں انگریزی بولتا ہے اور اپنے گندمی رنگ کی وجہ سے دور سے پہچانا جاتا ہے اور جو آج بھی سوپ پیتے وقت اپنی شرٹ خراب کر بیٹھتا ہے اور جو جوتے پالش کرنا بھول جاتا ہے اور جس کے والدین آج بھی اس کو تو کہہ کر بلاتے ہیں‘ یہ سندر راجن پچائی‘ رگوناتھ پچائی کا یہ بیٹا کبھی 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے اس چیک کو دیکھتا ہے‘ یہ کبھی مبارک باد کی لاکھوں ای میلز کو دیکھتا ہے اور پھر ان لاکھوں کروڑوں نوجوانوں کی طرف دیکھتا ہے جو آج بھی امریکا میں سوا سات ڈالر فی گھنٹہ کماتے ہیں اور جن کی مجبوریوں کو دیکھتے ہوئے امریکی حکومت نے کم ترین اجرت دس ڈالر فی گھنٹہ کرنے کا فیصلہ کیا اور جس میں سان فرانسسکو نے اعلان کیا ہم 2018ءتک کم ترین اجرت 15 ڈالر تک بڑھا کر پورے امریکا سے آگے نکل جائیں گے اور جس میں بھارت کے 45 کروڑ نوجوان آج بھی ایک لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ‘ دو کمرے کے فلیٹ‘ ایک ماروتی گاڑی اور ایک سندر بیوی کے خواب دیکھتے ہیں اور جس کے ہمسائے میں پی آئی اے کے ملازمین اور خیبر پختونخواہ کے پیرا میڈکس نجکاری کے خلاف ہڑتالیں کر رہے ہیں اور جس میں نوجوان سرکاری ملازمتوں کےلئے دھکے کھا رہے ہیں اور جس میں لوگ دس ہزار روپے کے بدلے پوری زندگی غلامی کرتے ہیں اور جس میں لوگ آج بھی کام کرنے کی بجائے گھر بیچ کر رقم ڈبل شاہ کے حوالے کر دیتے ہیں اور جس میں لوگ آج بھی دس دس لاکھ روپے دے کر ایران اور ترکی کے ذریعے یورپ پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں اور بارڈر پولیس کی گولیوں کا نشانہ بن جاتے ہیں‘

یہ سندر راجن پچائی 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے چیک کو دیکھتا ہے اور پھر ان لاکھوں لوگوں کی حماقت پر قہقہے لگاتا ہے جو سوا سات ڈالر فی گھنٹے کی اجرت کو دس ڈالر اور پھر 15 ڈالر میں تبدیل ہونے کا انتظار کر رہے ہیں اور پھر سر پر ہاتھ رکھ کر ان نوجوانوں کی بے وقوفی پر ماتم کرتا ہے جو کمپیوٹر‘ انٹر نیٹ اور گلوبل ویلج کی اس دنیا میں بے روزگار اور مواقع کی کمی کا شکوہ کرتے ہیں اور جو مہنگائی‘ بے روزگاری اور عدم توازن کا رونا روتے رہتے ہیں‘ پچائی کبھی اس چیک کی طرف دیکھتا ہے اور کبھی بھارت سے لے کر روانڈا تک پھیلی تیسری دنیا کے ماتم کرتے ان لوگوں کی طرف جو اپنی جلد‘ اپنے علاقے‘ اپنی زبان اور اپنی حکومتوں کو اپنی محرومی‘ اپنی پسماندگی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں اور کبھی ان لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو استعمال کرنے کی بجائے خوشحالی کےلئے مندروں‘ ٹمپلز‘ گوردواروں‘ جماعت خانوں‘ کلیساﺅں اور مسجدوں میں ماتھے رگڑتے ہیں اور یہ کبھی ان لوگوں کو دیکھتا ہے جو وقت کے گھڑیال کو بھلا کر قسمت کی گھنٹی بجنے کا انتظار کر رہے ہیں‘ یہ شخص‘ یہ سندر راجن پچائی ان سب لوگوں کےلئے پیغام ہے اگر آپ آج گوگل‘ فیس بک‘ ٹویٹر‘ واٹس ایپ‘ وائبر اور انسٹا گرام کے دور میں بھی غریب ہیں‘ آپ اگر آج جب دنیا کی 40 فیصد دولت انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جا چھپی ہے اور آپ اگر آج جب پوری عالمی کمپنی‘ ملٹی نیشنل فرم اور انٹرنیشنل برانڈ بنانے کےلئے ایک کمپیوٹر‘ لیب ٹاپ یا موبائل فون کافی ہے لیکن آپ اس دور میں بھی غریب‘ محروم اور دکھی ہیں تو پھر آپ اس دکھ‘ اس محرومی اور اس غربت کو ڈیزرو کرتے ہیں اور آپ کو دنیا کی کوئی طاقت اس غربت‘ اس محرومی اور اس دکھ سے نہیں نکال سکتی‘ کیوں؟ کیونکہ دنیا میں اتنا سنہرا دور پہلے کبھی آیا اور نہ ہی آئے گا‘ یہ تاریخ کا وہ سنہرا ترین دور ہے جس میں تامل ناڈو کا 43 سال کا پچائی صرف بارہ برس میں 19 کروڑ 90 لاکھ ڈالر سالانہ تنخواہ لے لیتا ہے‘ آپ اگر اس دور میں بھی غریب ہیں تو پھر آپ کبھی غربت سے نہیں نکل سکیں گے۔

یہ شخص قہقہے لگا رہا ہے اور آپ سے کہہ رہا ہے‘ دنیا کو معجزاتی دور میں داخل ہوئے 40 سال ہو چکے ہیں لیکن آپ آج بھی سرہانے کے ساتھ ٹیک لگا کر چھت پھٹنے کا انتظار کر رہے ہیں لہٰذا دنیا میں آپ سے بڑا کوئی بے وقوف نہیں۔

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎