Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


کیا شاہ محمود قریشی وزیر اعظم اور جہانگیر ترین نائب وزیر اعظم بننے والے ہیں؟وزیر خارجہ نے خود ہی سب کچھ بتا دیا،قصہ ہی ختم

  پیر‬‮ 20 مئی‬‮‬‮ 2019  |  10:28

پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنما اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے جہانگیر ترین کے بطور ڈیفیکٹو نائب وزیراعظم بننے کی خبروں پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئین میں اس عہدے کی کوئی گنجائش نہیں۔ایک انٹرویوکے دوران ان خبروں سے متعلق پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’آئین پاکستان کے مطابق صرف ایک وزیراعظم ہوتا ہے۔

اور وہ عمران خان صاحب ہیں۔انہوں نے عید کے بعد اپوزیشن کی طرف سے مہنگائی کے خلاف متوقع سیاسی تحریک کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ نہ توجمہوریت کے مفاد میں ہے

اور نہ ہی ملک کے۔انہوںنے کہاکہ تحریک کا جواز نہیں ہے، تحریک چلانا میں سمجھتا ہوں نہ جمہوریت کے مفاد میں ہے اور نہ پاکستان کے مفاد میں ہیں۔ اور اس تحریک کی کامیابی کا انحصار تو عوام پر ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ عوام اب بہت سمجھدار ہیں۔انہوں نے کہاکہ مہنگائی سے کون تنگ نہیں ہے، مہنگائی سے تو ہر انسان تنگ ہو گا، جب بھی مہنگائی ہو گی، ہم سب تنگ ہونگے لیکن سوال یہ ہے کہ سڑکوں پر آنے سے مہنگائی چلی جائے گی۔ انہوںنے کہاکہ عوام کو سوچنا یہ ہے کہ جو وہ کہہ رہے ہیں،یہاں تک نوبت پہنچی کیوں، کن کی وجہ سے نوبت پہنچی اور پھر اگر سڑک پر آنے سے مہنگائی ختم ہو جاتی ہے تو کل میں بھی نکل آتا ہوں۔ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنے آپ کو عمران خان کے متبادل کے طور پر پیش نہیں کرتے اوران (عمران خان) کی موجودگی میں خود کو ان کا متبادل کے طور پر پیش کرنے کی ضرورت بھی نہیں ۔