Android AppiOS App

بہترین زندگی کے راز, اسپیشل نفسیاتی مسائل کا حل , اپنی صحت بہتربنائیں, اسلام اورہم, ترقی کےراز, عملی زندگی کےمسائل اورحل, تاریخ سےسیکھیئے, سماجی وخاندانی مسائل, ازدواجی زندگی بہتربنائیں , گھریلومسائل, روزمرہ زندگی کےمسائل, گھریلوٹوٹکے اسلامی واقعات, کریئر, کونساپیشہ منتخب کریں, نوجوانوں کے مسائل , بچوں کی اچھی تربیت, بچوں کے مسائل , معلومات میں اضافہ , ہمارا پاکستان, سیاسی سمجھ بوجھ, کالم , طنز و مزاح, دلچسپ سائینسی معلومات, کاروبار کیسے کریں ملازمت میں ترقی کریں, غذا سے علاج, زندگی کےمسائل کا حل قرآن سے, بہترین اردو ادب, سیاحت و تفریح, ستاروں کی چال , خواتین کے لیے , مرد حضرات کے لیے, بچوں کی کہانیاں, آپ بیتی , فلمی دنیا, کھیل ہی کھیل , ہمارا معاشرہ اور اس کی اصلاح, سماجی معلومات, حیرت انگیز , مزاحیہ


جانتے ہیں ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ اس تاریخی تصویرمیں موجودلڑکا کون ہے؟

  بدھ‬‮ 22 مئی‬‮‬‮ 2019  |  16:49

شہید ذوالفقار علی بھٹو ایک عوامی لیڈر تھے، آپ کے انداز سیاست ایک عوامی اور انقلابی لیڈر جیسا تھا ، یہی وجہ ہے کہ پاکستان کے عوام نے ان کی شہادت کے بعد ان کی بیٹی شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو ان کا سیاسی جانشین بنا کر ان کے ساتھ رخت سفر باندھا، محترمہ بینظیر بھٹو شہید بھی اپنے والد کی طرح عوامی انداز سیاست کو پسند کرتی تھیں

اور ان کی عوام میں مقبولیت کی بھی یہی وجہ تھی، شہید ذوالفقار علی بھٹو عوام میں گھل مل جاتے ، آپ پاکستان کے عوام کو طاقت اور

اقتدار کا سرچشمہ سمجھتے تھے، شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پاکستانی عوامی سے محبت اور عوامی انداز کا ایک ثبوت یہ تصویر بھی ہے جس میں وہ ایک شخص جو ان کے استقبال کیلئے ننگے پائوں آیا تھا کے ساتھ اپنے جوتے اتار کر ننگے پائوں چل رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی یہ تصویر ایک تاریخی تصویر ہے۔2008میں محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے استقبال کیلئے کراچی ائیرپورٹ ننگے پائوں آنے والے ایک بوڑھے شخص نے وہاں موجود صحافیوں کو یہ تصویر دکھاتے ہوئے بتایا تھا

کہ میں آج اس واقعہ کو دہرانا چاہتا ہوں جب میں ایک لڑکا تھا اور اسی طرح شہید ذوالفقار علی بھٹو سے ملنے ننگے پائوں گیا تھا کیونکہ میرے پاس اس وقت پہننے کیلئے جوتے نہیں تھے، شہید بھٹو نے جب میری یہ حالت دیکھی تو انہوں نے مجھے اپنے گلے سے لگایا، میں نے ان کی آنکھوں میں بغور دیکھا تو وہ بھیگ چکی تھیں، انہوں نے مجھے کافی پیسے بھی دئیے اور جب میں واپس جانے لگا تو شہید بھٹو اپنے جوتے اتار کر خود بھی ننگے پائوں میرے ساتھ کافی دور تک چلے۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کی یہ تصویر اپنی جگہ ان کی پاکستانی عوام سے محبت اور اس انداز سیاست کی یاد دلاتی ہے جس کی بدولت اپنی شہادت کے کئی برس گزر جانے کے باوجود وہ پاکستانی عوام کے دلوں میں زندہ ہیں، شہید ذوالفقار علی بھٹو کو دیکھنے ، ان کو سننے اور ان سے ملنے والا شاید ہی کوئی شخص اب موجود ہو، ایک نئی نسل آئی اور محترمہ بینظیر بھٹو کے ساتھ چلی اور پھر وہ نسل بھی اب بوڑھاپے کو پہنچنے والی ہے جبکہ شہید ذوالفقار علی بھٹو کاکرزما آج بھی موجود ہے اور یہی وجہ ہے کہ سندھ میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی بنائی پیپلزپارٹی

 جس کو تناور درخت بنانے میں ان کی بیٹی محترمہ بینظیر بھٹو کا خون بھی شامل ہے آج سندھ میں اقتدار میں ہےمگر افسوس سندھ کے عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بینظیر بھٹو کے نام پر ووٹ دینے کے باوجود بھی اپنے حالات کو بدل نہیں سکے، پیپلزپارٹی کے بانی شہید ذوالفقار علی بھٹو کے دئیے پاکستان کے مقبول ترین نعرے روٹی ، کپڑا اور مکان جیسا منشور رکھنے والی پیپلزپارٹی سندھ کے عوام کی تقدیر بدلنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ گزشتہ روز سندھ کے علاقے گھوٹکی سے موصول ہونے والی خبر نے اس اندازے کو تقویت دی ہے جہاں ایک باپ نے قرض کے بدلے اپنی 10سالہ بیٹی 30سالہ شخص سے بیاہ دی۔ بھٹو خاندان سے تعلق رکھنے والا عطا محمد بھٹو قرض کی رقم ادا نہ کر سکا اور اپنی کم سن بیٹی کو قرض کے بدلے اس کی عمر سے 20سال بڑے شخص سے بیاہنے پر مجبور ہو گیا۔ اس طرح کے کئی واقعات ہیں جو آئے روز سندھ میں رونما ہو رہے ہیں جہاں عوام کا معیار زندگی بہتر ہونے کے بجائے ابتر ہوتا جا رہا ہے۔