بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


انجام

  ہفتہ‬‮ 18 مئی‬‮‬‮ 2019  |  17:15

شیخ سعدیؒ فرماتے ہیں کہ ایک شیربڑھاپے کی وجہ سے کمزور ہو گیا اور چلنے پھرنے سے معذور ہو گیا‘ بھوک سے جب برا حال ہوا تو کسی لومڑی سے مشورہ کیا‘ اس نے کہا ’’ فکر نہ کرو‘ میں اس کا بندوبست کردوں گی‘‘ یہ کہہ کر لومڑی نے پورے جنگل میں مشہور کر دیا کہ شیر بہت بیمار ہے اور بچنے کی کوئی امید نہیں ہے‘

 یہ خبر سنتے ہی جنگل کے جانور اس کی عیادت کو آنے لگے‘ شیر غار میں سر جھکائے پڑا رہتا اور عیادت کے لئے آنے والے جانوروں کا شکار

کر کے اپنی بھوک مٹاتا رہتاایک دن لومڑی شیر کا حال احوال پوچھنےکیلئے آئی اور غار کے دہانے پر کھڑی ہو گئی‘ اتفاقاًاس دن کوئی جانور نہ آیا تھا جس کی وجہ سے شیر بھوکا تھا‘

 اس نے لومڑی سے کہا ’’باہر کیوں کھڑی ہو‘ اندر آؤاور مجھے جنگل کا حال احوال سناؤ‘‘ لومڑی خطرہ بھانپ کر بولی ’’ نہیں میں اندر نہیں آ سکتی‘ میں یہاں سے باہر آنے والے جانوروں کے پنجوں کے نشان دیکھ رہی ہوں لیکن واپسی کے نہیں‘‘۔ شیخ سعدی ؒ اس حکایت سے یہ پیغام دے رہے ہیں کہ انجام پر ہمیشہ نظر رکھنے والے ہر قسم کے نقصان سے محفوظ رہتے ہیں۔


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎