بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


پاکستانی شہری نے دعوت ولیمہ دینے کا ایسا منفرد طریقہ ڈھونڈ نکالا

  منگل‬‮ 21 مئی‬‮‬‮ 2019  |  17:06

آج کل شادی کی تقریبات میں جتنا اہتمام کیا جائے اتنا ہی کم ہے لیکن نوشہرہ میں ہونے والی ایک شادی کی تقریب میں سادگی کی اعلیٰ مثال دیکھنے میں آئی جہاں ولیمے کی تقریب میں کسی کو مدعو نہیں کیا گیا بلکہ کھانا ڈبوں میں پیک کر کے گھر گھر بھجوادیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق نوشہرہ میں شہری نے دعوت ولیمہ کا کھانا پورے گاؤں میں گھر گھر تقسیم کرنے کی نئی روایت کا آغاز کر دیا، حاجی ناہید نے اپنے بیٹے کے ولیمہ کی تقریب میں پورے گاؤں میں سے کسی کو دعوت نہیں دی۔

right;"> بلکہ اپنے گھر میں اپنے بیٹے کےولیمے کا کھانا پکا کر پارسل ڈبوں میں بند کر کے اپنے رشتہ داروں کی مدد سے خدریزی گاؤں کے گھر گھر پہنچایا ، اہل علاقہ اپنے گھروں میں دعوت کا کھانا کھا کر خوشی سے نہال ہو گئے۔ حاجی ناہید کا کہنا تھا کہ آج کل شادیوں کا موسم ہے، ہر گاؤں میں ہر اتوار کو چار سے پانچ شادیاں ہو رہی ہیں۔ کسی کے پاس جانے کا وقت نہیں ہوتا ، اور دوسری جانب اگر کھانا کھانے کے لیے کوئی آ بھی جائے تو سارا کھانا چھوڑ دیتے ہیں، اس کا حل میں میں نے کچھ اس طرح نکالا کہ میں نے پارسل ڈبے منگوائے اور پورے گاؤں کے افراد کی ایک فہرست مرتب کی اور

رکشوں میں ڈبے رکھ کر گاؤں کے ہر گھر کھانے کا ڈبہ پہنچایا۔ حاجی ناہید کے اہل خانہ، رشتہ داروں اور دوست احباب نے شادی اور کھانے کو ضائع ہونے سے بچانے کے لیے حاجی ناہید کی اس روایت کی خوب تعریف کی اور کہا کہ ایسے کھانا ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ عموماً لوگ شادیوں میں شریک ہو کر کھانے سے اپنی پلیٹیں تو بھر لیتے ہیں لیکن ان سے کھایا نہیں جاتا اور یوں کافی تعداد میں کھانا ضائع ہو جاتا ہے البتہ حاجی ناہید کی جانب سے متعارف کروائی گئی یہ نئی روایت قابل عمل ہے جس کے ذریعے نہ صرف کھانا ضائع ہونے سے بچایا جا سکتا ہے بلکہ لوگوں کو شادی میں شرکت بھی نہیں کرنا پڑتی اور کھانا ان کے گھروں میں پہنچ جاتا ہے


loading...

دن کی زیادہ پڑھی گئیں پوسٹس‎